Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگلات کاربن جذب کرنے کی صلاحیت تیزی سے کھو رہے ہیں: این جی او کی وارننگ

Updated: June 30, 2026, 4:03 PM IST | Paris

فرانس کے جنگلات کے تحفظ کے ادارے کینوپی نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے جنگلات کی کاربن جذب کرنے کی صلاحیت مسلسل کم ہو رہی ہے، جس سے ۲۰۵۰ء تک کاربن غیر جانبداری (Carbon Neutrality) حاصل کرنے کا قومی ہدف خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ تنظیم کے مطابق درختوں کی بڑھتی ہوئی اموات، موسمیاتی تبدیلی، خشک سالی، کیڑوں کے حملوں اور لکڑی کی بڑھتی ہوئی کٹائی نے قدرتی کاربن سنک کو شدید متاثر کیا ہے۔ این جی او نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ لکڑی کی کٹائی محدود کرے اور جنگلات کے تحفظ کو موسمیاتی پالیسی کا مرکزی حصہ بنائے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

فرانسیسی جنگلات کے تحفظ کے ادارے کینوپی (Canopée) نے پیر کو خبردار کیا کہ ملک کے جنگلات تیزی سے کاربن جذب کرنے کی اپنی صلاحیت کھو رہے ہیں، جس سے فرانس کا ۲۰۵۰ء تک کاربن غیر جانبداری حاصل کرنے کا ہدف متاثر ہو سکتا ہے۔ غیر سرکاری تنظیم نے کہا کہ جنگلات کی کاربن جذب اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کا تحفظ، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی جتنا ہی اہم ہے، تاہم موسمیاتی پالیسی میں اس مسئلے کو اب بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ کاربن سنک وہ قدرتی یا مصنوعی نظام ہوتے ہیں جو فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے اسے ذخیرہ کرتے ہیں، جس سے ایسے اخراج کی تلافی میں مدد ملتی ہے جنہیں فوری طور پر ختم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھئے: یورپ کی شدید گرمی سیکڑوں اضافی اموات کی ذمہ دار ہو سکتی ہے: ڈبلیو ایچ او

رپورٹ کے مطابق فرانس کے جنگلات ملک کا سب سے بڑا قدرتی کاربن سنک ہیں، لیکن فرانس کی اخراج کی نگرانی کرنے والی ایجنسی Citepa کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ۲۰۰۰ء کی دہائی کے آغاز کے مقابلے میں جنگلات کی کاربن جذب کرنے کی صلاحیت نصف سے بھی زیادہ کم ہو چکی ہے۔ کینوپی نے اس کمی کی وجوہات میں درختوں کی بڑھتی ہوئی اموات، موسمیاتی تبدیلی کے باعث جنگلات کی سست رفتار نشوونما اور لکڑی کی کٹائی میں مسلسل اضافے کو ذمہ دار قرار دیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اگرچہ خشک سالی، شدید گرمی کی لہروں اور کیڑوں کے حملوں نے جنگلات کو کمزور کیا ہے، تاہم اس بحران کا ایک بڑا حصہ ایسے’’سیاسی فیصلوں‘‘ کا نتیجہ ہے جنہیں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: وزیراعظم مودی کا سیشیلز دورہ، ہند سیشیلز تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا عزم

کینوپی نے فرانس کی قومی کم کاربن حکمت عملی (SNBC) کے تازہ ترین مسودے پر بھی تنقید کی، جو اس وقت عوامی مشاورت کے مرحلے میں ہے۔ تنظیم کے مطابق اس مسودے میں ۲۰۳۰ء تک درختوں کی کٹائی میں ۱۳؍ فیصد سے زیادہ اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے جنگلات کی سالانہ کاربن جذب کرنے کی صلاحیت تقریباً ۱۱؍ ملین میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی کم ہو سکتی ہے۔ این جی او نے کہا کہ توانائی کی پیداوار کے لیے لکڑی کے استعمال میں اضافہ بھی جنگلات پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ اس نے حکومت پر زور دیا کہ وہ توانائی کے لیے لکڑی کے استعمال کی سرکاری حوصلہ افزائی کم کرے اور اس کے بجائے ایسے جنگلاتی طریقہ کار کو فروغ دے جو حیاتیاتی تنوع، ماحولیاتی نظام اور تعمیراتی لکڑی کی پائیدار پیداوار کو محفوظ رکھ سکیں۔

یہ بھی پڑھئے: یورپی ممالک میں گرمی کا قہر، تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے، نظام زندگی متاثر

کینوپی نے مطالبہ کیا کہ جنگلوں کی کٹائی محدود کی جائے اور ایسے نئے صنعتی منصوبوں پر روک لگائی جائے جو جنگلات پر مزید دباؤ ڈالیں۔ تنظیم کے مطابق اگر سالانہ کٹائی کو ۵۰؍ ملین مکعب میٹر تک محدود رکھا جائے تو فرانس ۲۰۳۰ء تک قدرتی کاربن سنک کے ذریعے کاربن جذب کرنے کے اپنے ہدف کے قریب پہنچ سکتا ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپی سطح پر بھی جنگلات کی کاربن جذب کرنے کی صلاحیت میں کمی پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ حال ہی میں شائع ہونے والے مطالعات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی کٹائی اور قدرتی آفات کے باعث یورپ کے جنگلات ۲۰۳۰ء کے موسمیاتی اہداف کے مطابق متوقع کاربن جذب کرنے کی صلاحیت سے نمایاں طور پر پیچھے رہ سکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK