Inquilab Logo Happiest Places to Work

شیئر بازار میں پورا کاروباری ہفتہ گراوٹ کی نذر ہوگیا

Updated: July 25, 2026, 2:44 PM IST | Mumbai

پیر سے جمعہ تک سینسیکس ۲؍ ہزار۹۱؍ پوائنٹس اور نفٹی ۵۶۷؍ پوائنٹس نیچے گیا، ۳۱؍دسمبر ۲۵ء سے اب تک یہ گراوٹ ۹؍ ہزار پوائنٹس سے تجاوز کرگئی۔

The stock market has had its worst week in four months in terms of weekly trading. Photo: INN
شیئر بازار میں ہفتہ رفتہ کاروبار کے لحاظ سے ۴؍ مہینوں کا بد ترین ہفتہ ثابت ہوا ہے۔ تصویر: آئی این این

خام تیل کی قیمتوں میں تیزی، امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، امریکی تجارتی محصولات (ٹیرف) اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ذریعہ فروخت کے مسلسل  دباؤ نے  ہندوستانی شیئر بازار کو جولائی کے بدترین ہفتے سے دوچار کر دیا۔ پیر سے جمعہ تک مسلسل پانچویں کاروباری سیشن میں گراوٹ کے بعد سینسیکس مجموعی طور پر۲؍ہزار ۹۱ء۶۸؍ پوائنٹس  یعنی  تقریباً۲ء۷؍ فیصد نیچے آ گیا ہےجبکہ نفٹی میں۲ء۳۳؍ فیصد (۵۶۷؍ پوائنٹس )کی کمی درج کی گئی، جو گزشتہ چار ماہ کی سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ ہے۔ ۳۱؍ دسمبر ۲۰۲۵ء سے اب (۲۴؍ جولائی ۲۰۲۶ء) تک سینسیکس ۹؍ ہزار ۱۶۹ء۶۳؍پوائنٹس نیچے جاچکاہے یعنی اس میں  ۱۰ء۷؍فیصد کی گراوٹ محض ۷؍ مہینوں میں درج کی گئی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: خام تیل کی قیمت ۱۲۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، دنیا بھر کی معیشت پر اثرات کا خدشہ

ہفتے بھر بازار کی کاکردگی پر ایک نظر 

جمعہ کوبامبے اسٹاک ایکسچینج (بی ایس ای) کا۳۰؍حصص پر مشتمل حساس اشاریہ سینسیکس ۳۳۱ء۶۲؍ پوائنٹس گر کر۷۶؍ ہزار  ۵۹ء۷۷؍ پر بند ہوا جبکہ نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی ۱۰۲ء۱۵؍ پوائنٹس کی کمی کے ساتھ ۲۳؍ ہزار ۷۶۹ء۵۵؍ پر بند ہوا۔ اگرچہ آئی ٹی اور بینکنگ شعبے کے بعض حصص میں خریداری دیکھی گئی، لیکن آٹو اور مالیاتی شعبے میں فروخت کا دباؤ برقرار رہا جس کی وجہ سے بازار سنبھل نہیں سکا۔ 

ماہرین کے مطابق بازار پر سب سے زیادہ اثر مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کا پڑا جس کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت ایک مرحلے پر ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر چلی گئی تھی۔ اگرچہ بعد میں قیمتوں میں کچھ نرمی آئی، لیکن سرمایہ کاروں میں مہنگائی، درآمدی اخراجات اور معاشی ترقی کی رفتار سے متعلق خدشات برقرار رہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: آئی فون کی جگہ بیئرڈ آئل بھیجنے پر فلپ کارٹ اور فروخت کنندہ پر جرمانہ

شیئر  بازار پر منفی اثر ڈالنےوالے عوامل

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ہندوستان، چین، یورپی یونین اور دیگر ممالک پر نئے تجارتی ٹیرف کے اعلان نے بھی عالمی بازاروں میں بے چینی پیدا کی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی وسیع پیمانے پر فروخت دیکھی گئی، جس کا اثر ہندوستانی   بازار پر بھی پڑا۔  پورے ہفتے روپے پر بھی دباؤ برقرار رہا  جبکہ غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کی مسلسل فروخت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔ کارپوریٹ نتائج نے بھی سرمایہ کاروں کو مایوس کیا۔ ایچ ڈی ایف سی بینک کے حصص ہفتے بھر میں تقریباً۹ء۴؍فیصد گر گئے، جو ڈھائی برس کی سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ ہے، جبکہ ایکسس بینک بھی کمزور سہ ماہی نتائج کے باعث تقریباً۷ء۶؍ فیصد نیچے آ گیا۔ دوسری جانب بجاج آٹو اور نیسلے انڈیا جیسے چند حصص بہتر نتائج کی بدولت مضبوط رہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK