Inquilab Logo Happiest Places to Work

دواؤں کی آن لائن فروخت کے خلاف ۲۰؍ مئی کو میڈیکل اسٹورس کی ہڑتال

Updated: May 08, 2026, 12:01 PM IST | Kolhapur

چھوٹے دکانداروں کی شکایت ہے کہ کورونا میں دی گئی چھوٹ کو اب تک ختم نہیں کیا گیا جس کا بڑے کاروباری فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

Small shopkeepers suffer losses due to government policy. (File)
حکومت کی پالیسی کے سبب چھوٹے دکانداروں کو نقصان۔ (فائل)

کولہاپور ضلع کیمسٹ ایسوسی ایشن کے اراکین نے اعلان کیا ہے کہ وہ ۲۰؍ مئی کو آل انڈیا آرگنائزیشن آف کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ (اے آئی او سی ڈی) کی جانب سے اعلان کردہ ملک گیر بند میں حصہ لیں گے۔ یہ بند آن لائن دواؤں کی فروخت اور بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کی جانب سے کی جانے والی غیر پیشہ ورانہ مسابقت کے خلاف احتجاج کے طور پر منایا جائے گا۔

کولہاپور ضلع کیمسٹ ایسوسی ایشن کے صدر مدن پاٹل نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دواؤں کا کاروبار ’ڈرگس اینڈ کاسمیٹک ایکٹ ۱۹۴۰ء‘ اور ’رولز ۱۹۴۵ء‘ کے تحت چلایا جاتا ہے، لیکن اس قانون میں آن لائن دواؤں کی فروخت کے حوالے سے کوئی واضح شق موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکے باوجود ملک بھر میں آن لائن دواؤں کی غیر قانونی فروخت بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ مدن پاٹل کے مطابق مرکزی حکومت نے ۲۸؍ اگست ۲۰۱۸ء کوجی ایس آر ۵۱۷(ای)   کے تحت ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، مگر اسے اب تک مکمل قانون کی شکل نہیں دی گئی ہے۔ اس معاملے سے متعلق ایک عرضداشت دہلی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور عدالت نے آن لائن دواؤں کی فروخت پر عبوری روک بھی لگا رکھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وبا کے دوران ۲۶؍ مارچ ۲۰۲۰ء کو جی ایس آر ۲۲۰؍ (ای) کے تحت گھروں تک دوائیں پہنچانے کیلئے عارضی رعایت دی گئی تھی، مگر وبا ختم ہونے کے ۵؍ سال بعد بھی اس نوٹیفکیشن کو واپس نہیں لیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کا ذخیرہ بر آمد، ملزم فرار

ایسوسی ایشن کا الزام ہے کہ آن لائن کمپنیاں اسی رعایت کا فائدہ اٹھا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں خاص طور پر دیہی علاقوں میں دواؤں کی روایتی تقسیم کا نظام شدید خطرے سے دوچار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ڈرگ پرائس کنٹرول آرڈر ۲۰۱۳ء‘ کے مطابق ضروری ادویات پر خوردہ فروشوں کو صرف ۸؍ فی صد منافع دیا جاتا ہے، جبکہ دیگر ادویات پر بھی محدود منافع کی اجازت ہے۔ اس کے برعکس بڑی کارپوریٹ کمپنیاں ۲۰؍ سے ۵۰؍ فیصد تک رعایت دے رہی ہیں، جس کی وجہ سے چھوٹے میڈیکل اسٹور مالکان کا کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔مدن پاٹل نے خبردار کیا کہ اس صورتحال کے باعث ملک بھر میں تقریباً ۱۲؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار دوا فروشوں کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر حکومت کو بارہا توجہ دلائی گئی اور وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی یادداشت دی گئی، لیکن کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔ اسی وجہ سے ملک گیر بند کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پونے کی صورتحال پر ہرش وردھن سپکال کا اظہار تشویش

انہوں نےامید ظاہر کی کہ اس ہڑتال میں مہاراشٹر کے تمام دکاندار شامل ہوں گے اور بڑے کاروباریوں کی اس دھاندلی پر قدغن لگانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ میڈیکل اسٹورس کے کاروبار سے وابستہ افراد کی دیگر تنظیموں سے بھی گفتگو جاری ہے ۔ زیادہ سے زیادہ دکانداروںکو اس ہڑتال میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ احتجاج اثر دار رہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK