Updated: August 14, 2026, 12:41 PM IST
| New Delhi
دہلی یونیورسٹی کے پوسٹ گریجویٹ تاریخ کے نئے نصاب میں دہلی سلطنت سے متعلق اہم پرچہ شامل نہیں کیا گیا، جبکہ قدیم، قرونِ وسطیٰ اور جدید ہندوستان کی تاریخ سے متعلق کئی دیگر طویل عرصے سے پڑھائے جانے والے اختیاری پرچے بھی خارج کردیئے گئے ہیں۔ یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کی جانب سے تجویز کردہ ۳۸؍ خصوصی اختیاری پرچوں میں سے صرف ۱۶؍ کو تیسرے سمسٹر کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔
دہلی یونیورسٹی۔ تصویر: آئی این این
دی انڈین ایکسپریس کی جانب سے دیکھے گئے ریکارڈ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دہلی یونیورسٹی میں تاریخ کے شعبے سے پوسٹ گریجویٹ ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ کے پاس اب دہلی سلطنت سے متعلق وہ کورس منتخب کرنے کا اختیار نہیں رہا، جس میں قرونِ وسطیٰ کی ریاست کی تشکیل، اقتدار کے استعمال اور سیاسی، مذہبی و ثقافتی زندگی کے ارتقا کا مطالعہ کیا جاتا تھا۔ ’’قرونِ وسطیٰ کے شمالی ہندوستان میں دہلی سلطنت: اقتدار کے ڈھانچے (۱۳؍ ویں تا ۱۴؍ ویں صدی)‘‘ نامی یہ پرچہ تیسرے سمسٹر میں پڑھایا جاتا تھا، تاہم دہلی یونیورسٹی کی جانب سے حال ہی میں جاری کئے گئے نئے نصاب میں اسے شامل نہیں کیا گیا۔ اس کے ساتھ قرونِ وسطیٰ، قدیم اور جدید ہندوستان کی تاریخ سے متعلق کئی دیگر طویل عرصے سے پڑھائے جانے والے کورسز بھی خارج کردیئے گئے ہیں۔ تیسرے سمسٹر سے خارج کئے گئے دیگر پرچوں میں ’’شمالی ہندوستان کی تاریخ، تقریباً ۱۴۰۰ء تا ۱۵۵۰ء‘‘، ’’قدیم ہندوستان میں خواتین اور صنفی مطالعہ: ۱۵۰۰ء قبل مسیح تا ۱۰۰۰ء عیسوی‘‘، ’’قدیم ہندوستان میں سیاسی عمل اور ریاستی ڈھانچے‘‘ اور ’’قدیم ہندوستانی ادب میں مذہب اور معاشرہ‘‘ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہلدوانی : کھرگے کے جلسے کے بعد رام لیلا اسٹیج کا ’’شدھی کرن ‘‘
سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان کورسز کو نصاب کی منظوری کے مختلف مراحل میں منظوری مل چکی تھی، تاہم ۷؍ اگست کو جاری ہونے والی حتمی اطلاع میں انہیں شامل نہیں کیا گیا۔ ریکارڈ کے مطابق دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کی جانب سے تجویز کردہ ۳۸؍ خصوصی اختیاری پرچوں میں سے صرف ۱۶؍ کو تیسرے سمسٹر کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔ پوسٹ گریجویٹ سطح کے ’’دہلی سلطنت‘‘ اور ’’شمالی ہندوستان کی تاریخ‘‘ کے پرچوں میں انڈر گریجویٹ پروگرام میں پیش کئے جانے والے ایک پرچے سے کچھ مماثلت ضرور ہے، تاہم شعبۂ تاریخ کے ایک فیکلٹی رکن نے کہا کہ دونوں کو ایک دوسرے کے برابر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ فیکلٹی رکن کے مطابق سلطنتِ دہلی سے متعلق پوسٹ گریجویٹ پرچہ ’’کئی دہائیوں سے قرونِ وسطیٰ کے ہندوستان کی تاریخ کا بنیادی پرچہ‘‘ رہا ہے۔ شمالی ہندوستان کی تاریخ سے متعلق پرچہ ’’خصوصی موضوعاتی اور تاریخی مطالعہ‘‘ تھا، جبکہ انڈر گریجویٹ سطح کا پرچہ ہندوستانی تاریخ کا عمومی جائزہ پیش کرتا ہے۔
دہلی سلطنت سے متعلق پرچے میں کیا پڑھایا جاتا تھا؟
خصوصی اختیاری پرچہ طالب علم کے منتخب کردہ شعبے کے اندر ایک اختیاری کورس ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر تاریخ کا طالب علم لازمی پرچوں کے علاوہ تاریخ کے کسی مخصوص اور خصوصی موضوع کا انتخاب کرسکتا ہے۔ دہلی یونیورسٹی میں نصاب تبدیل کرنے کا عمل کئی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ سب سے پہلے شعبہ اپنی نصاب کمیٹی کے ذریعے مجوزہ کورسز پر غور کرکے انہیں منظور کرتا ہے۔ اس کے بعد تجویز یونیورسٹی کی مستقل کمیٹی اور پھر تعلیمی کونسل کے سامنے جاتی ہے، جو یونیورسٹی کا اعلیٰ ترین تعلیمی ادارہ ہے۔ تعلیمی کونسل کی منظوری کے بعد نصاب حتمی منظوری کیلئے انتظامی کونسل کے پاس جاتا ہے۔
دہلی یونیورسٹی کی ڈین برائے تعلیمی امور، کے رتنابالی نے کہا کہ کسی بھی کورس کو روکا نہیں گیا۔ ان کے مطابق تمام کورسز تعلیمی کونسل کے سامنے پیش کئے گئے تھے، جس نے وائس چانسلر کو ایسے کورسز کا جائزہ لینے کیلئے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اختیار دیا جنہیں مزید جانچ کی ضرورت تھی۔ اس کمیٹی میں تین بیرونی ماہرین، شعبے کے سربراہ اور تعلیمی کونسل کے دو ارکان شامل تھے۔ رتنابالی نے کہا کہ مسئلہ یہ تھا کہ مستقل کمیٹی سے پرچوں کی منظوری کے بعد بھی شعبے نے بعض منظور شدہ نصابات میں تبدیلیاں کردی تھیں۔ بعض پرچے شامل یا خارج کئے گئے، یونٹس تبدیل کئے گئے اور مطالعے کیلئے تجویز کردہ مواد کو ہٹا یا تبدیل کیا گیا۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے اعتماد کا مسئلہ پیدا ہوا، جس کے باعث نصاب کا دوبارہ جائزہ لینا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہرین کی کمیٹی نے نظرثانی شدہ نصابات کا جائزہ لیا اور ان پرچوں کو منظوری دی جو درست پائے گئے، جس کے بعد انہیں نوٹیفائی کیا گیا۔ ان کے مطابق کمیٹی کا جائزہ مکمل ہونے کے بعد مزید چند پرچے بھی جاری کئے جانے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ:اکالی دَل کے صدر سکھبیرسنگھ بادل پرکرپان سےحملہ، سیکوریٹی اہلکار بھی زخمی
ماہرین کی کمیٹی کے جائزے سے واقف ذرائع نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ کمیٹی نے چند کورسز میں تبدیلیوں کیلئے شعبے کو تجاویز دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق جائزے کا مقصد ہندوستان کی تاریخ کے مختلف خطوں اور ادوار کی زیادہ نمائندگی کو یقینی بنانا اور نصاب کو قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ء کے مقاصد سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ ماہرین کی کمیٹی کے سربراہ اور ہیم وتی نندن بہوگنا گڑھوال یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر شری پرکاش سنگھ نے اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا۔ دہلی یونیورسٹی کی سماجی علوم کی فیکلٹی کے شعبۂ تاریخ کے سربراہ پروفیسر انیرودھ دیش پانڈے نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ سماجی علوم کی فیکلٹی کے ایک اور رکن نے دعویٰ کیا کہ یہ تبدیلیاں ایک ایسے رجحان کا حصہ ہیں جس کے تحت کئی دہائیوں سے پڑھائے جانے والے کورسز اور پرچوں کو ختم کیا جارہا ہے، خاص طور پر سماجی علوم میں۔ ان کے مطابق قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ء کے تحت انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ نصاب پر نظرثانی شروع ہونے کے بعد سے یہ تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ واضح ہو کہ اگست ۲۰۲۳ء میں دی انڈین ایکسپریس نے پہلی مرتبہ دہلی یونیورسٹی کے انڈر گریجویٹ تاریخ کے نصاب میں قومی تعلیمی پالیسی سے منسلک تبدیلیوں کی رپورٹ دی تھی۔ ان تبدیلیوں میں ’’برہمنی غلبے‘‘ کے حوالے ہٹانا اور ’’عدم مساوات اور اختلاف‘‘ نامی پرچے کو خارج کرنا بھی شامل تھا۔
دہلی یونیورسٹی کی تعلیمی کونسل کے سامنے پیش کئے گئے پوسٹ گریجویٹ نصاب کی دستاویز کے مطابق ’’دہلی سلطنت‘‘ کے کورس کا مقصد ۱۳؍ ویں اور ۱۴؍ ویں صدی سے متعلق تاریخ نگاری کی مختلف تشریحات کا جائزہ لینا اور اس دور کو ہندوستان کی وسیع تر تاریخ کے تناظر میں نئے سرے سے سمجھنا تھا۔ اس پرچے میں دہلی سلطنت کی تشکیل، ۱۳؍ ویں اور ۱۴؍ ویں صدی کی سیاسی ثقافت کے ساتھ ساتھ اس دور کی روحانی اور مذہبی روایات کا بھی مطالعہ کیا جاتا تھا۔ دوسرا پرچہ ’’شمالی ہندوستان کی تاریخ، تقریباً ۱۴۰۰ء تا ۱۵۵۰ء‘‘ دہلی سلطنت کے انتشار اور مغلیہ سلطنت کے ظہور کے درمیان کے دور پر مرکوز تھا۔ اس میں افغان سیاسی ثقافت، مختلف حکومتوں کے تحت سیاسی طاقت کی تقسیم، سرپرستی کی مختلف شکلوں اور ادبی ثقافتوں کا جائزہ لیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ صوفی ازم اور بھکتی کو سماجی و سیاسی اختیار کی صورتوں کے طور پر دیکھا جاتا تھا، جبکہ ریاست کی تشکیل، اسلامائزیشن، سماجی تشکیل اور علمی پیداوار سے متعلق مباحث بھی اس کورس کا حصہ تھے۔ نصاب سے واقف فیکلٹی ارکان کے مطابق دونوں پرچے ۲۰۱۹-۲۰ء کے پرانے نصاب کا حصہ تھے اور شعبے میں کئی برسوں سے پڑھائے جارہے تھے۔ نصاب سے خارج کئے گئے پرچوں کا تعلق صرف قرونِ وسطیٰ کی تاریخ سے نہیں ہے۔ ’’قدیم ہندوستان میں خواتین اور صنفی مطالعہ: ۱۵۰۰ء قبل مسیح تا ۱۰۰۰ء عیسوی‘‘ میں برہمنی، بدھ، جین اور تانترک روایات میں خواتین کا مطالعہ کیا جاتا تھا۔ اس میں شادی، خاندان، جائیداد اور استری دھن کے علاوہ خواتین کو حکمران، سرپرست اور محنت کش کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔ کورس میں یہ سوال بھی شامل تھا کہ کیا ادبی اور کتبوں سے متعلق ذرائع کسی منفرد ’’خواتین کی آواز‘‘ تک رسائی فراہم کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پارلیمنٹ کا بارانی اجلاس ُدھل گیا!
ایک اور خارج کئے گئے اختیاری پرچے ’’قدیم ہندوستان میں سیاسی عمل اور ریاستی ڈھانچے‘‘ میں قدیم ہندوستان میں ابتدائی سیاسی تشکیل سے لے کر موریہ اور گپت سلطنتوں اور بعد کی علاقائی ریاستوں تک سیاسی اداروں کے ارتقا کا جائزہ لیا جاتا تھا۔ اس کے موضوعات میں ٹیکس، جنگ، بیوروکریسی، زمین کے عطیات، ملکہ، مندر، تاجر انجمنیں اور مقامی انتظامیہ شامل تھے۔ اسی طرح ’’قدیم ہندوستانی ادب میں مذہب اور معاشرہ‘‘ میں ویدی اور اپنشد روایات، بدھ مت اور جین مت، رزمیہ اور پورانک روایات، شیو مت، وشنو مت، شکتی مت اور عوامی مذہبی روایات کا مطالعہ کیا جاتا تھا۔
شعبۂ تاریخ نے ۷؍ اگست کو نصاب کے نوٹیفکیشن سے قبل اس کی صورتحال پر تشویش کا اظہار بھی کیا تھا۔ ۴؍ اگست کو وائس چانسلر یوگیش سنگھ کے نام جاری کی گئی ایک باضابطہ قرارداد میں شعبۂ تاریخ کی کونسل نے نشاندہی کی تھی کہ نیا تعلیمی سال ۲۸؍ جولائی سے شروع ہوچکا ہے، لیکن تیسرے سمسٹر کا نصاب تاحال باضابطہ طور پر جاری نہیں کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا تھا کہ سرکاری نصاب تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ اختیاری پرچوں کے بارے میں باخبر انتخاب نہیں کرسکتے۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ تعلیمی کونسل کے ایجنڈا کی فائل میں منظور شدہ پرچوں کے علاوہ دو دیگر زمروں کے پرچوں کو ’’زیرِ بحث‘‘ قرار دیا گیا تھا، کیونکہ ڈین برائے تعلیمی امور کے مطابق ان میں مطلوبہ تبدیلیوں کی جانچ کیلئے مزید وقت درکار تھا۔