پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سے پریشان، فی کلومیٹر ۲۰؍ روپے معاوضہ کی مانگ کی ، بطور احتجاج ۱۲؍ سے ۵؍ بجے تک خدمات معطل رکھیں
EPAPER
Updated: May 17, 2026, 4:00 PM IST | New delhi
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سے پریشان، فی کلومیٹر ۲۰؍ روپے معاوضہ کی مانگ کی ، بطور احتجاج ۱۲؍ سے ۵؍ بجے تک خدمات معطل رکھیں
بڑھتی ہوئی مہنگائی اور انتہائی قلیل آمدنی کی وجہ سے پہلے ہی مالی دشواریوں سے پریشان ڈیلیوری بوائز کیلئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ مرے پر سودُرے ثابت ہورہا ہے جس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سنیچر کو انہوں نے بطور احتجاج دوپہر ۱۲؍ سے شام ۵؍ بجے تک ڈیلیوری خدمات معطل رکھیں۔ ایپ کے توسط سے کام حاصل کرنےوالے یہ ڈیلیوری بوائز ’’گِگ ورکر‘‘ کہلاتے ہیں۔ یہپہلے بکنگ کیلئے چلچلاتی دھوم میں انتظار کرتے ہیں اور پھر آرڈر ملنے پر انتہائی کم معاوضہ میں گھروں تک سامان پہنچاکر معمولی آمدنی حاصل کرتے ہیں، نے پیٹرول کی قیمت بڑھنے پر اخراجات میں اضافہ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنا محنتانہ ۲۰؍ روپے فی کلومیٹر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : پیٹرول، ڈیزل اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ، روزمرہ کی اشیاء مہنگی ہونے کا خدشہ
۵؍ گھنٹے کی ہڑتال ، خدمات متاثر
ملک بھر میں ایپ پر مبنی خدمات انجام دینے والے ان گِگ ورکرس کی اچانک ہڑتال کی وجہ سے سنیچر کو فوڈ ڈیلیوری، کیب سروسیز اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کی خدمات متاثر ہوگئیں۔ گگ اینڈ پلیٹ فارم سروس ورکرز یونین (جی آئی پی ایس ڈبلیو یو) نے ملک بھر کے ڈرائیوروں اور ڈیلیوری پارٹنرس سے اپیل کی تھی کہ وہ دوپہر۱۲؍ بجے سے شام۵؍ بجے تک اپنی خدمات معطل رکھیں۔ یونین کا کہنا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً۳؍روپے فی لیٹر کے اضافے نے پہلے ہی کم آمدنی پر کام کرنے والے لاکھوں گگ ورکروں کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔
یہ بھیپڑھئے : اسمارٹ پری پیڈ میٹرس کی جانچ کے حوالے سے کنزیومر کونسل نے سوالات اٹھائے
ملک میں ۱ء۲؍ کروڑ گِگ ورکرس
یونین کے مطابق، ملک میں تقریباً۱ء۲؍ کروڑ گگ اور پلیٹ فارم ورکرس اس اضافے سے براہ راست متاثر ہوں گے۔ یونین نے حکومت اور ایپ کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ فی کلومیٹر کم از کم۲۰؍ روپے سروس ریٹ مقرر کیا جائے تاکہ ایندھن اور گاڑیوں کی دیکھ بھال کے بڑھتے ہوئے اخراجات پورے کئے جا سکیں۔ یونین صدر سیما سنگھ نے بتایاکہ’’ شدید گرمی کے موسم میں کام کرنے والے ڈیلیوری ورکرس پہلے ہی مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ان کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ‘‘انہوں نے خبردار کیا کہ ’’راحت رسانی کیلئے اگر کوئی فوری اقدام نہ کیاگیا تو بڑی تعداد میں گگ ورکرز اس شعبے کو چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ ‘‘
بلنکٹ، زومیٹو، سویگی ، ریپیڈو،اولا اور اوبر بری طرح متاثر
اس ہڑتال سےبلنکٹ، زومیٹو، سویگی ، ریپیڈو،اولا اور اوبر بری طرح متاثر اور دیگر ایپ پر مبنی خدمات متاثر رہیں۔ ڈیلیوری بوائز اور اولا،اوبر اورپورٹر جیسی ایپ بیسڈ سروسیز کیلئے اپنی گاڑیوں کے ساتھ ڈرائیونگ کرنےوالے یہ نوجوان یومیہ ۸؍ سے ۱۲؍ گھنٹے سڑک پر رہتے ہیں۔ ایپ بیسڈ کیب (ٹیکسی) چلانے والے محمد نے اپنی پریشانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب بھی ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، ہمارے اخراجات فوری طور پر بڑھ جاتے ہیں، مگر ہمیں ملنےوالے کرائے میں اضافہ نہیں ہوتا۔‘‘ ان کے مطابق ’’ایندھن کے خرچ ، گاڑی کے مینٹیننس اور کمپنی کے کمیشن کے بعد ہماری بچت بہت ہی قلیل ہوتی ہے۔ کسی کسی دن تو اتنی کم ہوتی ہے کہ گھر کا خرچ چلانا مشکل ہوجاتاہے۔ محمد کا اندیشہ ہے کہ ایندھن کی تازہ مہنگائی کے بعد کمائی نہ کے برابر ہوجائے گی۔