Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان: ہائی پروفائل ٹاؤن شپ میں پانی کی شدید قلت

Updated: April 19, 2026, 11:26 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

مکینوں کا شدید احتجاج، ٹینکروں سے پانی منگانے پر مجبور۔

Birla Vaniya Township where residents are worried about water shortage. Photo: INN
برلا ونیا ٹاؤن شپ جہاں پانی کی قلت سے مکین پریشان ہیں۔ تصویر: آئی این این

شہاڈ میں واقع ہائی پروفائل رہائشی منصوبہ برلا ونیا ٹاؤن شپ ان دنوں پانی کی شدید قلت کی زد میں ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے جاری پانی کے بحران نے مکینوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے جس کے خلاف برہم  مکینوں نے سڑکوں پر اتر کر بلڈر اور انتظامیہ کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ ۱۲۰۰؍ سے زائد خاندانوں پر مشتمل اس ٹاؤن شپ کے مکینوں کا الزام ہے کہ کروڑوں روپے کے فلیٹ خریدنے کے باوجود انہیں بنیادی سہولتوں کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانی پڑ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسکولوں میں مراٹھی کی تعلیم کے باقاعدہ اہتمام کا حکم

سنیچر کو برلا ونیا ٹاون شپ میں رہنے والے ہزاروں مکینوں نے پانی کی قلت  سےپریشان ہوکر احتجاج کیا۔اس موقع پر مکینوں نے کہا کہ گھروں کی فروخت کے وقت بلڈر نے ۲۴؍ گھنٹے پانی کی فراہمی کا بلند بانگ وعدہ کیا تھا لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مکینوں کا دعویٰ ہے کہ بلڈر نے ۲؍ سال کے لئے ایڈوانس مینٹیننس پہلے ہی وصول کر لئے ہیں اس کے باوجود  پانی سپلائی کا کوئی مستقل انتظام نہیں کیا گیا۔ ٹاؤن شپ کی سات بلند و بالا عمارتوں میں رہنے والے لوگ اب پوری طرح نجی واٹر ٹینکر کے رحم و کرم پر ہیں۔عیاں رہے کہ ۲۰۲۴ ءسے اس ٹاؤن شپ میں لوگوں نے رہائش اختیار کی تھی لیکن پروجیکٹ کا ایک بڑا حصہ اب بھی زیر تعمیر ہے۔ مکینوں کا غصہ اس بات پر بھی ہے کہ ابھی تک تعمیرات کی تکمیل کے سرٹیفکیٹ (سی سی) حاصل نہیں کئے گئے ہیں  اس کے باوجود بلڈر کی جانب سے مسلسل اضافی اخراجات کامطالبہ کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ججوں کو حکم اور فیصلوں کی کاپی اسی دن اَپ لوڈ کرنے کی ہدایت

مکینوں  کے احتجاج کی شدت کو دیکھتے ہوئے برلا اسٹیٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے ایک نمائندے نے کمپنی کے سی ای او سے فون پر رابطہ کروایا جنہوں نے مسئلہ جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ تاہم مکینوں نے اس زبانی تسلی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن ( کے ڈی ایم سی) کے محکمہ آب کے ایگزیکٹو  راجیو ڈاورے سے رجوع کیا۔حیرت انگیز طور پر انہوں  نے اس معاملے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس اب تک ایسی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی۔ البتہ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ وہ معاملے کی جانچ کر کے فوری حل نکالیں گے۔  اس پورے تنازع پر بلڈر کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی تو ان سے رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK