Updated: June 30, 2026, 10:07 PM IST
| Paris
فرانس میں شدید گرمی کی لہر کے دوران امریکی اداکارہ اینی ہیتھوے کی فرانسیسی ریویرا کے ساحلی مقام سینٹ ٹروپیز میں مکمل جسم ڈھانپنے والے سوئمنگ کاسٹیوم میں تصاویر منظرِ عام پر آنے کے بعد ملک کی لباس سے متعلق پالیسیوں پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مبصرین نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ایسا لباس ایک ہالی ووڈ اداکارہ کے لیے قابل قبول اور فیشن کا حصہ سمجھا جاتا ہے تو پھر مسلم خواتین کے برقینی پہننے پر اعتراضات اور پابندیاں کیوں عائد کی جاتی ہیں؟
اینی ہیتھوے۔ تصویر: آئی این این
فرانس میں شدید گرمی کی لہر کے دوران امریکی آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ اینی ہیتھوے کی فرانسیسی ریویرا کے معروف ساحلی مقام سینٹ ٹروپیز میں مکمل جسم ڈھانپنے والے سوئمنگ کاسٹیوم میں تصاویر سامنے آنے کے بعد ایک مرتبہ پھر ملک کی لباس سے متعلق پالیسیوں پر عالمی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور کئی مبصرین نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ایک غیر مسلم خاتون کا مکمل جسم ڈھانپنے والا سوئمنگ لباس قابل تعریف اور قابل قبول قرار دیا جاتا ہے تو پھر برقینی پہننے والی مسلم خواتین کو مختلف پابندیوں اور اعتراضات کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے۔
اینی ہیتھوے کی تعطیلات کی تصاویر میں انہیں لمبی آستینوں اور جسم کے بیشتر حصے کو ڈھانپنے والے سوئمنگ لباس میں دیکھا گیا۔ متعدد صارفین نے اسے سورج کی تیز شعاعوں سے تحفظ، جلد کی حفاظت اور ذاتی پسند کا معاملہ قرار دیا، لیکن اسی کے ساتھ ہزاروں تبصروں میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ برقینی بھی بنیادی طور پر اسی مقصد کے لیے استعمال ہونے والا مکمل سوئمنگ لباس ہے، پھر دونوں کے ساتھ رویہ مختلف کیوں ہے۔ یہ سوال اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ کئی برسوں سے فرانس میں برقینی اور حجاب کے معاملے پر مسلسل تنازعات سامنے آتے رہے ہیں۔ مختلف اوقات میں متعدد فرانسیسی بلدیات نے عوامی ساحلوں اور سوئمنگ پولز میں برقینی پہننے پر پابندیاں عائد کیں، جبکہ کئی مسلم خواتین نے شکایت کی کہ انہیں سوئمنگ پولز یا ساحلوں میں داخل ہونے سے روک دیا گیا یا واپس بھیج دیا گیا۔ اگرچہ ان پابندیوں کی قانونی حیثیت مختلف علاقوں میں مختلف رہی، لیکن یہ معاملہ مسلسل ملکی اور بین الاقوامی بحث کا حصہ بنتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان کا افغانستان میں فضائی حملہ، ۳۶؍افرادہلاک ، ۱۶۳؍زخمی
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مسئلہ لباس کا نہیں بلکہ اس لباس پہننے والی خاتون کی مذہبی شناخت کا ہے۔ ان کے مطابق جب ایک مشہور اداکارہ مکمل جسم ڈھانپنے والا لباس پہنتی ہے تو اسے صحت، سورج سے بچاؤ اور جدید طرزِ زندگی کا حصہ قرار دیا جاتا ہے، لیکن جب یہی طرز کا لباس ایک مسلمان خاتون برقینی کی شکل میں پہنتی ہے تو اسے مذہبی علامت، انتہاپسندی یا سماجی مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہی تضاد فرانس میں خواتین کی شخصی آزادی اور مذہبی آزادی کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کو مزید تقویت دیتا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی اسی نوعیت کے تبصرے بڑی تعداد میں دیکھنے میں آئے۔ متعدد صارفین نے لکھا کہ اگر اینی ہیتھوے کے لباس کو ذمہ دارانہ اور دانشمندانہ انتخاب قرار دیا جا سکتا ہے تو برقینی پہننے والی خواتین کے انتخاب کو بھی اسی احترام سے دیکھا جانا چاہیے۔ کئی افراد نے سوال اٹھایا کہ ’’کیا مسئلہ لباس ہے یا پھر لباس پہننے والی خاتون کی مذہبی شناخت؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکی سپریم کورٹ کا ڈونالڈ ٹرمپ کے اختیارارت میں ۹۰؍ سالوں میں سب سےبڑا اضافہ
دوسری جانب فرانسیسی حکومت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ ملک میں نافذ مختلف قوانین اور پابندیاں کسی مذہب کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ فرانس کے سیکولر نظام (Laïcité)، ریاستی غیر جانبداری، عوامی نظم و نسق اور سرکاری اداروں کی مذہبی غیر جانب داری کو برقرار رکھنے کے لیے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ حجاب یا برقینی سے متعلق فیصلے مختلف قوانین، عدالتی احکامات اور مقامی انتظامیہ کے اختیارات کے تحت کیے جاتے ہیں، نہ کہ کسی مخصوص مذہبی گروہ کے خلاف امتیازی سلوک کی بنیاد پر۔
یہ بھی پڑھئے: جنگلات کاربن جذب کرنے کی صلاحیت تیزی سے کھو رہے ہیں: این جی او کی وارننگ
فرانس میں اس سے قبل سرکاری اسکولوں میں حجاب پر پابندی، بعض کھیلوں میں حجاب کے استعمال پر قدغن اور مختلف شہروں میں برقینی سے متعلق فیصلے بین الاقوامی سطح پر بھی موضوع بحث بن چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی متعدد تنظیمیں وقتاً فوقتاً ان اقدامات پر تنقید کرتی رہی ہیں، جبکہ فرانسیسی حکام انہیں سیکولر ریاست کے اصولوں سے ہم آہنگ قرار دیتے ہیں۔