۳؍ہزار سے زائد چھاپے مارے گئے۔ اس سے قبل ۵؍سال میں چھاپوں کے دوران محض۳۰؍لائسنس معطل کئے گئے۔ ۴۰؍ہزار سے زائد اسٹیبلشمنٹ کا معائنہ کیا گیا مگر کتنے کروڑ روپے کا مال ضبط کیا گیا ، اس کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: August 10, 2026, 12:46 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
۳؍ہزار سے زائد چھاپے مارے گئے۔ اس سے قبل ۵؍سال میں چھاپوں کے دوران محض۳۰؍لائسنس معطل کئے گئے۔ ۴۰؍ہزار سے زائد اسٹیبلشمنٹ کا معائنہ کیا گیا مگر کتنے کروڑ روپے کا مال ضبط کیا گیا ، اس کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
شہراور ریاست کے الگ الگ فوڈ اسٹیبلشمنٹ میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے نئے سربراہ تکارام منڈے کی سربراہی میں کی جانے والی کارروائیوں کے خوف سے اب ایک طرف چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے اسٹیبلشمنٹ از خود ایف ڈی اے قواعد کو اپنانے اور صاف صفائی کا خیال رکھنے کی کوشش کررہے ہیں تو دوسری طرف ڈھائی ماہ قبل بطور ایف ڈی اے چیف عہدہ سنبھالنے والے تکارام منڈے کی قیادت میں محض ۶۸؍ دن میں کی گئی کارروائیوں اور گزشتہ ۵؍ برس میں محکمے کی شہری اور ریاستی پر کی جانے والی کارروائیوں کا موازنہ کرنے پر حیرت انگیز انکشافات ہی نہیں ہوئے بلکہ موجودہ اور سابقہ کارروائیوں میں زمین آسمان کا فرق سامنا آیا ۔
تکارام منڈے نے ۲۵؍ مئی ۲۰۲۶ء کو بطور ایف ڈی اے کمشنر عہدہ سنبھالا تھا ۔اپنے کام اور اصولوں کے پکے اس آئی اے ایس افسرجنہیں ۲۱؍ سالہ سروس کے دوران مختلف شعبوں میں انتہائی ایمانداری سے کام کرنے کے عوض ۲۵؍ مرتبہ تبادلہ کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ، نے بطور ایف ڈی اے سربراہ ۶؍ مئی سے ۸؍ اگست کے درمیان ۶۸؍ دن میں شہر اور مضافات میں ایک دو نہیں بلکہ ۳؍ ہزار ۱۳۷؍ فوڈ اسٹیبلشمنٹ پر چھاپے مارے اور ۱۶۵؍ اسٹیبلشمنٹ کے لائسنس معطل کئےہیں۔ جن کے لائسنس معطل کئے گئے، ان میں مشہور آئس کریم پارلر کے رستم ، جنوبی ممبئی کی مشہور ہوٹلیں شالیمار ، نور محمدی ، پورنیما کے علاوہ بی ایم سی ہیڈ کوارٹرز ، کرکٹ کلب آف انڈیا (آئی سی سی )،آر کے جوہو جمخانہ، ایم آئی جی کرکٹ کلب، ولنگڈن اسپورٹس کلب کی کینٹین کے علاوہ دیگر اسٹیبلشمنٹ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’انگریزو، چلے جاؤ‘ کے بعد اب ’آمریت چلے جاؤ‘ کا نعرہ
تکارام منڈے کی قیادت میں چھاپے
۳؍ ہزار سے زائد فوڈ اسٹیبلشمنٹ پر کی جانے والی کارروائی سے قبل ۷۶۴؍ اسٹیبلشمنٹ کو نوٹس بھی بھیجا گیا تھا ۔کئے جانے والے معائنہ اور کارروائی کے دوران نہ صرف لائسنس معطل کیا گیا ہے بلکہ ۲۸؍ لاکھ ۶۶؍ ہزار ۹۶؍ کلو گرام اشیاء جن کی کل قیمت ۵۵؍ کروڑ ۷۲؍ لاکھ بتائی گئی ہے ضبط کرنے کے ساتھ ہی انہیں ضائع کیا گیا ہے ۔ یہی نہیں اس معاملہ میں ۵۹۹؍ ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور ۷۰۱؍فوڈ اسٹیبلشمنٹ مالکان کو گرفتار بھی کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ ۴۰۷؍ اسٹیبلشمنٹ کو سیٖل کر دیا گیا ہے۔
گزشتہ ۵؍ سال میں کارروائیاں
مذکورہ کارروائیوں کے مقابلہ گزشتہ ۵؍ سال کے درمیان ایف ڈی اے کے ذریعہ کی جانے والی کارروائیوں کا جائزہ لینے پر حیرت انگیز طور پر یہ بات منظر عام آئی ہے کہ گزشتہ برسوں میں ۴۰؍ ہزار سے زائد چھاپے تو مارے گئے لیکن صرف ۳۰؍ فوڈ اسٹیبلشمنٹ کے لائسنس معطل کئے گئے تھے ۔قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ گزشتہ پانچ برس میں مارے گئے چھاپوں کے اعداد وشمار تو موجود ہیں لیکن کتنی قیمت کا مال ضبط کیا گیا اورکتنا ضائع کیا گیا نہ تو اس کی تفصیلات ہیں اور نہ ایف آئی آر اور جرمانہ وصول کرنے کی تفصیلات موجود ہیں ۔ ایف ڈی اے کے پانچ سال کے ترتیب کردہ ریکارڈ کی قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ ۲۲-۲۰۲۱ء میں ایک بھی چھاپہ نہیں مارا گیاتھا ۔ وہیں ۲۱-۲۰۲۰ء میں ۴؍ ہزار ۷۳۳ ، ۲۲-۲۰۲۳ءمیں۱۱؍ہزار، ۲۴-۲۰۲۳ء میں ۵؍ ہزار ۸۷ اور ۲۵-۲۰۲۴ء میں ۵؍ ہزار ۴۰۳؍ چھاپے مارے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۵؍ اگست سے ٹریفک کے چھوٹے موٹے قوانین کی خلاف ورزی پر کیس درج نہیں ہوگا
تکارام منڈے کن عہدوں پرفائز رہ چکے ہیں
واضح ہو کہ تکا رام منڈے نے ایف ڈی اے سربراہ بننے سے قبل جن شعبوں میں خدمات انجام دی ہیں، ان میں امراوتی میں بطور پروجیکٹ آفیسر ،ناندیڑ میں اسسٹنٹ کلکٹر ،ناگپور ضلع پریشد میں سی ای او،ناسک میں ایڈیشنل ٹرائبل کمشنر ،واشم میں سی ای او ضلع پریشد ،جالنہ اور شولاپور میں ڈسٹرکٹ کلکٹر، مہاراشٹر سیلس ڈپارٹمنٹ میں جوائنٹ کمشنر ، نوی ممبئی میں میونسپل کمشنر کے علاوہ دیگر شعبے شامل ہیں ۔یہ بھی واضح رہے کہ تکارام منڈے کی سربراہی میں ایف ڈی اے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر نہ صرف ہوٹلوں اور ریسٹورنٹ بلکہ دودھ ڈیریوں ، گٹکا پان مسالہ سیلرس ،فوڈ ویئر ہاؤسس مینو فیکچرس اور بیکریاں بھی شامل ہیں ۔