بھوئی واڑہ میں بنائے گئے حراستی مرکز میں بیک وقت ۸۰؍ افراد کو رکھنے کی گنجائش،دوسرا نوی ممبئی کے بالے گاؤں میں بنے گا۔
EPAPER
Updated: April 20, 2026, 9:51 AM IST | Mumbai
بھوئی واڑہ میں بنائے گئے حراستی مرکز میں بیک وقت ۸۰؍ افراد کو رکھنے کی گنجائش،دوسرا نوی ممبئی کے بالے گاؤں میں بنے گا۔
ممبئی (آئی این این): ملک بھر میں ’’بنگلہ دیشی‘‘ کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی شرانگیز مہم کے دوران ممبئی میں غیر قانونی مہاجرین ’’دراندازوں‘‘ کو ملک بدر کرنے سے قبل رکھنے کیلئے پہلا ڈٹینشن سینٹر(حراستی مرکز) بھوئی واڑہ میں قائم اور فعال ہوگیا ہے۔ ’اِستھان بد ّھتا کیندر‘‘ کے نام سے بنائے گئے اس ڈٹینشن سینٹر میں ۴۰؍ ’’بنگلہ دیشی‘‘ شہری رکھے گئے ہیں جو ملک بدری کے منتظر ہیں۔
ممبئی میں غیر قانونی غیر ملکی مہاجرین کیلئے ڈٹینشن سینٹر کی تجویز ۲؍ سال قبل پیش کی گئی تھی۔ بھوئی واڑہ میں قائم یہ مرکز انتظامی تنازعات کی وجہ سے معرض وجود میں آنے کے باوجود طویل عرصے سے غیر فعال تھا جبکہ پولیس کو ایسے زیر حراست افراد کو رکھنے میں دشواری پیش آ رہی تھی جنہیں ہندوستانی نہ ہونے کی وجہ سے گرفتار کیاگیاتھا۔ا یسے افراد کو جیلوں میں نہیں رکھا جا سکتا تھا کیونکہ ان پر کوئی فوجداری مقدمہ نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھئے: کلیان: ہائی پروفائل ٹاؤن شپ میں پانی کی شدید قلت
عروس البلاد ممبئی میں بھی ’دراندازوں‘ کے خلاف کس تیزی سے مہم چلائی جارہی ہے،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ صرف۲۰۲۵ء میں پولیس نے ایک ہزار سے زائد افراد کو ’’درانداز‘‘ ہونے کے الزام میں حراست میں لے کر ملک بدر کیا ہے۔ ’بنگلہ دیشی‘ قرار دیئے گئے ان افراد میں سے کئی کو عارضی طور پر پولیس تھانوں میں رکھا گیا۔ ۲۶؍ مارچ کو کھولے گئے بھوئی واڑہ کے ڈٹینشن سینٹر میں بیک وقت ۸۰؍ افراد کو رکھنے کی گنجائش ہے ۔ یہ مرکز سوشل ویلفیئر محکمہ کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ اس کی داخلی سیکوریٹی مہاراشٹر اسٹیٹ سیکوریٹی فورس کے پاس ہے۔ باہر پولیس پہرہ دیتی ہے۔ ۲؍ منزلہ ڈٹینشن سینٹر کی ہر منزل پر ۲۰؍کمرے ہیں، جن میں بنک بیڈ لگے ہوئے ہیں۔ بنک بیڈ کو سادہ الفاظ میں کئی منزلہ پلنگ بھی کہہ سکتے ہیں۔ڈٹینشن سینٹر کو مردوں اور خواتین کیلئے الگ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
مجموعی طور پر اس میں ۶۰؍ مردوں اور ۲۰؍ خواتین کی گنجائش ہے۔ حکام کے مطابق زیر حراست افراد کو اس وقت تک یہاں رکھا جائے گا جب تک انہیں انڈو-بنگلہ دیش سرحد پر لے جا کر ملک بدر نہ کر دیا جائے۔ اس دوران انہیں یہاں کھانا، باتھ روم اور بستر جیسی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ حکام کے مطابق ڈٹینشن سینٹر کو اس خیال کے ساتھ بنایاگیاتھا کہ مرد افراد زیادہ زیر حراست ہوں گے لیکن خواتین کی تعداد زیادہ ہے جس کی وجہ سے ڈٹینشن سینٹڑ میں خواتین کیلئے گنجائش کم پڑ گئی ہے، نتیجتاً بھیڑ بڑھ گئی ہے اور کچھ خواتین کو پولیس تھانوں میں رکھنا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: پیدائش سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں تساہلی، شہریوں کو پریشانیوں کا سامنا
اعداد و شمار کے مطابق۲۰۲۵ء میں ایک ہزار ۶۰؍ سے زائد بنگلہ دیشی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا جبکہ اس سال مارچ کے آخر تک تقریباً۴۰۰؍ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جن میں۲۲۰؍ کو ممبئی پولیس اور۱۸۰؍ کو پولیس کی دیگر اکائیوں نے حراست میں لیا ہے۔
یاد رہے کہ جولائی۲۴ء میں مہاراشٹر حکومت نے ’دراندازوں‘کیلئے بھوئی واڑا میں ۸۰؍ افراد کی گنجائش والے عارضی مرکز اور نوی ممبئی کے بالے گاؤں ایس آر پی ایف گراؤنڈ میں۲۱۳؍ افراد کی گنجائش والے مستقل حراستی مرکز کومنظوری دی تھی۔ نوی ممبئی میں ٹینڈر کا عمل مکمل ہوچکا ہے مگر ڈٹینشن سینٹر ابھی تیار نہیں ہوا۔