بی ایم سی اور پولیس سے پھیری والوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی اور ایکشن پلان کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا۔
EPAPER
Updated: April 17, 2026, 12:52 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
بی ایم سی اور پولیس سے پھیری والوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی اور ایکشن پلان کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا۔
شہر اور مضافات میں غیر قانونی ہاکرس کے خلاف کارروائی اور خصوصی طو رپر گوریگاؤں ریلوے اسٹیشن کے اطراف ہدایت کے باوجود پھیری والوں کے خلاف ایکشن نہ لینے پر ہائی کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ غیر قانونی قبضہ جات ، ہاکرس کے خلاف حتمی کارروائی نہ کرنے اورمسئلہ برقرار ہونے کی اطلاع پر عدالت نے ریاستی حکومت، بی ایم سی اور پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’’ آخر آپ لوگ کب اپنا کام پوری ذمہ داری سے ادا کریںگے۔‘‘
گوریگاؤں مرچنٹس اسوسی ایشن کی جانب سے وکلاء باہریز ایرانی اور انوش ایرانی نے داخل کردہ عرضی کے ذریعہ بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ کے جسٹس اجے گڈکری اور جسٹس کمل کاتھا کو بتایا کہ ’’ گوریگاؤں ریلوے اسٹیشن اور اطراف کے علاقوں میں فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر اور دکانداروں کی دکان کے اطراف ہاکرس کا غیر قانونی قبضہ نہ صرف برقرار ہے بلکہ ان کی بڑھتی غنڈہ گردی اور ضروریات زندگی کی وہ ساری اشیاء جو دکانوں میں بھی فروخت کی جاتی ہیں ، سڑکوں پر کم قیمت میں فروخت کرنے سے نہ صرف تاجروں کے کاروبار پر برا اثر پڑ رہا ہے بلکہ راہگیروں اور مقامی لوگوں کو بھی آمدورفت میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘ وکلاءنے مزید کہا کہ ’’گوریگاؤں کے علاقے میں ۱۲؍ سو دکاندار غیر قانونی قبضہ جات اور ان کے سبب ہونے والے نقصانات سے نہ صرف پریشان ہیں بلکہ ان کی غنڈہ گردی کے سبب خوفزدہ بھی ہیں۔ وہیں ۲۰۲۰ء سے اس معاملہ میں بارہا بی ایم سی اور پولیس میں شکایت کی گئی لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ اس ضمن میں بی ایم سی نے درمیان میں غیر قانونی قبضہ کرنے والوں سے جرمانہ وصول کرنا شروع کیا تھا لیکن انہوںنے جرمانہ دینے کے ساتھ دکانداروں کو ہی ہراساں کرنا شروع کر دیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: گڑھے میں ڈوب کر ۴؍ کم سن بچوں کی موت
دو رکنی بنچ کو یہ بھی یاد دلایا گیا تھا کہ کورٹ نےبی ایم سی انتظامیہ کوغیر قانونی ہاکرس کے خلاف قوانین نافذ کرنے،لائسنس شدہ ہاکرس کومنظم کرنے اور عوامی راستوں کو مسافروں کیلئے قابل رسائی اور محفوظ بنانے کی ہدایت دی تھی لیکن اس پر کوئی خاطر خواہ عمل نہیں کیا گیا۔
اس پر کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت ، بی ایم سی اور پولیس سے جاننا چاہا کہ سابقہ ہدایت پر عمل کیوں نہیں کیا گیا؟ ان کا لوگوںکا مسئلہ کیا ہے ؟ آخر کب وہ اپنے ذمہ داریوں کو قبول کریںگے اور کب اپنا کام پوری ذمہ داری سے ادا کریں گے۔
اس تعلق سے پولیس نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہاکرس اور ایسوسی ایشن کی آپشی رنجش کے سبب یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے، اس کے باوجود پولیس نے ملزمین کے خلاف نہ صرف کیس درج کیا ، انہیں گرفتار کیا بلکہ بی ایم سی کے ساتھ ان کے خلاف کی جانے والی کارروائی کے دوران اسوسی ایشن اوربی ایم سی عملہ کو تحفظ بھی فراہم کیا گیا ہے۔ یہی نہیں غیر قانونی قبضہ جات ہٹانے کے لئے پورے شہر میں جہاں کارروائی کی جارہی ہے وہاں پولیس شہری انتظامیہ کے عملہ کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ نظم و نسق کو برقرار رکھنے کی بھی پوری کوشش کررہی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: حج ۲۰۲۶ء میں مرد وخواتین عازمین کی رہائش گاہیں الگ الگ!
اس پرعدالت نے کہا کہ’’ ان تمام کارروائیوں کے باوجود غیر قانونی قبضہ جات برقرار ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس ضمن میں عدالت کے روبرو ایکشن پلان پیش کیا جائے اور کارروائی سے متعلق ۲۱؍ اپریل کو ہونے والی سماعت میں تفصیلی حلف نامہ داخل کیا جائے۔ اگلی سماعت میں نہ تو کوئی بہانہ یا جواز پیش کیا جائے اور نہ ہی کورٹ اسے سننا پسند کرے گی۔‘‘
واضح رہے کہ شہرومضافات میں غیرقانونی پھیری والوں کے خلاف شہری انتظامیہ کی جانب کارروائی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ حال ہی میں کئی علاقوں میں ایسے ہاکرس کے خلاف سخت کارروائی کی گئی اور اب بھی انہیں کاروبار کرنے سے روکنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں، اس کے باوجود کئی علاقوں میں مسئلہ برقرار ہے۔