Inquilab Logo Happiest Places to Work

مشکلات اور نامساعد حالات کے باوجود بھیونڈی کی لائبہ نور کی بے مثال کامیابی

Updated: April 07, 2026, 5:04 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

بی یو ایم ایس امتحان میں ۸۶ء۹؍ مارکس لے کرریاست بھر کے تمام کالجوں میں اول مقام حاصل کیا اور مرحوم والد کا خواب پورا کیا۔

Laiba Awarded With Award.Photo:INN
لائبہ کو انعام سے نوازا گیا۔ تصویر:آئی این این
 محنت، عزم اور بلند حوصلے کی درخشاں مثال قائم کرتے ہوئے بھیونڈی کی ڈاکٹر انصاری لائبہ نور عبدالو ہاب نے بی یو ایم ایس  میں پورے مہاراشٹر میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے نہ صرف اپنے مرحوم والد کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا بلکہ بھیونڈی کا نام بھی روشن کیا۔ ڈاکٹر لائبہ نور روزنامہ انقلاب کے محنتی تقسیم کار مرحوم عبدالوہاب انصاری کی بیٹی ہیں، جن کی زندگی جدوجہد اور محنت سے عبارت رہی۔
 
 
لائبہ نور نے ابتدائی تعلیم  صلاح الدین ایوبی میموریل  اردو ہائی اسکول سے حاصل کی۔ ۲۰۱۶ء میں انہوں نے۸۶ء۶۰؍  فیصد مارکس حاصل کرکے ایس ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ پھر ۲۰۱۸ء میں ایم ای ایس جونیئر کالج، بھیونڈی سے ۱۲؍ ویں کے امتحان میں ۷۳ء۳۸؍ فیصد نمبرلئے۔ انہوں نے طبی تعلیم میں داخلے کیلئے ۲۰۲۰ء میں نیٹ کا امتحان دیا اور ۳۲۳؍ مارکس حاصل کئے۔پھر  زیڈ وی ایم یونانی میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل، پونے میں داخلہ لیا۔ مسلسل محنت، لگن اور یکسوئی کے ساتھ تعلیم جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بی یو ایم ایس ۲۰۲۵ء میں ۸۶ء۹؍ فیصد حاصل کرکے  مہاراشٹر کے تمام ۷؍ یونانی میڈیکل کالجوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔  ہمدرد اور امپا کی جانب سے ساتوں یونانی کالجوں کے اول و دوم طلبہ کی تہنیت کی گئی، اس میں لائبہ کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔
 
 
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ستمبر ۲۰۲۵ء میں نتائج کے اعلان کے باوجود اب تک یونیورسٹی کی جانب سے پہلی پوزیشن کی باضابطہ تصدیقی سند جاری نہیں کی گئی ہے، جس کا انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو بے صبری سے انتظار ہے۔ اسی تصدیقی عمل کے سبب اس بڑی کامیابی کو اب تک ذرائع ابلاغ میں عام نہیں کیا گیا تھا۔ڈاکٹر لائبہ نور کی کامیابی اسلئے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ ان کے والد، مرحوم عبدالوہاب انصاری، جو روزنامہ انقلاب کے تقسیم کار  تھے، تقریباً ۳؍ سال قبل انتقال کر گئے۔ محدود وسائل، مشکلات اور صدمات کے باوجود لائبہ نور نے نہ صرف تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا بلکہ اپنے والد کے خواب کو حقیقت میں بدل کر یہ ثابت کر دیا کہ عزم اگر مضبوط ہو تو حالات کبھی رکاوٹ نہیں بنتے۔ان کی اس تاریخی کامیابی پر بھیونڈی شہر میں خوشی اور فخر کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سماجی، تعلیمی اور عوامی حلقوں کی جانب سے انہیں مبارکباد پیش کی جا رہی ہے اور ان کے روشن مستقبل کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK