Inquilab Logo Happiest Places to Work

دھاراوی: ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کیلئے سیکٹر ۶؍ کو خالی کرنے کا نوٹس

Updated: April 17, 2026, 10:30 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

گنیش نگر۔میگھ واڑی، ایس وی پی نگر، آزاد نگر اور کملارمن نگر شامل۔ بیشتر مکینوں کو دھاراوی ہی میںبازآباد کاری کیلئے نااہل قرار دینے کی وجہ سے مکین سخت ناراض۔ مورچہ نکالنے کی تیاری۔

The eviction notices are causing concern and anger among residents of Dharavi. (File photo)
مکان خالی کرنے کا نوٹس دیئے جانے سے دھاراوی کے مکینوں میں تشویش اور ناراضگی پائی جارہی ہے۔ (فائل فوٹو)

دھاراوی ری ڈیولپمنٹ کے تحت عمارتوں کی تعمیر کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے ’دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ (ڈی آر پی)‘ اور ’سلم ری ہیبیلٹیشن اتھاریٹی(ایس آر اے)‘ نے مشترکہ طور پر اخبارات میں اشتہار دے کر اور ماٹونگا ریلوے کی زمین پر واقع علاقوں میں جگہ جگہ نوٹس چسپاںکرکے دھاراوی کے ’سیکٹر ۶‘ کو مانسون اور نیا تعلیمی سال شروع ہونے سے قبل خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔

جن علاقوں کو خالی کرنے کوکہا گیا ہے، ان میں گنیش نگر۔ میگھ واڑی، ایس وی پی نگر، آزاد نگر اے، بی اور سی وارڈ اور کملا رمن نگر شامل ہیں جہاں تقریباً ۳؍ ہزار ۵۰۰؍ گھر اور کارخانے وغیرہ ہیں۔اس جگہ پر ۱۰؍ عمارتیں تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے جس میں ۱۱؍ ہزار خاندانوں کو متبادل رہائش دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: کل سے اللہ کے مہمانوں کی روانگی کا آغاز

جب اس نمائندے نے کملا رمن نگر سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر سے بات چیت کی تو انہوں نے نوٹس ملنے یا کہیں نوٹس چسپاں نظرآنے سے لاعلمی ظاہر کی۔ البتہ بہت سے افراد اس نوٹس سے واقف ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ مانسون اور نیا تعلیمی سال شروع ہونے سے قبل یعنی جون تک اس پروجیکٹ کو انجام دینے والی (اڈانی کی کمپنی) نوبھارت میگا ڈیولپرس پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے معاہدہ کرلیں اور اپنے مکانات اور دکان خالی کردیں تاکہ ان کی جگہ متبادل مکان اور دکانیں دی جاسکیں اور تعمیراتی کام کو متعینہ مدت میں پورا کیا جاسکے۔ اس نوٹس کی وجہ سے مقامی افراد میں سخت بے چینی اور ناراضگی پائی جارہی ہے۔

دھاراوی بچائو آندولن سے وابستہ کامریڈ نصیرا لحق نے اس تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’اب بھی بہت سے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے دستاویز جمع نہیں کرائے ہیں۔ جن افراد نے اپنے دستاویز دیئے تھے، ان میں سے زیادہ تر کو دھاراوی میں بازآباد کاری کیلئے نااہل قرار دے دیا گیا ہے یعنی انہیں کسی دیگر مقام پر جانے کو کہا جائے گا جس کی وجہ سے اکثر و بیشتر افراد ناراض ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ مقامی افراد کو اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ دستاویز جمع کرانے پر زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ انہیں نااہل قرار دے دیا جائے گا اور دھاراوی سے دور کسی دیگر مقام پر منتقل کردیا جائے گا اس لئے جنہوں نے دستاویز نہیں دیئے ہیں، اب وہ اپنے کاغذات جمع نہ کرانے کے فیصلے پر مزید پختہ ہوگئے ہیں۔ جو لوگ گھر خالی کرنے کیلئے آمادہ ہیں، ان کا بھی کہنا ہے کہ سیکٹر ۶؍ میں جو خالی جگہیں ہیں، ان پر عمارت تعمیر کرکے انہیں متبادل مکان کے طور پر اس جگہ ٹھہرایا جائے اور پروجیکٹ مکمل کیا جائے۔

یہاں واقع مسلم نگر میں اکثر و بیشتر افراد نے اپنے دستاویز نہیں دیئے ہیں تو انہیں بھی نوٹس دیا گیا ہے کہ وہ جلد از جلد اپنے کاغذات جمع کرادیں۔ نصیرالحق کے مطابق ان سب باتوں کی وجہ سے عوام میں شدید ناراضگی ہے اور جمعرات کی شب دھاراوی بچائو آندولن کی میٹنگ ہے جس میں نوٹس کے خلاف مورچہ اور آندولن کیلئے دن اور وقت طے کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: گوریگاؤں: موتی لال نگر کے ری ڈیولپمنٹ کیلئے ماسٹر پلان تیار

اس کمیٹی کے ایک اور ممبر بابو رائو مانے کے مطابق جگہ خالی کرنے کو کہا جارہا ہے لیکن متبادل جگہ کہاں ہے،یہ نہیں بتایا جارہا ہے۔ مزید یہ کہ متبادل مکان یا دکان نہ لینے پر محض ۳؍ مہینوں کیلئے ۳۰؍ سے۳۵؍ ہزار روپے کرایہ دینے کی بات سنائی دے رہی ہے اور اس کے بعد کے کرایہ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس لئے بھی لوگ پریشان ہیں۔

اس تعلق سے متعلقہ افسران کا کہنا ہے کہ ماٹونگا میں واقع ریلوے کی زمین کو یہ مان کر ’دھاراوی نوٹیفائیڈ ایریا (ڈی این اے)‘ میں شامل کیا گیا تھا کہ یہ ریلوے کی زمین ہے اور خالی ہوگی تو اس پر متبادل مکانات کیلئے عمارتیں تعمیر کی جاسکیں گی۔ تاہم اس پر بھی جھوپڑے آباد ہیں اس لئے اب انہیں خالی کروانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK