Inquilab Logo Happiest Places to Work

سروے شدہ ہاکرس کو ۵؍ ہفتوں میں ’کیو آر کوڈ‘ والا شناختی کارڈ جاری کرنے کا حکم

Updated: May 08, 2026, 10:47 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

ہائی کورٹ کے مطابق جن ۹۹؍ ہزار ۴۳۵؍ پھیری والوں کا سروے ہوا ہے ، ان کو شناختی کارڈ دیا جائے گا تاکہ باقی ہاکرس خصوصاً بنگلہ دیشیوں کیخلاف کارروائی کی جاسکے۔ شناختی کارڈ ملنے سے کسی ہاکر کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہوگی۔

The High Court has tightened its stance towards hawkers. (File photo)
ہاکرس کے تئیں ہائی کورٹ نے اپنا رویہ سخت کردیا ہے۔ (فائل فوٹو)

غیر قانونی ہاکرس کے تئیں   اپنا رویہ مزید سخت کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ نے بدھ کو ’برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن(بی ایم سی)‘ کو حکم دیا ہے کہ وہ ۵؍ ہفتوں میں ان تمام ہاکرس کو ’کیو آر کوڈ‘ والا شناختی کارڈ جاری کریں جن کاسروے کیا گیا تھا اور غیرقانونی ہاکرس سے جگہ خالی کروائیں۔ 

جسٹس اجے گڈکری اور جسٹس کمل کھاتا پر مشتمل ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے بی ایم سی کو حکم دیا ہے کہ جن ۹۹؍ ہزار ۴۳۵؍ ہاکرس کا سروے کیا گیا تھا، انہیں ’کیو آر کوڈ‘ والا شناختی کارڈ جاری کیا جائے تاکہ جن کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہے، ان کے خلاف کارروائی میں آسانی ہو ۔ ججوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ یہ شناختی کارڈ کسی پھیری والے کی قانونی حیثیت کا ثبوت نہیں ہوگا۔ اس سے صرف یہ معلوم ہوسکے گا کہ اس کا سروے ہوچکا ہے۔ عدالت کے مطابق ہاکر کو لائسنس دینے کی ذمہ داری ’ٹائون وینڈنگ کمیٹی (ٹی وی سی)‘ کی ہے اس لئے جب کبھی ٹی وی سی تشکیل دی جائے گی ، وہ لائسنس دے کر ہاکرس کو قانونی حیثیت دینے کا کام کرے گی۔ واضح رہے کہ سروے کئے گئے ہاکرس الگ ہیں اور لائسنس یافتہ پھیری والے علاحدہ ہیں۔ بی ایم سی کی ویب سائٹ کے مطابق شہر و مضافات میں لائسنس یافتہ ہاکرس کی تعداد ۳۲؍ ہزار ۴۰۷؍ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سہراب الدین فرضی انکائونٹر: تمام ۲۲؍ ملزمین بری

بدھ کو سماعت کے دوران ججوں نے سرکاری وکیل انجلی ہیلیکر کو یہ ہدایت بھی دی کہ وہ اگلی سماعت کے دوران قانون کی اِن شقوں کی تفصیل بتائیں جن کے تحت ان ہاکرس کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے جو نقلی شناختی کارڈ بنواکر کاروبارکرتے پائے جائیں گے۔  عدالت نے انہیں یہ بھی کہا کہ وہ ایسا کوئی نظام  بنانے کے تعلق سے غور کریں کہ قانونی ہاکرس  غیرقانونی ہاکرس  خصوصاً بنگلہ دیشی اور بیرون ملک سے آکر یہاں کاروبار کرنے والوں کے تعلق سے شکایت کرسکیں اور شکایت کرنے والوں کی شناخت بھی مخفی رکھی جاسکے۔ ججوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کوئی وہاٹس ایپ نمبر جاری کیا جاسکتا ہے جس پر ہاکرس  اپنے آس پاس کاروبار کرنے والے غیرقانونی ہاکرس کے تعلق سے تفصیل بھیج سکیں۔

سماعت کے دوران بی ایم سی نے سینئر کائونسل انل ساکھرے اور ایڈوکیٹ چیتنیا چوان کے ذریعہ عدالت سے درخواست کی کہ شناختی کارڈ جاری کرنے کیلئے ۲؍ ماہ کی مہلت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈ بنانے کیلئے کسی نجی کمپنی کو ذمہ داری سونپنی ہوگی اور اس کام کیلئے ٹینڈر جاری کرنا پڑے گا جو وقت طلب کام ہے۔ تاہم ججوں نے کہا کہ وہ برسوں سے غیرقانونی ہاکرس کے تعلق سے ایک ہی بات کہتے آرہے ہیں اور مزید ۲؍ ماہ تک غیرقانونی ہاکرس کو کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ انہوں نے شہری انتظامیہ کو ۵؍ ہفتوں میں شناختی کارڈ جاری کرنے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھئے: کے ڈی ایم سی کے ۲۰؍ کارپوریٹرز کے بلا مقابلہ انتخاب کو عدالت میں چیلنج

ججوں کے پوچھنے پر سرکاری وکیل انجلی نے بتایا کہ پولیس ہاکرس کے خلاف کارروائی کرتی رہتی ہے لیکن شناختی کارڈ ہونے سے غیرقانونی ہاکرس کی شناخت آسان ہوجائے گی اور کارروائی بہتر طور پر کی جاسکے گی۔

ججوں نے اس معاملے پر سماعت ۱۰؍ جون تک ملتوی کردی ہے۔

یاد رہے کہ ۲۰۱۴ء میں پارلیمنٹ میں ’اسٹریٹ وینڈرس (پروٹیکشن آف لائیولی ہُڈ اینڈ ریگولیشن آف اسٹریٹ وینڈنگ) ایکٹ‘ پاس کیا گیا تھا۔ اس ایکٹ کے تحت روزگار فراہم کرنے کیلئے پھیری والوں کو شہری انتظامیہ کی جانب سے لائسنس دیا جانا ہے۔ قانون پاس ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے بھی اس سلسلے میں فیصلہ صادر کیا تھا جس کے بعد ۲۰۱۶ء میں بی ایم سی نے پھیری والوں کو لائسنس دینے کی کارروائی شروع کی تھی۔ لائسنس دینے کیلئے بی ایم سی نے ایک لاکھ ۲۸؍ ہزار ۴۴۴؍ ہا کرس کا سروے کیا تھا۔ سروے مکمل ہونے پر ۹۹؍ہزار ۴۳۵؍ پھیری والوں نے لائسنس حاصل کرنے کیلئے درخواستیں دی تھیں۔ ان میں سے بی ایم سی نے ۱۵؍ہزار ۶۳۱؍ پھیری والوں کو لائسنس کا اہل پایا اور ۲۰۱۹ء میں ان کی فہرست جاری کی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK