مریضہ کو آپریشن کیلئے ۶۰؍ ہزار روپے دینے کے بہانے ۴۸؍ ہزار روپے اینٹھ لئے۔ یہ رقم رشتہ داروں سے اکٹھا کی گئی تھی۔ اہل خانہ علاج کروانے کیلئے پریشان۔
EPAPER
Updated: June 27, 2026, 12:57 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
مریضہ کو آپریشن کیلئے ۶۰؍ ہزار روپے دینے کے بہانے ۴۸؍ ہزار روپے اینٹھ لئے۔ یہ رقم رشتہ داروں سے اکٹھا کی گئی تھی۔ اہل خانہ علاج کروانے کیلئے پریشان۔
اب آن لائن دھوکہ بازمریضوں کو بھی نہیں بخش رہے ہیں۔دھوکہ باز نےسماجی کارکن بن کر نائر اسپتال میں آپریشن کیلئے درکار تقریباً ایک لاکھ ۷۰؍ ہزار روپے کی مدد کے نام پر بھیونڈی کی مریضہ سے آن لائن فراڈ کرکے ۴۸؍ ہزار روپے اینٹھ لئے ۔ مریضہ نے یہ رقم اپنے رشتےداروں سے بطور مدد اکٹھا کی تھی ۔متاثرہ کے اہل خانہ نے آگری پاڑہ پولیس اسٹیشن کے سائبر کرائم محکمہ میں شکایت درج کروائی ہے ۔
یہ بھی پڑھئے: شہر و مضافات میں جلوسِ عاشورہ میں شرکاء کا اِژدہام
اطلاع کے مطابق بھیونڈی کے تھانےروڈ علاقے میں رہنے والی ۲۳؍سالہ اقراء محمد عرفان مومن کا بایاں پیر فالج کی وجہ سے معمولی طور پر متاثر ہوا ہے جس کا علاج نائراسپتال میں جاری ہے ۔ ڈاکٹروں نے پیر کا آپریشن کرنے کیلئے ایک لاکھ ۷۶؍ ہزار ۹۰۰؍روپے خرچ بتایا ہے جس کیلئے نائر اسپتال کے میڈیکل سوشل ورکروں نےاقراء کے بھائی عمیز محمد عرفان مومن کو مالی مدد کرنے والے اداروں کی فہرست دی ہے ۔ اس دوران ان کے ایک عزیز نے انہیں ایک طبی سماجی کارکن کاموبائل فون نمبر دیااور کہا کہ یہ مریضوں کی بڑی مدد کرتے ہیں ۔ عمیز مومن نے انقلاب کو بتایا کہ ’’ اس موبائل نمبر کے وہاٹس ایپ پر میں نے اپنی بہن کے علاج کیلئے درکار مالی مدد کی تفصیلات فراہم کیں جس کاکوئی رسپانس نہیں ملا۔ایک ہفتہ بعد ۲۱؍جون کو اسی نمبر سے مجھے وہاٹس ایپ پر پیغام موصول ہوا جس میں کال کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔ کال کرنےپر سامنے والے نے کہا،جیساکہ آپ جانتے ہیں ،میں ایک معروف طبی سماجی کارکن ہوں۔ میں غریبو ںکی مدد کرتا ہوں اور انہی کی دعائوں سے یہاں تک پہنچا ہوں۔ بعدازیں اس نے بہن کے علاج کیلئے درکار رقم پوچھی جس پر میں نے کہاکہ آپ جتنا کرسکتے ہیں، کر دیں۔ جواب میں اس شخص نے کہاکہ پہلے مرحلہ میں ۶۰؍ہزار روپے کی مدد کی جائے گی لیکن اس رقم کیلئے، جومیں کہتاہوں وہ آپ کوکرناہوگا۔یہ کہہ کر اس نے ۲؍ افراد کےبار کوڈ روانہ کئے ۔ ان میں سے ایک بار کوڈ پر ۴؍مرتبہ ۱۰۔۱۰؍ہزار اور دوسرے بار کوڈ پر ۲۔۲؍ ہزار روپے ۴؍مرتبہ بھیجنے کو کہا۔ حالانکہ میں نے اس بارےمیں وضاحت طلب کی جس پر اس نے کہا کہ اگر ۶۰؍ ہزارروپے چاہئے تو یہ کارروائی کرنی ہوگی ۔ تمہاری جانب سے ۴۸؍ ہزارروپے ملنے کے ۱۰؍ منٹ بعد تمہیں ۶۰؍ہزار روپے مل جائیں گے ۔اس رقم کا غلط استعمال نہ کرنا جس مقصدکیلئے رقم بھیجی جا رہی ہے ،اسی کیلئے رقم کا استعمال ہوناچاہئے اور اس کی رپورٹ مجھے ملنی چاہئے۔ اس کے بعد میں تمہاری مزید مالی مدد کروں گا۔ اس کی باتوں میں آکر میں نے مذکورہ دونوں بارکوڈ پر ۴۸؍ہزارروپے بھیج دیئے ۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ڈیٹا سینٹر کے قیامِ کے ساتھ شہریوں کی صحت اور ماحولیات کا خیال رکھا جائے گا
عمیز مومن کےمطابق ’’۱۰؍منٹ کے بجائے ۲۰؍منٹ گزر جانے کے باوجود جب ۶۰؍ ہزار روپے نہیں آئے توفریب دہی کا شبہ ہوا ۔ میں نے اسے فون لگایا تو اس نے فون ریسیو نہیں کیا۔ بعدازیں اس کافون بند ہوگیا اور پھر بندہی رہا ۔ اس کے بعد اس نے میرا فون نمبر بلاک کرنے کے ساتھ دیگر نمبروں سے فون کرنے پر بھی اس نے کال ریسیو نہیں کیا ۔ ‘‘انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’اہل خانہ کے مشورہ پر بینک جاکر اپنا کھاتا چیک کیا تو معلوم ہوا کہ کھاتے سے ۴۸؍ہزار روپے نکل چکے ہیں۔ بینک میں شکایت درج کرانے کے علاوہ آگری پاڑہ پولیس اسٹیشن کے سائبر سیل میں بھی دھوکہ بازی کی شکایت درج کرائی ہے اور پولیس معاملہ کی تفتیش کررہی ہے لیکن ہم نے بہن کے علاج کیلئے اپنے عزیزوں سے جو رقم جمع کی تھی، اس کے ڈوب جانے کا بہت افسوس ہے ۔‘‘
نائر اسپتال کے میڈیکل سوشل ورکر شعیب ہاشمی کے بقول’’ عمیز مومن کے علاوہ دیگر مریضوں کے ساتھ بھی اس طرح کی دھوکہ دہی ہو رہی ہے جس سے مریضوں کو علاج کرانے میں دشواری ہو رہی ہے ۔ حکومت کو اس جانب توجہ دینےکی ضرورت ہے ورنہ غریب مریض بھی آن لائن دھوکہ بازی سے محفوظ نہیں رہیں گے ۔‘‘