Inquilab Logo Happiest Places to Work

طلبہ کے خلاف کارروائی پر کانگریس لیڈران کی ڈی جی پی اور پولیس کمشنر سے ملاقات

Updated: July 24, 2026, 11:53 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

منشیات کے جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی دھمکی دینے والے پولیس اہلکار کو برطرف کرکے گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا، کہا :مہاراشٹر میں پولیس راج ناقابل برداشت۔

Congress leaders handing over a memorandum to Mumbai Police Commissioner Devin Bharti. Photo: INN
کانگریس کے لیڈران ممبئی کے پولیس کمشنر دیوین بھارتی کو میمورنڈم دیتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

’’طلبہ کی حمایت میں پرُامن مظاہرین پر پولیس کا وحشیانہ لاٹھی چارج اور مہاراشٹر میں پولیس راج ناقابل برداشت ہے۔ایسا لگتا ہے کہ پولیس نظم ونسق کے بجائے حکومت کے ایجنٹ کی طرح برتاؤ کررہی ہے۔‘‘ اس طرح کا اظہارِ خیال کانگریس کے لیڈران کی جانب سے کیا گیا۔اس کےساتھ ہی ان لیڈران نے پولیس کمشنر دیوین بھارتی اور ڈی جی پی سدانند داتے سے ملاقات کی اور ان کو میمورنڈم دیا ۔اس میںخاص طورپرطلبہ کو منشیات کے کیس میں پھنسانے کی دھمکی دینے والے پولیس اہلکار کو ملازمت سے برخاست کرنے اور اسے گرفتار کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیاہے۔

یہ بھی پڑھئے: ممبئی اور پنویل میں بند کا ملا جلا اثر، کہیں دکانیں کھلی رہیں ، کہیں بند

شرکائے وفد کی جانب سے اوردیئےگئے میمورنڈم کے ذریعے اعلیٰ پولیس افسران سے کہا گیا کہ  پیپر لیٖک معاملے میں برہم نوجوان انصاف کیلئے  سڑکوں پر اتر رہے ہیں لیکن پولیس کا  رویہ’شرفاءکی حفاظت اور مجرموں کی سرکوبی‘ کے الٹ نظر آ رہا ہے، خود  پولیس غنڈہ گردی پر اتر آئی ہے۔ کمسن بچوں   تک پر  بے رحمی سے لاٹھی چارج کیا جا رہا ہے اور طالبات کو بھی نہیں بخشا جا رہا ہے۔جمہوریت میں دیئے گئے پُرامن احتجاج کے شہریوں کے حق کو پولیس طاقت کے بل پر کچلنے کی کوشش کر رہی ہے، یہ سلسلہ فوراً بند ہوناچاہئے۔ مہاراشٹر میں کانگریس کسی بھی قیمت پر پولیس راج برداشت نہیں کرے گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے حکومت کے خلاف میدان میں ، ۲۶؍ جولائی کو مورچہ

اس طرح کے مطالبات مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال ، کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن عارف نسیم خان، رکن اسمبلی بھائی جگتاپ اور دیگر کانگریس لیڈروں پر مشتمل وفد کی جانب سے کئےگئے۔

ان مطالبات پر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور ممبئی پولیس کمشنر کی جانب سے وفد کو بتایا گیا کہ متعلقہ پولیس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں ، رپورٹ آنے کے بعد ضروری کارروائی کی جائے گی۔اس کے علاوہ ریاست کے تمام پولیس سپرنٹنڈنٹ کو بھی ضروری ہدایات جاری کی جائیں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK