Updated: April 11, 2026, 7:06 PM IST
| New Delhi
دہلی ہائی کورٹ میں صحافی رعنا ایوب کی سوشل میڈیا پوسٹس کے معاملے پر یونین حکومت اور دہلی پولیس نے پلیٹ فارم ایکس کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ حکومت نے خبردار کیا ہے کہ مبینہ اشتعال انگیز مواد نہ ہٹانے پر ایکس کا ’’سیف ہاربر‘‘ تحفظ ختم کیا جا سکتا ہے۔
رعنا ایوب۔ تصویر: آئی این این
مرکزی حکومت اور دہلی پولیس نے جمعہ کو دہلی ہائی کورٹ کو بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی جانب سے صحافی رعنا ایوب کی مبینہ اشتعال انگیز پوسٹس کو عدالتی احکامات کے باوجود نہ ہٹانا، ہندوستان میں اس کے’’سیف ہاربر‘‘ تحفظ کو ختم کئےجانے کا باعث بن سکتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ ۷۹؍ کے تحت سیف ہاربر تحفظ ختم ہونے کی صورت میں پلیٹ فارم کو متعلقہ مواد کیلئے ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ یہ گزارشات جسٹس پرشویندرا کمار کوراو کے سامنے داخل کردہ حلف ناموں میں کی گئیں، جو وکیل امیتا سچدیوا کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کر رہے ہیں۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ صحافی کی جانب سے۲۰۱۳ء سے۲۰۱۷ءکے درمیان کی گئی چھ پوسٹس، جن میں ہندو دیوی دیوتاؤں اور ہندوتوا نظریہ دان وی ڈی ساورکر سے متعلق مواد شامل ہے، کو ہٹایا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۰؍ ہزار سے زائد آن لائن ادائیگی پر ایک گھنٹے کا ’توقف‘
بدھ کو عدالت نے پولیس اور ایکس کو ہدایت دی تھی کہ وہ ایوب کے خلاف کارروائی کریں۔ عدالت نے کہا تھا کہ یہ معاملہ فوری توجہ کا متقاضی ہے اور ایکس، دہلی پولیس اور حکومت کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ عدالت نے ایوب، ایکس اور دہلی پولیس کو نوٹس بھی جاری کیا تھا اور ان سے جمعرات تک جواب طلب کیا تھا۔ جسٹس کوراو نے کہا تھا:’’یہ کارروائی ضروری ہے کیونکہ رعنا کی جانب سے انتہائی توہین آمیز، اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ ٹویٹس پوسٹ کی گئی ہیں، جن کی بنیاد پر مجاز عدالت کے حکم پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ‘‘سچدیوا نے جنوری ۲۰۲۵ءمیں ایک ٹرائل کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا تاکہ صحافی کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا سکے۔ عدالت کے حکم کے بعد اگلے ہی دن پولیس نے مقدمہ درج کر لیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی کی حتمی ووٹر لسٹ جاری،دو کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے نام حذف
ایوب نے اس وقت اسکرول کو بتایا تھا کہ ان کی پوسٹس کسی بھی قانونی ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کرتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف شکایت ’’انہیں ڈرانے اور ان کی آواز دبانے کی ایک اور کوشش‘‘ ہے۔ سچدیوا نے ہائی کورٹ میں اپنی درخواست میں دعویٰ کیا کہ ایوب نے ہندو دیوی سیتا اور رام، ساورکر اور ہندو قوم پرستی کی توہین کی ہے، اور یہ پوسٹس فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ایکس کے گریوینس اپیلیٹ کمیٹی سے بھی رجوع کیا تھا، جس نے یہ کہہ کر پوسٹس ہٹانے سے انکار کر دیا کہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔
جمعہ کو ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے حلف ناموں میں بتایا گیا کہ پولیس نے ستمبر اور دسمبر میں ایکس کو نوٹس جاری کئے تھے تاکہ ایوب کی پوسٹس کو ہٹایا جائے۔ حکومت نے مزید کہا کہ جنوری ۲۰۲۵ءمیں ایک ٹرائل کورٹ نے بھی صحافی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ حکومت کے مطابق، یہ نوٹس اور عدالتی حکم’’حقیقی علم‘‘ (Actual Knowledge) کے زمرے میں آتے ہیں، جیسا کہ ۲۰۲۱ءکے انفارمیشن ٹیکنالوجی انٹرمیڈیری گائیڈلائنز اور ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ رولز میں بیان کیا گیا ہے، اور اس کے تحت ایکس پر لازم تھا کہ وہ فوری کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی مواد کو ہٹا دے۔ ’’حقیقی علم‘‘ سے مراد ایسی تصدیق شدہ اور واضح اطلاع ہے جو کسی انٹرمیڈیری کو قانونی طور پر ممنوع مواد کی میزبانی کیلئے ذمہ دار بناتی ہے۔ حکومت نے کہا کہ ایکس کا سیف ہاربر تحفظ ختم کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس نے ’’حقیقی علم‘‘ ہونے کے باوجود کارروائی نہیں کی۔ اس نے مزید کہا کہ اس طرح کی ’’غیر فعالیت‘‘ مقررہ قواعد کے تحت لازم احتیاطی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے اور اس سے صارف رعنا ایوب کی جانب سے مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کا تسلسل ممکن ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جسٹس یشونت ورما نقدی برآمدگی تنازع کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ سے مستعفی
اس کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ انٹرمیڈیری کو دفعہ ۷۹؍(۱) کے تحت حاصل سیف ہاربر تحفظ ختم کر دیا جائے۔ دوسری جانب ایکس نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ یہ درخواست پلیٹ فارم کے خلاف قابلِ سماعت نہیں ہے بلکہ اسے اس صارف کے خلاف ہونا چا ہئے جس نے مواد اپ لوڈ کیا، یعنی رعنا ایوب۔ پلیٹ فارم نے مزید کہا کہ دہلی پولیس کو چا ہئے کہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ ۶۹؍ اے اور۲۰۰۹ء کے بلاکنگ رولز کے تحت کارروائی کرے، کیونکہ ایوب کی پوسٹس ان دفعات کے دائرے میں آتی ہیں۔ دفعہ۶۹؍ اے حکومت کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ قومی سلامتی، خودمختاری، عوامی نظم یا خارجہ تعلقات کے مفاد میں آن لائن مواد تک عوامی رسائی کو بلاک کر سکے۔ جمعہ کی سماعت کے دوران، رعنا ایوب کے وکیل نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواست قابلِ سماعت نہیں ہے۔ عدالت نے صحافی کو دو ہفتوں کا وقت دیا ہے تاکہ وہ اپنا جواب داخل کریں، جس میں قابلِ سماعت ہونے کے معاملے پر بھی مؤقف شامل ہو۔ اس کیس کی اگلی سماعت۱۹؍ مئی کو مقرر کی گئی ہے۔