Updated: June 01, 2026, 10:06 PM IST
| Copenhagen
ڈنمارک کی وزیر اعظم Mette Frederiksen کے ایک متنازع بیان نے دنیا بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ آن لائن سیفٹی اور بچوں کے تحفظ سے متعلق ایک کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ اگر ان کے چھوٹے بچے ہوتے تو وہ انہیں سوشل میڈیا استعمال کرنے کے بجائے سگریٹ نوشی کرتے دیکھنا پسند کرتیں۔ اگرچہ بعد میں انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے خطرات کی شدت اجاگر کرنا تھا، تاہم اس بیان کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور حمایت دونوں کا سامنا کرنا پڑا۔
میٹ فریڈرکسن ۔ تسویر: آئی این این
ڈنمارک کی وزیر اعظم Mette Frederiksen نے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے ایک ایسا بیان دیا ہے جس نے یورپ سمیت دنیا بھر میں بحث چھیڑ دی ہے۔ مصنوعی ذہانت اور بچوں کی آن لائن حفاظت سے متعلق ایک کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آج ان کے چھوٹے بچے ہوتے تو وہ انہیں سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت دینے کے بجائے سگریٹ نوشی کرتے دیکھنا زیادہ پسند کرتیں۔ فریڈرکسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’اگر آج میرے چھوٹے بچے ہوتے تو میں انہیں سوشل میڈیا پر اکیلے چھوڑنے کے بجائے تمباکو نوشی کرنے دیتا۔‘‘ تاہم انہوں نے فوراً یہ بھی کہا کہ بطور وزیر اعظم وہ اس طرح کی بات نہیں کہیں گی، لیکن ان کا مقصد اس نئے خطرے کی شدت کو اجاگر کرنا ہے جو ڈجیٹل دنیا کے ذریعے بچوں کو درپیش ہے۔
یہ بھی پڑھئے : یورپی یونین میں کیچپ اور مایونیز کے سنگل یوز ساشے پر پابندی، ۱۲؍ اگست سے نفاذ
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ معاشرے نے روایتی خطرات پر توجہ تو برقرار رکھی ہے لیکن بچوں کی ڈجیٹل زندگیوں میں پیدا ہونے والے نئے خطرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو نقصان دہ مواد، آن لائن ہراسانی، نفسیاتی دباؤ اور استحصالی سرگرمیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈنمارک میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر نئی پابندیوں پر کام جاری ہے۔ مجوزہ قوانین کے مطابق ۱۵؍ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے، جبکہ ۱۳؍ اور ۱۴؍ سال کے نوجوان صرف والدین کی اجازت کے ساتھ ان پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اطلاعات کے مطابق یہ ضوابط آئندہ سال کے آغاز سے نافذ کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : غزہ: اسرائیل نے عید الاضحیٰ کے دنوں میں ۲۶؍ فلسطینی شہید کئے: اقوام متحدہ
یاد رہے کہ فریڈرکسن نے گزشتہ برس پارلیمنٹ میں بھی اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاشرے نے بچوں کی ڈجیٹل زندگیوں کو ایسے پلیٹ فارمز کے حوالے کر دیا ہے جن کی ترجیح کبھی بچوں کی فلاح نہیں رہی۔ ان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ ’’ڈجیٹل قید‘‘ سے نکل کر حقیقی سماجی تعلقات اور کمیونٹی کی طرف واپسی کی جائے۔ وزیر اعظم کے حالیہ ریمارکس وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے۔ بعض ناقدین نے سوشل میڈیا اور سگریٹ نوشی کے درمیان موازنہ کو نامناسب قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمباکو نوشی ایک ثابت شدہ جسمانی نقصان پہنچانے والی عادت ہے جبکہ سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی دونوں پہلو موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : میکسیکو: صدر کا امریکہ پر انتخابی عمل میں مداخلت کی کوششوں کا الزام
کئی صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ مثال مناسب نہیں تھی، تاہم بچوں اور نوجوانوں پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات ایک حقیقی مسئلہ ہیں۔ بعض تبصرہ نگاروں نے کہا کہ اصل مسئلہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے الگورتھمز ہیں جو صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے نقصان دہ یا اشتعال انگیز مواد کو فروغ دیتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ صارفین نے وزیر اعظم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق فریڈرکسن صرف یہ واضح کرنا چاہتی تھیں کہ بچوں کے لیے غیر محدود اسکرین ٹائم اور غیر نگرانی شدہ سوشل میڈیا استعمال کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : اسرائیل نے نور شمس پناہ گزین کیمپوں میں فوجی کارروائی ۳۱؍ جولائی تک بڑھا دی
وزیراعظم کا ردعمل
شدید تنقید کے بعد فریڈرکسن نے سوشل میڈیا پر وضاحتی بیان بھی جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد ہرگز بچوں کو تمباکو نوشی کی ترغیب دینا نہیں تھا بلکہ والدین اور معاشرے کو یہ احساس دلانا تھا کہ آن لائن دنیا میں بچے کس قدر غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’’یقیناً بچوں اور نوجوانوں کو تمباکو نوشی نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن انہیں ایسے پلیٹ فارمز پر بھی تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے جہاں انہیں نقصان دہ تصاویر، منشیات کی پیشکش، بلیک میلنگ یا جنسی استحصال جیسے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔‘‘
ماہرین کے مطابق یہ بحث صرف ڈنمارک تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال، آن لائن سیفٹی اور ذہنی صحت پر اس کے اثرات کے حوالے سے قانون سازی اور پالیسی سازی کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔