Updated: May 18, 2026, 9:59 PM IST
| New delhi
امریکہ کے ایف ون اسٹوڈنٹ ویزا کے لیے درخواست دینے والے ہندوستانی طلبہ کے ویزا حالیہ برسوں میں سب سے زیادہ مسترد ہوئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ۲۰۲۵ء میں ہندوستانی طلبہ کے ویزا انکار کی شرح ۶۰؍ فیصد سے تجاوز کر گئی۔ سابق امریکی سفیر رچرڈ ورما نے بھی اس رجحان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بین الاقوامی ٹیلنٹ کھونے کا خطرہ مول لے رہا ہے جبکہ جرمنی، جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا جیسے ممالک ہندوستانی طلبہ کو متوجہ کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔
امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھنے والے ہندوستانی طلبہ کو اب غیر معمولی رکاوٹوں کا سامنا ہے، کیونکہ امریکی ایف ون اسٹوڈنٹ ویزا کی مستردی کی شرح ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔ تازہ رپورٹس اور تعلیمی تجزیوں کے مطابق ۲۰۲۵ء میں ہندوستانی درخواست دہندگان کے لیے ویزا انکار کی شرح تقریباً ۶۰؍ سے ۶۱؍ فیصد تک پہنچ گئی، جو گزشتہ ایک دہائی کی بلند ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت مزید زیر بحث آیا جب رچرڈ ورما، جو سابق امریکی سفیر اور نائب وزیر خارجہ رہ چکے ہیں، نے ۱۳؍ مئی ۲۰۲۶ء کو کونسل آن فارین ریلیشنز کے ایک پروگرام میں کھل کر اس صورتحال پر تبصرہ کیا۔ ورما نے کہا کہ ’’ہندوستانی طلبہ کو امریکی اسٹوڈنٹ ویزا کے لیے ۶۰؍ سے ۷۰؍ فیصد تک مستردی کا سامنا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے : غزہ: خوراک کی تقسیم کے مرکز پر اسرائیلی حملے، ۴؍ فلسطینی جاں بحق
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے یہی پالیسی جاری رکھی تو دوسرے ممالک ہندوستانی طلبہ کو اپنی جانب کھینچ لیں گے۔ ان کے مطابق ’’کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دوسرے ممالک ان طلبہ کو نہیں چاہتے؟ آسٹریلیا، جاپان، جنوبی کوریا اور جرمنی انہیں شدت سے چاہتے ہیں۔‘‘ تعلیمی ڈیٹا پلیٹ فارمز اور ویزا تجزیاتی رپورٹس کے مطابق ۲۰۲۳ء میں ہندوستانی طلبہ کے ایف ون ویزا مسترد ہونے کی شرح تقریباً ۳۶؍ فیصد تھی، جو ۲۰۲۴ء میں بڑھ کر ۵۳؍ فیصد اور ۲۰۲۵ء میں ۶۰؍ فیصد سے تجاوز کر گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ محض تکنیکی نہیں بلکہ امریکی امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ امریکی قانون کے سیکشن ۲۱۴ (بی) کے تحت ویزا افسران یہ فرض کرتے ہیں کہ ہر درخواست دہندہ ممکنہ امیگرنٹ ہے، جب تک کہ وہ ثابت نہ کرے کہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد واپس اپنے ملک لوٹ جائے گا۔ اسی بنیاد پر مالی صورتحال، خاندانی روابط، کورس کی مطابقت اور مستقبل کے منصوبوں کی سخت جانچ کی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وبا کے بعد سیکوریٹی اسکریننگ، جعلی داخلوں، اووراسٹے کیسز اور امیگریشن پر امریکی داخلی سیاسی بحث نے صورتحال مزید سخت بنا دی ہے۔ جنوبی ایشیا اور افریقہ کے طلبہ کو یورپی ممالک کے مقابلے میں زیادہ جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی دوران کئی دوسرے ممالک نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے اپنے دروازے مزید کھول دیے ہیں۔ جرمنی انگریزی پروگرامز اور کم فیس والی تعلیم کے ذریعے طلبہ کو متوجہ کر رہا ہے، جبکہ جاپان اور جنوبی کوریا ٹیکنالوجی اور ریسرچ پروگرامز میں عالمی ٹیلنٹ کو راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کنیڈا اور آسٹریلیا نے اگرچہ حالیہ برسوں میں اپنی ویزا پالیسیوں کو سخت کیا ہے، لیکن پھر بھی وہ امریکہ کے مقابلے میں زیادہ شفاف پوسٹ اسٹڈی ورک آپشنز فراہم کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : ایرانی لفٹر کا عالمی ریکارڈ، تمغہ میزائل حملے میں فوت بچوں کے نام کیا
ہندوستانی طلبہ، خاص طور پر STEM یعنی سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے، طویل عرصے سے امریکہ کو پہلی ترجیح سمجھتے رہے ہیں۔ امریکی یونیورسٹیاں، تحقیقاتی ماحول اور سیلیکان ویلی جیسے مواقع اب بھی بڑی کشش رکھتے ہیں، لیکن بڑھتی مستردی نے کئی خاندانوں کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ تعلیمی کنسلٹنٹس کے مطابق حالیہ مہینوں میں جرمنی، آئرلینڈ، نیدرلینڈز، سنگاپور اور جنوبی کوریا کے لیے ہندوستانی طلبہ کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رچرڈ ورما نے اپنی گفتگو میں امریکہ ہندوستان تعلقات کے مستقبل پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے گزشتہ دو دہائیوں میں دفاع، تجارت، تعلیم اور ٹیکنالوجی میں مضبوط شراکت داری قائم کی، لیکن حالیہ ویزا پابندیاں اور تجارتی اختلافات تعلقات میں ’’ری سیٹ‘‘ جیسی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے دفاعی تجارت کو صفر سے ۲۰؍ ارب ڈالر تک پہنچایا، لیکن اب آگے کیا ہوتا ہے، یہ دیکھنا باقی ہے۔‘‘ ورما نے یہ بھی خبردار کیا کہ چین اپنی عالمی سفارتی اور تعلیمی رسائی تیزی سے بڑھا رہا ہے، جبکہ امریکہ کے اندر بڑھتی پابندیاں طویل مدت میں اس کی عالمی تعلیمی برتری کو متاثر کر سکتی ہیں۔