• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مالیگاؤں: ۲۹؍ پلاسٹک کارخانے بندکرنے کا حکم

Updated: September 22, 2026, 1:06 PM IST | Mukhtar Adeel | Malegaon

پرانت آفس سے جاری حکم نامے میں انہیں غیرقانونی قرار دیا گیا، کہا گیا کہ فضائی آلودگی میں اضافے کو روکنے کیلئے یہ کارروائی کی جارہی ہے۔۵۴؍میں ۲۹؍کارخانے بناء منظوری کے چل رہے تھے۔

An AI-generated image showing female workers sorting plastic and waste in a factory, with air pollution visible in the background. Image: INN
اے آئی سے بنی تصویر میں ایک کارخانے میں پلاسٹک اور کچرا چھاٹنتے ہوئے خواتین مزدور ۔پس منظر میں فضائی آلودگی۔ تصویر: آئی این این

فضائی آلودگی میں اضافے کو روکنے کیلئے صنعتی شہر کے مضافات میں جاری ۲۹ ؍ غیر قانونی پلاسٹک کارخانوں کو فوری طور سے بند کرنے کے احکامات پرانت آفس سے جاری کئے گئے ہیں۔ان کارخانوں سے متعلق متعدد مرتبہ شکایتیں کی گئی تھیں۔موصولہ شکایات کی ابتدائی تفتیش میں واضح ہوا کہ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کا بنیادی سبب پلاسٹک کارخانے بھی ہیں۔ ان کارخانوں میں استعمال شدہ پلاسٹک دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے کام کئے جاتے ہیں۔

یہ بھی بھی پڑھئے: ایم پی میں بچوں کی اموات پر رپورٹنگ کے دوران پولیس نے ہوٹل چھوڑنےپر مجبور کیا: کاویہ کرناٹک کا الزام

پرانت آفیسر نےکیا کہا؟

نتن سدگیر ( پرانت آفیسر،مالیگاؤں)نے بتایا کہ مالیگاؤں کے دسانے شیوار میں ۵۴؍ پلاسٹک کارخانے جاری ہیں۔ان کے مالکان کو نوٹسیں دی گئیں اور مرحلے وار سماعتوں کی کارروائیاں بھی پوری ہوئیں۔انتظامیہ نے پایا کہ ۵۴؍ میں ۲۹؍ کارخانے منظور شدہ نہیں ہیں۔ اسٹیٹ گورنمنٹ کے پولیوشن کنٹرول بورڈ سے انہیں اجازت نامے بھی نہیں۔ آلودگی کنٹرول کیلئے نافذالعمل قواعد وضوابط کی پاسداری بھی ندارد ہے۔اِس لئے ان تمام کارخانوں کو فوری طور سے بند کرنے کے احکامات دئے گئے۔ خلاف ورزی کرنے پر سخت قانونی کارروائی سرکاری انتظامیہ کی طرف سے یقینی ہے۔ سدگیر نے مزید بتایا کہ اِس معاملے میں مقامی سرکاری انتظامیہ نے ضلع انتظامیہ کے ذریعے پولیوشن کنٹرول بورڈ کو ساری رپورٹس بھیجتے ہوئے غیر قانونی پلاسٹک ری سائیکلنگ کارخانوں کی جانچ او ر دیگر کارروائیوں کی سفارش بھی کردی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایم این ایس کاایم ایم آر ڈی اے پر اقدام قتل کاکیس درج کرنے کا مطالبہ

پلاسٹک پارک بنانے کا مطالبہ 

پلاسٹک ری سائیکلنگ بزنس سے منسلک افراد نے اس معاملے میں رُکن پارلیمان ڈاکٹر شوبھا دنیش بچھاؤ سے ملاقات کی ، رکن پارلیمان نے مسئلے کا حل پیش کرتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک ری سائیکلنگ کاروباریوں کو پلاسٹک پارک بناکر دیا جائے ۔ ڈاکٹر شوبھا نے کہا کہ مختلف کاروباری طبقات کی سہولت کیلئے حکومتی سطح پر اراضی و قرضہ جات فراہمی کی جاتی ہے۔ اسی نہج پر پلاسٹک ری سائیکلنگ کاروبار سے منسلک افراد کو سرکاری سہولت مل سکتی ہے۔مہاراشٹر گورنمنٹ سے اس معاملے میں گفت وشنید شروع کردی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK