کہا:کیا امتحانات کو آمدنی کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے ؟ ایک طرف رقم بچانےکادعویٰ کیا جارہا ہے تودوسری جانب طلبہ سے فیس کے نام پر بڑی رقم وصول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ایچ ایس سی اور ایس ایس سی امتحانات کی فیس میں اضافے کی سخت مذمت کی جارہی ہے۔ تصویر:آئی این این
ریاستی بورڈ نے ایک مرتبہ پھر دسویں اور بارہویں کے امتحانات کی فیس میں اضافہ کرنےکا فیصلہ کیا ہے اس کی تعلیمی تنظیموں نے سخت مذمت کی اور کہاہے کہ کیا امتحانات کو آمدنی کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے ؟ ایک طرف ڈیجیٹل امتحانات کی تجویز سے کروڑوں روپے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہےتو دوسری جانب غریب طلبہ سے فیس کے نام پر بڑی رقم وصول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔
مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری ایجوکیشن ( ایم ایس بی ایس ایچ ایس ای) نے جولائی- اگست ۲۰۲۶ءمیں ہونے والے ایس ایس سی اور ایچ ایس سی کے سپلیمنٹری امتحانات کی فیس بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کیا بورڈ طلبہ کی امتحانی فیس سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے؟ اس طرح کے سوالات اُٹھائے جا رہےہیں۔واضح رہے کہ ایم ایس بی ایس ایچ ایس ای کے ذریعہ منعقدہ بورڈ امتحانات میں دیہی علاقوں کے غریب طلبہ بھی بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں ، اس کے باوجود ریاستی بورڈ ہر سال فیس میں اضافہ کر رہا ہے ۔ ریاستی بورڈ کے سرکیولرکے مطابق ٹیکنیکل مضمون کے ریگولر طلبہ اور دسویں کےپرائیویٹ طلبہ کی امتحانی فیس ۵۷۰؍ روپے، انتظامی فیس ۲۰؍ روپے، مارک شیٹ اور سرٹیفکیٹ کی فیس بالترتیب ۲۰، ۲۰؍ روپے، سائنس کے پریکٹیکل امتحان کی فی مضمون فیس ۱۰؍روپے اور ٹیکنالوجی کے پریکٹیکل امتحان کی فیس ۱۰۰؍ روپے ، نجی طلبہ کے رجسٹریشن کی فیس ایک ہزار ۱۱۰؍روپے اور ان کی پروسیسنگ فیس ۱۰۰؍روپے ہے ۔ اس کے علاوہ بھی دیگر ضروریات کیلئے طلبہ سےاضافی فیس وصول کی جائے گی ۔
اسی طرح بارہویں کی فیس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے ۔ آرٹس، کامرس، سائنس اور ایم سی وی سی وغیرہ کے ریگولر اور پرائیویٹ طلبہ کی امتحانی فیس ۵۹۰؍ روپے، انتظامی فیس ۲۰؍ روپے، مارک شیٹ کی فیس ۲۰؍روپے، سرٹیفکیٹ کی فیس ۲۰؍ روپے، پریکٹیکل امتحان کیلئے ۱۵؍ روپے فی مضمون، ایم سی وی سی پریکٹیکل امتحان کی ۳۰؍ روپے فی مضمون، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی فیس ۲۰۰؍ روپے فی مضمون، پرائیویٹ طالب علم کی رجسٹریشن فیس ایک ہزار ۱۱۰؍ روپے اور پرائیویٹ اسٹوڈنٹ کی پروسیسنگ فیس ایک ہزار ۱۰۰؍ روپے ہے۔
مہاراشٹر اسٹیٹ یووا سینا کے جوائنٹ سیکریٹری کلپیش یادو نے کہا کہ’’ دیہی علاقوں کے متعدد غریب طلبہ ریاستی بورڈ کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ انہیں کم سے کم فیس اور دیگر اخراجات پر تعلیم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ کاغذی اخراجات بچا کر کروڑوں روپے کی بچت کے بعد بھی بورڈ کو فیس بڑھانے کی کیا ضرورت ہے ؟ ریاست کے کچھ حصوں میں خشک سالی ہے ۔ ایسے میں فیس میں اضافہ مناسب نہیں ہے ۔ بورڈ فیس میں اضافے کااپنافیصلہ واپس لے ورنہ یووا سینا سخت احتجاج کرےگی۔‘‘اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کے ریاستی جنرل سیکریٹری ساجدنثار نے کہا کہ ’’اس ضمن میں ہم نے پہلے بھی واضح طور پر بورڈ کی مخالفت کی تھی اور اب بھی فیس بڑھانے کی مذمت کی جائے گی ۔‘‘
انڈیپنڈنٹ انگلش اسکول اسوسی ایشن کے صدر جاگرتی دھرما ادھیکاری کے مطابق ’’ریاستی بورڈ ہر سال فیس میں اضافہ کر رہی ہے جس سے طلبہ اور والدین پر مالی دباؤ پڑ رہا ہے ۔ متعدد معاملات میں ریاستی بورڈ کے ذریعہ سافٹ کاپی کی شکل میں اسکولوں کو تفصیلات بھیجی جاتی ہیں ۔ اسکول ان کے پرنٹ آؤٹ اپنے طور پر نکالتے ہیں جس سے ریاستی بورڈ کے اخراجات میں کمی آئی ہے، اس کے باوجود فیس میں اضافہ کرنا درست نہیں ہے ۔ ریاستی بورڈ فی الفور فیس میں اضافے کے فیصلے کو واپس لے ۔‘‘
یوتھ کانگریس نے بھی اس فیصلے کی مذکت کی ہے اور کہا ہےکہ دسویں اور بارہویں کے امتحانات کی فیس میں اضافہ سراسر ناانصافی ہے۔ یہ اضافی فیس ناقابل قبول ہے۔ چند روز قبل بورڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کروڑوں روپے بچائے ہیں تو اس رقم کو طلبہ کے فائدے کیلئے استعمال کرنے کے بجائے فیس میں اضافہ کیوں کیا جائے؟ یہ بورڈ کوئی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی نہیں ہے۔ اس فیصلے کی مذمت کی جائے گی۔