• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

زیریں زمینی مدار میں سیٹیلائٹس کی بھرمار، تصادم کا خطرہ، ماہرین کا انتباہ

Updated: September 01, 2026, 10:02 PM IST | New York

زیریں یاکم زمینی مدار (Low-Earth Orbit)میں سیٹیلائٹس کی بڑھتی تعداد نے خلائی ٹریفک کو خطرناک حد تک گنجان بنا دیا ہے، جس میں ایلون مسک کی اسپیس ایکس کے ہزاروں اسٹارلنک سیٹیلائٹس بھی شامل ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کسی ایک تصادم سے پیدا ہونے والا ملبہ مستقبل میں سیٹیلائٹس اور اہم خلائی و مواصلاتی نظام کیلئے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

There are more than 30,000 objects in low Earth orbit, of which more than 10,000 belong to Elon Musk`s company SpaceX. Photo: INN
کم زمینی مدار میں ۳۰؍ ہزار سے زائد اشیا موجود ہیں، جن میں سے۱۰؍ ہزار سے زیادہ کا تعلق ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس سے ہے۔تصویر: آئی این این

زمین سے تقریباًایک ہزار ۹۳۰؍ کی بلندی تک پھیلا ہوا خلا کا خطہ کم زمینی مدار (Low-Earth Orbit) کہلاتا ہے۔ اس علاقے میں سیٹیلائٹس کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ کسی حادثاتی تصادم یا کسی شرپسند عنصر کی کارروائی کے نتیجے میں ایسا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے جو اہم تکنیکی بنیادی ڈھانچے کو ناکارہ بنا دے یا خلائی ملبے کے ٹکڑے زمین پر آ گریں۔ برمنگھم یونیورسٹی کے شعبۂ خلائی سفر کے پروفیسر ہیگ لیوس نے حال ہی میں اسپیس ڈاٹ کام کو بتایا، ’’میرے خیال میں ہم ایک ایسی صورتِ حال کی جانب بڑھ رہے ہیں جہاں کسی سیٹلائٹ کے ساتھ تصادم ہوگا، حالانکہ اسے روکنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔ یہ تصادم بچاؤ کی کوششیں نہ کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ ان تمام اقدامات کے باوجود ہوگا۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: نیپال سیلاب: اجتماعی تدفین شروع، ۹۰۳؍ ہلاکتیں، ۴۲۴۷؍ ہنوز لاپتہ

کم زمینی مدار میں ۳۰؍ ہزار سے زائد اشیا موجود ہیں، جن میں سے۱۰؍ ہزار سے زیادہ کا تعلق ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس سے ہے۔ یہ اعداد و شمار وال اسٹریٹ جرنل کے ایک تجزیے میں سامنے آئے ہیں۔ اسپیس ایکس اس وقت تاریخ کے سب سے بڑے سیٹیلائٹ نیٹ ورک کو چلا رہی ہے اور اپنی اسٹارلنک سروس کے ذریعےسیٹیلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کےسیٹیلائٹس مسلسل اپنے راستوں کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور جب تصادم کا امکان ایک کروڑ میں تین سے زیادہ ہوجاتا ہے تو وہ اپنا راستہ تبدیل کرنےکیلئے حفاظتی اقدامات کرتے ہیں۔ وفاقی اداروں کو دی گئی معلومات کے مطابق، گزشتہ ایک سال کے دوران اسپیس ایکس کے سیٹیلائٹس نے۳؍ لاکھ۵۵؍ ہزار سے زیادہ بار تصادم سے بچاؤ کی کارروائیاں کی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مکہ معاہدہ: سعودی وزیر دفاع، پاکستانی آرمی چیف کا دفاعی تعاون پر تبادلۂ خیال

اگرچہ سیٹیلائٹس کے درمیان تصادم اب بھی انتہائی نایاب ہیں، تاہم خطرات برقرار ہیں۔ کم زمینی مدار میں سیٹیلائٹس کی کثافت اس رفتار سے بڑھ سکتی ہے جو ناکارہ سیٹیلائٹس اور انسانی ساختہ خلائی ملبے کے ماحول میں جل کر ختم ہونے کی رفتار سے کہیں زیادہ ہو۔ اس صورتِ حال میں سیٹیلائٹس کی ہر نئی نسل کو خلا میں بھیجنا اور ان کیلئے محفوظ راستے بنانا مزید پیچیدہ ہوجائے گا۔ امریکہ کے مخالف بعض ممالک مختلف مواقع پر اپنے سیٹیلائٹس کو تباہ کرچکے ہیں۔ ۲۰۰۷ء میں چین نے زمین سے داغے گئے میزائل کے ذریعے ایک موسمی سیٹیلائٹس کو تباہ کیا تھا، جبکہ۲۰۲۱ءمیں روس نے بھی میزائل کے ذریعے اپنے ایک سیٹیلائٹ کو نشانہ بنایا۔ روسی تجربے کے نتیجے میں خلائی ملبے کے ۱۵۰۰؍ سے زیادہ ٹکڑے پیدا ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: کچھ دن کی خاموشی کے بعد امریکہ کے ایران پر پھر حملے

خلائی اور سائنسی برادری میں اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ کم زمینی مدار میں زیادہ سے زیادہ کتنےسیٹیلائٹس محفوظ طریقے سے کام کرسکتے ہیں اور آیا دنیا پہلے ہی اس حد کو عبور کرچکی ہے یا نہیں۔ سیٹیلائٹ کمپنی میون اسپیس کے چیف ایگزیکٹو جونی ڈائر نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو میں کہا، ’’میرے نزدیک خطرہ صرف تعداد کا نہیں ہے۔ ‘‘ ان کے مطابق خلا میں سیٹیلائٹس کیلئے زمین پر طیاروں کے مقابلے میں زیادہ گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اصل مسئلہ یہ ہے کہ آیا کوئی شرپسند فریق جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے یا کوئی ادارہ غفلت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایرانی افواج نے متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈے کو نشانہ بنایا اور امریکی ڈرون مار گرایا: رپورٹ

خلا میں سیٹلائٹس کی تعداد مستقبل میں بھی تیزی سے بڑھنے کی توقع ہے۔ مختلف کمپنیاں اسپیس ایکس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت (AI)کیلئے خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے منصوبے بھی زیرِ غور ہیں۔ خلائی مشنز کی لاگت میں کمی اورسیٹیلائٹس کے حجم میں کمی سے بھی خلا میں اشیا کی تعداد مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ چین نے رواں سال۲؍ لاکھ نئےسیٹیلائٹس بھیجنے کے منصوبے جمع کرائے ہیں، جبکہ اسپیس ایکس، امیزون اور دیگر کمپنیوں نے امریکی حکام کے پاس اگلی دہائی کے دوران خلا میں ۱۰؍ لاکھ سے زیادہ مداری ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کیلئے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ 
فی الحال خلائی مدار میں ٹریفک کو منظم کرنے کیلئے کوئی ایک عالمی ادارہ موجود نہیں ہے، تاہم کمپنیاں، حکومتیں اور سائنسی ادارے اپنے سیٹیلائٹس کے راستوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے مداری صلاحیت کے محقق جیووانی لاوےزی نے سائنٹیفک امریکن سے گفتگو میں کہا، ’’اب تک ایسا لگتا ہے کہ صورتِ حال قابو میں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس حد کو مزید کتنا آگے بڑھا سکتے ہیں۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK