Updated: February 09, 2026, 9:55 PM IST
| Paris
فرانس میں ایک غیر معمولی فوجداری مقدمے نے فورنسک سائنس اور عدالتی نظام کو ایک سخت امتحان میں ڈال دیا ہے۔ جڑواں بھائیوں پر دو افراد کے قتل کا الزام ہے، مگر چونکہ دونوں کا ڈی این اے مکمل طور پر ایک جیسا ہے، اس لیے عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ ان میں سے قاتل کون ہے؟
فرانس کی بوبینی اسائز کورٹ میں ان دنوں ایک منفرد مقدمہ زیرِ سماعت ہے، جہاں جڑواں بھائیوں پر دوہرے قتل اور قتل کی متعدد کوششوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ قتل کا ایک غیرمعمولی مقدمہ ہے۔ قتل میں استعمال ہونے والے ہتھیار پر ملنے والا ڈی این اے دونوں بھائیوں سے مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے، جس کے باعث یہ تعین کرنا ممکن نہیں ہو سکا کہ اصل میں فائرنگ کس نے کی۔ پراسیکیوٹرز کے مطابق یہ واقعہ ستمبر ۲۰۲۰ء میں پیرس کے نواحی علاقے میں پیش آیا، جہاں دو نوجوانوں کو ایک انڈرگراؤنڈمقام پر گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ کچھ ہفتوں بعد اسی گروہ سے منسلک ایک اور واقعے میں متعدد افراد پر فائرنگ کی گئی، جسے قتل کی کوشش قرار دیا گیا۔ تفتیش کے دوران پولیس نے اسلحہ برآمد کیا، مگر فورنسک جانچ نے ایک ایسا مسئلہ کھڑا کر دیا جو عام قتل مقدمات میں شاذ و نادر ہی سامنے آتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تھائی لینڈ انتخابات: بھوم جے تھائی پارٹی کو فیصلہ کن فتح، نیا حکومتی دور متوقع
فورنسک ماہرین کے مطابق دونوں ملزمان مونوزائیگوٹک (identical) جڑواں ہیں، یعنی وہ ایک ہی فرٹیلائزڈ انڈے سے پیدا ہوئے اور ان کا جینیاتی خاکہ مکمل طور پر یکساں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلحے، گولیوں اور دیگر شواہد پر موجود ڈی این اے یہ ثابت نہیں کر پا رہا کہ جرم کس نے انجام دیا۔ عدالت میں پیش کردہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف ڈی این اے کی بنیاد پر کسی ایک بھائی کو براہِ راست قاتل قرار دینا سائنسی طور پر ممکن نہیں۔ دوسری جانب، تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ دونوں بھائی اکثر ایک دوسرے کی شناخت استعمال کرتے تھے، یعنی لباس، موبائل فون اور رہائشی مقامات تک کا تبادلہ کیا جاتا رہا، جس سے گواہوں کے بیانات بھی متضاد ہو گئے۔ کئی گواہ یہ تو بتا سکے کہ جائے وقوعہ پر ’’ان میں سے ایک‘‘ موجود تھا، مگر کوئی یہ نہیں بتا سکا کہ وہاں کون سا بھائی تھا۔
یہ بھی پڑھئے: پرتگال صدارتی انتخاب: اینٹونیو جوزے سگیرو ۶۶؍ فیصد ووٹ سے فاتح
استغاثہ کا مؤقف ہے کہ اگرچہ یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ گولی کس نے چلائی، تاہم دونوں بھائی مشترکہ طور پر جرم میں ملوث تھے اور فرانسیسی قانون کے تحت مشترکہ نیت اور شراکت بھی مجرمانہ ذمہ داری قائم کرنے کے لیے کافی ہے۔ اسی بنیاد پر دونوں کے خلاف قتل کے الزامات برقرار رکھے گئے ہیں۔ دفاعی وکلا نے اس مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عدالت یہ ثابت نہیں کر سکتی کہ اصل قاتل کون ہے، تو سزا دینا انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہوگا۔ ان کے مطابق، اس مقدمے میں عدالت کو یہ طے کرنا ہوگا کہ کیا سائنسی ابہام کی صورت میں شک کا فائدہ ملزمان کو دیا جانا چاہیے یا اجتماعی شواہد کو کافی سمجھا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: صومالی لینڈ میں اسرائیلی فوجی اڈا قبول نہیں، ہرقیمت پر مزاحمت کریں گے: صدر
قانونی ماہرین کے مطابق، یہ مقدمہ صرف دو افراد کے جرم کا فیصلہ نہیں بلکہ ڈی این اے شواہد کی حدود پر بھی ایک اہم عدالتی مثال قائم کر سکتا ہے۔ اب تک جدید عدالتی نظام میں ڈی این اے کو فیصلہ کن ثبوت سمجھا جاتا رہا ہے، مگر یہ کیس ظاہر کرتا ہے کہ بعض انسانی حالات میں سائنس بھی حتمی جواب فراہم نہیں کر پاتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عدالت میں سماعت کے دوران دونوں بھائیوں کے رویے نے مقدمے کی سنگینی اور پیچیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ان کے بیانات بدلتے رہتے ہیں جن کی بنیاد پر ان کی باتوں میں سچ اور جھو ٹ میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس منفرد اور پیچیدہ مقدمہ کا فیصلہ جلد ہی متوقع ہے۔ قانونی حلقوں میں اس بات پر اتفاق ہے کہ فیصلہ جو بھی آئے، یہ مقدمہ فرانسیسی عدالتی تاریخ میں ایک نظیر کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ ایک ایسے مقدمہ کے طور پر جہاں سوال یہ نہیں تھا کہ جرم ہوا یا نہیں، بلکہ یہ کہ جب قاتل کا ڈی این اے دو افراد سے یکساں ہو تو انصاف کیسے کیا جاتا ہے۔