Updated: July 22, 2026, 3:04 PM IST
| Paris
فرانسیسی حکومت کے پیش کردہ ٹائم لائن کے تحت، ستمبر سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کیلئے کم عمر بچوں کے نئے اکاؤنٹس بنانے پر پابندی لگانا لازمی ہوگا۔ اس کے بعد جنوری ۲۰۲۷ء تک کم عمر بچوں کے موجودہ اکاؤنٹس کو معطل کر دیا جائے گا۔ اس سے قبل، ٹیک کمپنیوں، پرائیویسی ریگولیٹرز اور حکومتی اداروں کے سامنے ایک بڑا سوال یہ ہے کہ صارف کی عمر کی آن لائن تصدیق کا ایک قابلِ اعتماد طریقہ کیا ہوسکتا ہے؟
فرانس میں ۱۵ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی پر پابندی کا قانون حتمی مراحل میں ہے۔ صدر ایمانوئل میکرون کی حمایت یافتہ اس قانون کا مقصد نوجوانوں کی ذہنی صحت کا تحفظ کرنا اور سائبر بؤلنگ (آن لائن ہراسانی) کو کم کرنا ہے۔ تاہم، یہ منصوبہ ایک بڑے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے کہ صارف کی پرائیویسی سے سمجھوتہ کئے بغیر اس کی عمر کی درست تصدیق کیسے کی جائے۔
فرانسیسی حکومت کے پیش کردہ ٹائم لائن کے تحت، ستمبر سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کیلئے کم عمر بچوں کے نئے اکاؤنٹس بنانے پر پابندی لگانا لازمی ہوگا۔ اس کے بعد جنوری ۲۰۲۷ء تک کم عمر بچوں کے موجودہ اکاؤنٹس کو معطل کر دیا جائے گا۔ اس سے قبل، ٹیک کمپنیوں، پرائیویسی ریگولیٹرز اور حکومتی اداروں کے سامنے ایک بڑا سوال یہ ہے کہ صارف کی عمر کی آن لائن تصدیق کا ایک قابلِ اعتماد طریقہ کیا ہوسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب انہیں ابھی تک نہیں مل پایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: چیک جمہوریہ: اسکولوں میں موبائل فون پر پابندی کا فیصلہ، ۲۰۲۷ء سے نفاذ
کیا حکومت کا جاری کردہ شناختی کارڈ مددگار ثابت ہوسکتا ہے؟
صارفین سے پاسپورٹ یا ڈرائیونگ لائسنس اپ لوڈ کرنے کا مطالبہ کرنا عمر کا درست ثبوت فراہم کرتا ہے، لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ طریقہ پرائیویسی سے جڑے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔ اس پر عمل آوری سے صارفین کا ڈیٹا لیک ہوسکتا ہے، پرائیویسی کے تئیں حساس صارفین کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے اور اپنے بڑے رشتہ داروں یا دوستوں کی دستاویزات استعمال کرکے نوعمر صارفین اس طریقہ کار کو آسانی سے دھوکہ دے سکتے ہیں۔ آسٹریلیا نے اسی طرح کے پرائیویسی تحفظات کا حوالہ دیتے ہوئے، دسمبر میں متعارف کرائے گئے قانون کے تحت پلیٹ فارمز کو حکومتی شناختی کارڈ مانگنے سے روک دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا جھٹکا، امریکی اے آئی سیفٹی ادارے کے سربراہ مستعفی
بایومیٹرک کے ذریعے عمر کا تخمینہ
چہرے کے خدوخال کی بنیاد پر عمر کا تخمینہ لگانے والے ’فیشل اسکیننگ‘ ٹولز شناختی دستاویزات کو محفوظ رکھنے کی ضرورت کو ختم کرتے ہیں۔ تاہم، یہ سسٹمز اکثر ان نوجوانوں کیلئے غلط نتائج دیتے ہیں جن میں تیزی سے جسمانی تبدیلیاں آ رہی ہوتی ہیں۔ یورپی یونین کے ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کے تحت فیشل اسکیننگ پر سخت پابندیاں بھی عائد ہیں۔
تھرڈ پارٹی بروکرز
صارفین کی عمر کی تصدیق کیلئے بینکوں یا تھرڈ پارٹی ڈجیٹل آئیڈینٹی ایپس کا استعمال کرنے کا متبادل بھی زیر غور ہے، جس میں یورپی کمیشن کا تیار کردہ ایک سسٹم بھی شامل ہے۔ یہ طریقہ کار ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز سے ذمہ داری ہٹا دیتا ہے، تاہم یورپی ممالک میں اس کا اطلاق تاحال غیر مستحکم رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی امیگریشن سختیوں سے ٹیکنالوجی کا مستقبل خطرے میں، ونود کھوسلہ کا انتباہ
چیلنج ہنوز برقرار
قانون ساز لور ملر اور فرانسیسی ڈجیٹل حکام کے مطابق، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو منظور شدہ تصدیقی ٹولز کا انتخاب کرنے میں لچک کی اجازت ہوگی۔ تاہم، جب تک پورے یورپی یونین میں ایک قابلِ اعتماد اور پرائیویسی دوست معیار اختیار نہیں کر لیا جاتا، تب تک بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود کرنے کے فرانس کے منصوبے کو عملی میدان میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔