Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہوٹلوں، کینٹین اور کیٹرنگ کیخلاف ایف ڈی اے کی ریاست گیر مہم

Updated: June 26, 2026, 12:09 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

فوڈ سیفٹی سے متعلق نئے رہنما خطوط جاری، ۲ء۱؍ ملین کھانے پینے کےاداروںکے معائنہ کامنصوبہ ،ہوٹل مالکان کودشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

FDA Commissioner Takaram Munde has issued new food safety guidelines. (File photo)
ایف ڈی اے کے کمشنر تکارام منڈے نے فوڈسیفٹی کے نئے رہنما خطوط جاری کئے ہیں۔(فائل فوٹو)

فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن ( ایف ڈی اے) نے فوڈ سیفٹی    سے متعلق ریاست گیر مہم شروع کی ہے ۔ اس دوران کھانے پینے کی جگہوں، کلاؤڈ کچن اور دیگر فوڈ سروس  والے اداروں کے معائنے کے ساتھ حفظان صحت کے اُصولوں پر عملدرآمد کی جانچ جائے گی۔ ایف ڈی اے کے کمشنر تکارام منڈے نے اس تعلق سے نئے رہنما خطوط جاری کئے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ فوڈ سروس کے ادارے رجسٹر کئے جائیں یا دکان بند کر دیں۔ کھانے کی ذخیرہ اندوزی، کھانا پکانے اور اس کی دیکھ ریکھ سے متعلق دفعات پہلے سے موجود ہیں۔ اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو عمرقید کی سزا 

یا۱۰؍لاکھ روپے تک جرمانہ  عائد کیا جاسکتا ہے۔ ایف ڈی اے کی کارروائی سے ہوٹل اور ریسٹورنٹ والے پریشان ہیں ۔واضح رہے کہ ’’محفوظ کھانا، صحت مند مہاراشٹر ‘‘کے عنوان سے یہ مہم  ریاست کے ۱ء۲؍ ملین رجسٹرڈ فوڈ سروس اسٹیبلشمنٹ سمیت  تمام فوڈ سروس فراہم کرنے والوں کا احاطہ کرے گی۔ ایف ڈی اے اہلکار کھانے کے مناسب ذخیرے، اس کی ہینڈلنگ اور کھانا پکانے کے طریقوں کیلئے دستیاب سہولیات کا معائنہ کریں گے ۔

یہ بھی پڑھئے: اسمارٹ میٹر کے خلاف کانگریس اور ودربھ اسٹیٹ سمیتی کا احتجاج

مہم کے دوران ریستورانوں، ہوٹلوں، کیفے ٹیریاز، کینٹین، کیٹرنگ یونٹس، بینکوئٹ ہالز، سینٹرل کچن، کلاؤڈ کچن اور ای کامرس فوڈ پلیٹ فارمز کا معائنہ کیا جائے گا۔ اس دوران فوڈسیفٹی کے اصولوں کی خلاف ورزی مثلاً کیڑوں سے متاثرہ کچن، اناج کا ذخیرہ کرنے کےغیر مناسب طریقوں ، کھانا پکانے کے تیل کا دوبارہ استعمال، کھانا پکانے والے غیرتربیت یافتہ افراد اور صارفین کو   پینے کا پانی مفت فراہم کرنے سے منع کرنے جیسے معاملات پر کارروائی کی جائے گی۔

اس مہم کے تحت مذکورہ اداروں میں مراٹھی اور انگریزی میں نوٹس آویزاںکرنے کی ضرورت ہوگی جو صارفین کو سہولت کے بارے میں مطلع کریں گے ۔ اس کے علاوہ  ہوٹلوں اور دیگر اسٹیبلشمنٹ کو کھانے   بنانے والوں کی صحت کی سالانہ جانچ کو یقینی بنانے، ذاتی حفظان صحت کے معیارات کو برقرار رکھنے اور  کھانا جس جگہ پر پکایا جاتا ہے ، اس علاقے میں گٹکا، تمباکو اور پان کھانے اورتھوکنے کی اجازت نہیں ہوگی  ساتھ ہی کھانے کو اخبارات کے بجائے بٹر پیپر اور منظور شدہ کنٹینروں میں باندھ کر دیاجائے ۔ ای کامرس پلیٹ فارمز کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ڈیلیوری تربیت یافتہ اہلکاروں کے ذریعہ کی جائے ۔ دیگر لازمی طریقوں میں کچے اور پکے ہوئے کھانے کا الگ ذخیرہ کرنا ،سبزی اور غیر سبزی خور کھانے کی نشاندہی کرنا  اور صرف لائسنس یافتہ سپلائروں سے خام مال خریدناشامل ہے ۔

ایف ڈی اے کے کمشنر تکارام منڈے کے مطابق ’’یا تو فوڈ سروس کے ادارے رجسٹر کریں یا وہ دکان بند کر دیں۔ کھانے کی ذخیرہ اندوزی، کھانا پکانے اور ہینڈلنگ سے متعلق دفعات پہلے سے موجود ہیں۔ اس پرعملدرآمد میں ناکامی پر عمر قید یا ۱۰؍ لاکھ روپے تک جرمانہ  عائد کرنے کی دفعات لگائی جاسکتی ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: لوکل ٹرین میں نوجوان کے بہیمانہ قتل کا معاملہ اسمبلی اجلاس میں گونجا

اس بارے میں چرنی روڈپر واقع ’وائس آف انڈیا ریسٹورنٹ‘ کے مالک معظم دبیر نے اس نمائندے کو بتایا کہ ’’ایف ڈی اےکی مذکورہ کارروائی نئی نہیں ہے بلکہ اب نئے رہنما خطوط کے تحت کھانےپینے کا سامان فروخت کرنے والی دکانوں اور ہوٹلوں کی جانچ شروع کی گئی ہے ۔ ایف ڈی اے کی اتنی شرائط ہیں کہ ان کے مطابق کام کرنا مشکل ہے،اس کے باوجود ممکنہ کوشش ہے کہ اہم قوانین کی خلاف ورزی نہ ہو۔‘‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ہماری مجگائوں کی ایک ہوٹل پر ایف ڈی اے اہلکار جانچ کیلئے آئے تھے ۔ تمام کوشش کےباوجود انہیںہم ان کی مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کرسکے۔ اس طرح کی کارروائی سے پریشانی بڑھی ہے۔‘‘

’آہار‘ کے رکن عتیق رسول کے مطابق ’’ایف ڈی اے کی مہم سے ’آہار‘ کے رجسٹرڈ اراکین کو زیادہ پریشانی نہیں ہوگی کیونکہ ’آہار‘ کےبیشترممبرایف ڈی اے کےقوانین کےمطابق کاروبار کرتے ہیں اورکھانےپینےکا جو بھی سامان خریدتےہیں مثلاً اگر کوئی ہوٹل والا پنیرخریدتاہے تواس کا بل دکاندار سے ضرور لیتاہے تاکہ کسی طرح کا مسئلہ ہونےپر وہ بل پیش کرسکے۔ پریشانی ان دکانداروںکو ہوگی جو بغیر لائسنس کاروبار کرتے اور فوڈ سیفٹی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتےہیں ۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK