Inquilab Logo Happiest Places to Work

پرتاپ سرنائک اور رکن اسمبلی نریندر مہتا میں اختلافات شدت اختیار کر گئے

Updated: April 24, 2026, 10:37 AM IST | Sajid Mehmood Shaikh | Mumbai

وزیر ٹرانسپورٹ نے میونسپل کمشنر کو خط لکھ کرخود اپنے خلاف اور رکن اسمبلی کی کمپنی کیخلاف غیر جانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کیا۔

Pratap Saranaik and Narendra Mehta. Photo: INN
پرتاپ سرنائک اور نریندر مہتا۔ تصویر: آئی این این

یہاں   کے ۲؍ طاقتور  لیڈروں ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک اور بی جے پی کے رکن اسمبلی نریندر مہتا کے درمیان میں اختلافات اب شدت اختیار کرگئے ہیں۔ دونوں لیڈران  اب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے قانونی محاذ آرائی اور الزامات کا سہارا لے رہے ہیں۔ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب گزشتہ ہفتے پرتاپ سرنائک نے ’لوک دربار‘ منعقد کر کے نریندر مہتا کی مشہور  کمپنی ’سیون الیون‘ کے خلاف کارروائی کی بات کی۔ اس کے جواب میں نریندر مہتا نےجوابی لوک دربار لگایا اور سرنائک کی پراپرٹی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انتظامیہ سے کارروائی کا مطالبہ کر ڈالا۔ اس جوابی حملے نے پرتاپ سرنائک کو مشتعل کر دیا  جس کے بعد انہوں نے میونسپل کمشنر کو ایک سخت خط لکھ کر کھلی تحقیقات کا چیلنج دے دیا۔

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر:گرین انرجی، آئی ٹی پارک اور زمینی اصلاحات کو منظوری

  خط میں پرتاپ سرنائک نے میونسپل کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اگر عوامی نمائندے ہی غیر قانونی سرگرمیوں یا قواعد کے خلاف تعمیرات میں ملوث ہوں گے تو عام آدمی انتظامیہ پر کیسے بھروسہ کرے گا؟ یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے جمہوری نظام پر سوال ہے۔‘‘انہوں نے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ نریندر مہتا کی جانب سے ان کی پراپرٹی پر جو بھی الزامات لگائے گئے ہیں، انتظامیہ ان کی تفصیلی انکوائری کرے اور اگر وہ قصوروار پائے جائیں تو ان پر سخت قانونی کارروائی کی جائے۔  سرنائک نے صرف اپنی صفائی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مطالبہ کیا کہ ’صاف ستھرا میرا بھائندر‘ مہم کے تحت نریندر مہتا، ان کی کمپنی ’سیون الیون‘، ان کے بھائی ونود مہتا ، ان کے قریبی ساتھیوں  اور بی جے پی کارپوریٹروں کیخلاف میونسپل کارپوریشن میں زیرالتواء تمام شکایات کی فوری جانچ کی جائے۔ انہوں نے میونسپل کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے اگلے لوک دربار  سے قبل ان تمام شکایات پر ایک تفصیلی `  رپورٹ   پیش کی جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔پرتاپ  سرنائک نے اپنے خط میں واضح کیا کہ شہر کو بدعنوانی سے پاک رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور عوامی نمائندوں کو شفافیت کی مثال بننا چاہئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’اولا ، اوبر اور ریپیڈو ڈرائیوروں کیلئے بھی مراٹھی لازمی ہو گی‘‘

سیاسی حلقوں میں اس خط کو نریندر مہتا کے خلاف ایک بڑے حملے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ میونسپل کمشنر اس ’ہائی پروفائل ‘ معاملے میں کیا رخ اختیار کرتے ہیں اور شہر کی سیاست کس کروٹ بیٹھتی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ہی بی جے پی کے ۵۰؍ سے زائد کارپوریٹروں نے رکن اسمبلی نریندر مہتا کیخلاف توہین آمیز تبصرہ پرپولیس اسٹیشن میں احتجاج کیا تھا اور کیس درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK