Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: پیدائش سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں تساہلی، شہریوں کو پریشانیوں کا سامنا

Updated: April 19, 2026, 11:21 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai

رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے تحصیل دار کو طلب کرکے فوری طور پر مسئلہ حل کرنے کیلئے کہا ورنہ سڑک پر اتر کر احتجاج کا انتباہ دیا۔

Samajwadi Party state president and MLA Abu Asim Azmi (right) discussing various issues of Bhiwandi. Photo: INN
سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی (دائیں) بھیونڈی کے مختلف مسائل پر بات چیت کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

شہر میں پیدائشی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا مسئلہ انتہائی سنگین صورت اختیار کر گیا ہے  جہاں ایک سال سے زائد عمر کے  بچوں کے سرٹیفکیٹ تقریباً بند ہو کر رہ گئے ہیں۔بچے کی پیدائش کے فوراً بعد اسپتال کے کاغذات کی مدد سے فوراً سرٹیفکیٹ بن جاتے ہیںلیکن اگرکسی وجہ سے سرٹیفکیٹ بنانے میں ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر جائے تو والدین کو سرٹیفکیٹ بنوانے میں دشواری پیش آرہی ہے۔بڑھتی ہوئی عوامی شکایات کے پیش نظر سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر  اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے تحصیلدار ابھیجیت گھولے کو پارٹی دفتر طلب کر کے اس مسئلے پر سخت نوٹس لیا اور فوری حل کا مطالبہ کیا۔ میٹنگ میں مقامی صدر انس انصاری، شاف مومن، ریاض اعظمی، احمد حسین صدیقی، یعقوب شیخ، اجے یادو سمیت دیگر ذمہ داران شریک تھے۔ اس موقع پر شاف مومن نے شہریوں کو درپیش مسائل نہایت مؤثر انداز میں پیش کرتے ہوئے انتظامیہ کی سست روی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھئے: لبیک کی صداؤں کے ساتھ عازمین حج کا پہلا قافلہ سوئے حرم روانہ

پیدائش سرٹیفکیٹ: نظام درہم برہم، شہری پریشان

  اطلاع کے مطابق  ایک سال کے بعد پیدائشی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا نظام مکمل طور پر الجھن کا شکار ہو چکا ہے۔ پہلے یہ اختیار عدالت کے پاس تھا، بعد ازاں نائب تحصیلدار کو دیا گیا اور اب دوبارہ تحصیلدار کے سپرد کر دیا گیا ہے مگر مسلسل بدلتے قوانین اور سخت حکومتی ہدایات (ایس او پی ) کے باعث گزشتہ ایک تا ۲؍ برس میں سرٹیفکیٹ کا خصول تعطل کا شکار ہے۔ شرکاء نے تحصیلدار کو بتایا کہ اس صورتحال نے خاص طور پر طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے کیونکہ اسکول، کالج داخلوں اور دیگر سرکاری امور کیلئے یہ دستاویز لازمی ہے۔ شہری ایک دفتر سے دوسرے دفتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں مگر کہیں سے واضح رہنمائی نہیں مل رہی۔

یہ بھی پڑھئے: ججوں کو حکم اور فیصلوں کی کاپی اسی دن اَپ لوڈ کرنے کی ہدایت

تحصیلدارنے ابوعاصم اعظمی اور دوسرے لیڈران کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے جاری سخت ایس او پی کے سبب اب ایک ایک دستاویز کو متعلقہ محکمہ سے ویری فکیشن کرنا پڑتا ہے جس سے بہت وقت صرف ہوتا ہے۔ نیز تعلقہ کا کام بھی ان کے ذمہ ہے۔ تحصیلدار ابھجیت کھولے نے مشورہ دیا کہ اگر درخواست گزار اپنے تعلیمی اور متعلقہ دستاویزات کی تصدیق خود متعلقہ اداروں سے کروا کر جمع کریں تو اس عمل کو تیز کیا جا سکتا ہے۔ اس میٹنگ میں راشن کارڈ صارفین اور پانی کے مسائل کو بھی پیش کیا گیا۔ تحصیلدار کو بتایا گیا کہ آن لائن سسٹم کی خامیوں کے باعث کئی خاندانوں کو مکمل راشن نہیں مل رہا، کیونکہ کارڈ اور پورٹل میں درج ناموں میں فرق پایا جا رہا ہے۔ راشن دفاتر میں بڑھتا ہجوم عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آلودگی کے باعث عدالتی حکم پر ورالا تالاب سے تقریباً ۵؍ایم ایل ڈی پانی کی فراہمی بند کر دی گئی،جس سے پرانی بھیونڈی کے کئی علاقوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ انتظامیہ نے اس کا متبادل ابھی تک تیار نہیں ہےجس سے شہریوں کو بہت تکلیف ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسکولوں میں مراٹھی کی تعلیم کے باقاعدہ اہتمام کا حکم

 مسئلہ حل نہ ہوا تو احتجاج 

ابو عاصم اعظمی نے انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پیدائشی سرٹیفکیٹ کے ساتھ دیگر مسائل کافوری طور پر حل کیا جائے کیونکہ یہ عوام کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر جلد پیش رفت نہ ہوئی تو عوامی سطح پر سخت احتجاج کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK