Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’یو سی سی کے تعلق سے دیگر کمیونٹی سے رابطہ اشد ضروری ہے‘‘

Updated: August 10, 2026, 12:50 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

جماعت اسلامی کے دفتر میں اہم ملّی مسائل پر نومنتخب کمیٹی کی میٹنگ میں اراکین کے مابین تبادلہ خیال ۔ڈیٹا یکجا کرنے کو ضروری قرار دیا گیا۔

Scene from a meeting held at the Jamaat-e-Islami office. (Photo: Inquilab)
جماعت اسلامی کے دفتر میں منعقدہ میٹنگ کا منظر۔ (تصویر: انقلاب)

فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمز نے متعدد اہم مسائل ’ فریڈم آف ریلیجن قانون ، یکساں سول کوڈ (یو سی سی) اور ایف سی آر اے ‘وغیرہ کے مسئلے پر اتوار کی صبح سانکلی اسٹریٹ میں واقع جماعت اسلامی  کے دفتر میں ایک میٹنگ کا انعقاد کیا ۔ واضح ہوکہ موجودہ حالات کے پیشِ نظر ۸؍ جون کو اسلام جمخانہ میں فیڈریشن کی ایک مشاورتی نشست منعقد ہوئی تھی۔ اس میں یہ طے پایا تھا کہ ایس آئی آر ، یونیفارم سول کوڈ ،  اینٹی کنورژن قانون، بلڈوزر کلچر اور وقف اراضی سے متعلق  منظم منصوبہ بندی کی جائے تاکہ ایک طرف ملت کی صحیح رہنمائی کی جاسکے اور دوسری جانب حکومت کے سامنے موثر نمائندگی  بھی کی ممکن  ہوسکے۔ اسی سلسلے میں متعدد ذمہ داران کی جانب سے یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ ۲۲  ؍افراد پر مشتمل ایک کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ چنانچہ کمیٹی کا قیام عمل میں آچکا ہے ، اسی کی میٹنگ بلائی گئی۔

  اس موقع پر معروف قانون داں ایڈوکیٹ یوسف حاتم مچھالا نےخطاب کرتے ہوئے کہ ’’ہماری طرف سے یہ بات عام کی جارہی ہے کہ یو سی سی سے متعلق کمیٹی میں کوئی مسلم رکن شامل نہیں ہے ، یہ بنیادی طور پر غلط ہے کیونکہ  ہم جب یونیفارم سول کوڈ کو غیر ضروری سمجھتے ہیں تو اس کی کمیٹی میں کسی مسلمان کی شمولیت کے کیا معنی ہیں۔ اس سے ہمارے موقف میں کمزوری آئے گی ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈیٹا ہماری بڑی کمزوری ہے کہ ہمارے پاس اعدادوشمار مہیا نہیں ہے ۔ تین طلاق اور یتیموں کی پرورش کے ڈیٹا سمیت اور بھی جو کچھ ہماری کمیونٹی انسانیت کی فلاح وبہبود کیلئے کرتی ہے ، ہمارے پاس اس کے اعداد و شمار ضرور ہونے چاہئیں ۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ملک کے موجودہ حالات نامساعد ہیں مگر مسلمان حوصلہ نہ ہاریں‘‘

اس ضمن میں مولانا محمود خان دریا بادی نے کہا کہ  یو سی سی پوری طرح مسلم مخالف ہے جس نے دستور ہند کو کھلونا بنا دیا ہے۔ تعجب ہے کہ جس آرٹیکل۲۵؍ کے تحت مذہبی آزادی حاصل ہے،  اسے غیر فعال بنانے کیلئے یو سی سی جیسا دستور مخالف قانون بنایا جارہا ہے ۔ 

میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے سابق رکن پارلیمان مولانا عبیداللہ خان   اعظمی نے کہا کہ ’’یو سی سی کے سلسلے میں  ہمیں دوسری کمیونٹی سے بھی رابطہ رکھنا چاہئے۔ ان سے بھی معلوم کرنا چاہئے کہ  یو سی سی پر ان کا کیا ردعمل ہے ۔آخر یہ صرف مسلمانوں کا معاملہ تو ہے نہیں ۔‘‘ انہوں نے عملی اقدام کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہاکہ’’  ہم نے جو طے کیا ہے اس کا عملی طور پر زمین پر آنا ضروری ہے ۔ ‘‘

دریں اثناء ایڈوکیٹ یوسف مچھالا نے سوال کیا کہ  فریڈم آف ریلیجن قانون کو عدالت میں کون چیلنج کرے گا ۔ اس پر حاضرین نے کہا کہ صلاح و مشورہ کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ کون  سی تنظیم اسے عدالت میں چیلنج کرے گی ۔ 

ایڈوکیٹ عبد الکریم پٹھان نے یو سی سی بل کے تعلق سے کہا کہ یہ بل۶؍  ماہ بعد اسمبلی میں پیش ہوگا، اس سے پہلے وکلاء کی ٹیم بنا لی جائے تاکہ فوری طور سے اس میں شامل قابل اعتراض شق کو عدلیہ میں چیلنج کیا جاسکے ۔ انہوں نے اینٹی کنورژن بل کے قابل اعتراض پہلوؤں پر ایک تفصیلی تجزیہ پیش کیا ۔ ان معاملات کو دیکھنے اور اس پر غور کرکے اسے بڑے پیمانے پر عوام میں پھیلانے نیز عدلیہ میں چیلنج کرنے اور اس کے ڈرافٹ کی تیاری کیلئے لیگل ٹیم کے کنوینر کی ذمہ داری عبد الکریم پٹھان کو دی گئی ہے اور اس کے نگراں ایڈوکیٹ یوسف حاتم مچھالا رہیں گے۔ وہ اور ان کی ٹیم  آنے والے یو سی سی بل کے تعلق سے ان چار ریاستوں کے یو سی سی قوانین کا بھی جائزہ لیں گے پھر اس بنیاد پر مہاراشٹر میں یو سی سی پر لائحہ عمل پیش کریں گے ۔ 

یہ بھی پڑھئے: شام کے اوقات میں گھاٹکوپر سے ورسوا کے درمیان میٹرو خدمات شروع

مجتبیٰ فاروق  نے کہا کہ مطالعہ سے ہم یہ نتیجہ اخذ کریں کہ یو سی سی کے تحت کن مذہب یا کن قوموں  کے عائلی قوانین میں مداخلت ہورہی ہے۔ ہم اپنی قدروں کو سلیقے سے پیش کریں ۔   

مولاناظہیر عباس رضوی  نے کہاکہ دیگر قوموں سے رابطہ کس طرح ہو، اس پر غور کرنا چاہئے اور  ڈیٹا کلیکشن کا کام ترجیحی بنیادوں پر شروع کیاجائے۔ ڈیٹا کلیکشن کیلئے ماہرینِ کی مدد لی جائے یا ان سے ڈیٹا سروے کرایا جائے ۔

ڈیٹاسروے کیلئے عظمیٰ ناہید اور ایڈوکیٹ فرحانہ شاہ کو ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ اسی طرح ایف سی آر اے بل پر بہت جلد حکمت عملی ترتیب دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

اس میٹنگ میں  اقبال حافظ چونا والا ،مفتی حذیفہ قاسمی، شاکر شیخ، عبدالحسیب بھاٹکر، ایڈوکیٹ فرحانہ شاہ، فرید شیخ ، مولانا الیاس خان فلاحی ، مولانا عبدالجلیل انصاری اور مولانا انیس اشرفی وغیرہ نے شرکت کی اور اپنی قیمتی آراء پیش کیں اور مل جل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK