ملر نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے نیتن یاہو پر عوامی طور پر “مکمل طور پر ہٹ دھرم” ہونے کا الزام لگانے پر غور کیا تھا لیکن پیچھے حماس کو ممکنہ فائدے کی وجہ سے ایسا نہیں کیا۔
EPAPER
Updated: August 23, 2025, 7:02 PM IST | Washington
ملر نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے نیتن یاہو پر عوامی طور پر “مکمل طور پر ہٹ دھرم” ہونے کا الزام لگانے پر غور کیا تھا لیکن پیچھے حماس کو ممکنہ فائدے کی وجہ سے ایسا نہیں کیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق ترجمان میتھیو ملر نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدوں میں بار بار رکاوٹ ڈالی ہے، جبکہ واشنگٹن نے جنگ بندی کے معاہدوں کو یقینی بنانے کی پوری کوشش کی۔ یہ انکشافات اس وقت سامنے آئے ہیں جب غزہ میں ۲۲ ماہ سے جاری اسرائیل کی جنگی کارروائیوں کے درمیان اقوام متحدہ کی طرف سے قحط کا اعلان کیا جا چکا ہے، جہاں پانچ لاکھ سے زائد فلسطینی بھوک کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وُلکر تُرک نے اسرائیل پر “جنگ کے ایک طریقہ کے طور پر بھوک کو استعمال کرنے” کا الزام لگایا ہے جو ایک ممکنہ جنگی جرم ہے۔
اسرائیل کے چینل ۱۳ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ملر نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے نیتن یاہو پر عوامی طور پر “مکمل طور پر ہٹ دھرم” ہونے کا الزام لگانے پر غور کیا تھا لیکن حماس کو فائدہ پہنچانے سے بچنے کیلئے اس سے پیچھے ہٹ گئی۔ ملر نے وضاحت کی کہ “ہم اسرائیلی حکومت سے بند دروازوں کے پیچھے بہت سخت بات کرنا چاہتے تھے، لیکن بالآخر ایسا کچھ بھی نہیں کیا جو معاہدہ حاصل کرنا مزید مشکل بنا دیتا۔“
ملر نے اپریل ۲۰۲۴ء کے مذاکرات کا حوالہ دیا جب امریکہ نے حماس پر زور دیا تھا کہ وہ رفح میں اسرائیل کے منصوبہ بند حملے کو موخر کرنے کیلئے ۶ ہفتوں کی جنگ بندی قبول کرے۔ تاہم، نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ اسرائیل رفح میں داخل ہوگا ”خواہ کوئی جنگ بندی ہو یا نہ ہو۔“ ملر نے کہا کہ اس اقدام نے ثالثی کے اثر کو کمزور کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ”آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اس سے ایک معاہدہ حاصل کرنا کتنا مشکل ہو گیا۔“
یہ بھی پڑھئے: ڈچ وزیر خارجہ کیسپر ویلڈ کیمپ کا اسرائیل پر پابندیوں پر اختلاف کے بعد استعفیٰ
گزشتہ سال مئی تک صدر جو بائیڈن نے نیتن یاہو کو ایک عارضی معاہدے کی تفصیلات کا عوامی طور پر اعلان کرکے انہیں معاہدے میں شامل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اسرائیلی حکام نے فوراً ہی لیک کر دیا کہ بائیڈن نے نیتن یاہو کے موقف کو غلط انداز میں پیش کیا تھا، جس سے پیش رفت سست ہو گئی۔ حماس نے بعد میں امریکی تجاویز پر مثبت ردعمل ظاہر کیا، پھر بھی نیتن یاہو نے تقریباً ایک ماہ تک تاخیر کی اور اس کے بعد یہ مطالبہ کیا کہ اسرائیلی فوجی غزہ کے فلاڈیلفی کوریڈور میں ہی رہیں۔ ملر کے مطابق، اس شرط نے تقریباً حتمی مذاکرات کو ختم کر دیا۔ ملر نے مزید کہا کہ ”یہ اس طرز عمل کے مطابق تھا جو ہم نے کئی مہینوں سے دیکھا ہے۔ وہ ہمیشہ شرائط شامل کرنے یا شرائط کو مزید مشکل بنانے کے طریقے تلاش کر رہے تھے۔ یہ شاید سب سے زیادہ مایوس کن تھا کیونکہ ہم ایک ایسے معاہدے کو حاصل کرنے کے بہت قریب تھے جو یرغمالیوں کو گھر واپس لا سکتا تھا اور شاید جنگ کو ختم کر سکتا تھا۔“
چینل ۱۳ نے مزید رپورٹ کیا کہ نیتن یاہو نے ۲۰۲۴ء کے آخر میں شن بیت کی ایک تجویز کو روک دیا، جس کا مبینہ مقصد ڈونالڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس واپس آنے تک وقت حاصل کرنا تھا۔ ملر نے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو بھی یاد کیا کہ انہوں نے اسرائیل کی جنگی کابینہ کو خبردار کیا تھا کہ جنگ کے بعد کے منصوبے کے بغیر، تنازع لامتناہی شورش کو ہوا دے سکتا ہے۔ نیتن یاہو نے مبینہ طور پر جواب دیا: ”ہم اس جنگ کو آنے والی کئی دہائیوں تک لڑتے رہیں گے۔ یہ اسی طرح رہے گا۔“
یہ بھی پڑھئے: مغربی کنارے میں "ای ون" پر اسرائیلی قبضے کی یورپی یونین سمیت ۲۰ ممالک نے مذمت کی
نیتن یاہو کے اس عوامی دعوے کے باوجود کہ حماس نے یرغمالیوں کے مذاکرات کو روکا، امریکی حکام نے نجی طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیلی لیڈر نے بار بار جنگ بندی کی پیش رفت کو پٹری سے اتارا ہے۔ لیکن اسرائیل کیلئے امریکی حمایت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے، یہاں تک کہ امریکہ کی اسرائیل کو ۸ء۳ ارب ڈالر کی سالانہ امداد برقرار ہے۔
غزہ نسل کشی
جنگ بندی کی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیل نے ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے غزہ پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہیں جس کے نتیجے میں ۶۲ ہزار ۳۰۰ سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ فلسطین کی سرکاری نیوز ایجنسی ’وفا‘ کے مطابق، تقریباً ۱۱ ہزار فلسطینی تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اموات کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اور ممکنہ طور پر ۲ لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ اس نسل کشی کے دوران، اسرائیل نے محصور علاقے کے بیشتر حصے کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے اور اس کی تمام آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔ اسرائیلی قابض افواج کی مسلسل بمباری کے باعث غزہ پٹی میں خوراک کی شدید قلت اور بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار ہاویئر بارڈیم نے اسرائیلی فوج کو نازیوں سے تشبیہ دی
گزشتہ سال نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف اسرائیل کی غزہ پر جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا حوالہ دیتے ہوئے گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے تھے۔ اس کے علاوہ، اسرائیل بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں بھی نسل کشی کے مقدمے کا سامنا کر رہا ہے۔