Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی امیگریشن سختیوں سے ٹیکنالوجی کا مستقبل خطرے میں، ونود کھوسلہ کا انتباہ

Updated: July 21, 2026, 4:05 PM IST | New York

امریکہ کے معروف سرمایہ کار ونود کھوسلہ نے نئی امیگریشن پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی طلبہ اور ہنرمند افراد پر سختیاں مستقبل میں امریکی ٹیکنالوجی اور معیشت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی صلاحیتوں کی حوصلہ شکنی سے امریکہ اپنی اختراعی برتری کھو سکتا ہے جبکہ باصلاحیت طلبہ دیگر ممالک کا رخ کریں گے۔

Vinod Khosla. Photo: X
ونود کھوسلہ۔ تصویر: ایکس

سلیکن ویلی کے معروف سرمایہ کار اور وینچر کیپیٹلسٹ ونود کھوسلہ نے امریکی حکومت کے نئے امیگریشن قانون پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ٹیکنالوجی اور جدت کے میدان میں امریکہ کی مستقبل کی برتری کمزور ہو سکتی ہے۔ ایکس پر ہوور انسٹی ٹیوشن کی ایک پوسٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے کھوسلہ نے کہا کہ امریکہ بین الاقوامی طلبہ اور باصلاحیت پیشہ ور افرادکیلئے تعلیم حاصل کرنے اور ملک میں رہنے کو مشکل بنا کر اپنی ہی مستقبل کی مسابقت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے لکھا:’’یہ افسوسناک ہے کہ ہم امریکہ کی مستقبل کی مسابقت اور صلاحیت کو کس قدر نقصان پہنچا رہے ہیں۔ زیادہ تر لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ میں ٹیکنالوجی کی جدت اور اسی کے نتیجے میں جی ڈی پی کی ترقی کا بڑا حصہ غیر ملکی صلاحیتوں سے آتا ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو جدت اور اقتصادی ترقی میں یقینی طور پر کمی آئے گی۔ ‘‘

قانونی امیگریشن کے حامی رہے ہیں ونود کھوسلہ
ہندوستان سے امریکہ منتقل ہونے والے اورکھوسلہ وینچرز کے بانی ونود کھوسلہ طویل عرصے سے ہنر مند قانونی تارکینِ وطن کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ جولائی ۲۰۲۵ء میں بلومبرگ گرین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’’صلاحیت ہی ہر چیز کو آگے بڑھاتی ہے۔ ‘‘ ان کے مطابق حکومت کی سخت امیگریشن پالیسیاں امریکہ کی مصنوعی ذہانت (AI) اور موسمیاتی ٹیکنالوجی میں عالمی مسابقت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ یہ پابندیاں توانائی کی قلت یا صاف توانائی پر ٹیکس مراعات میں کمی سے بھی زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں، کیونکہ اس سے باصلاحیت افراد دوسرے ممالک میں اپنا مستقبل تلاش کریں گے۔ اگرچہ کھوسلہ قانونی امیگریشن کے مضبوط حامی ہیں، لیکن وہ غیر قانونی امیگریشن کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔ ۲۰۲۴ءمیں ایکس پر انہوں نے خود کو ’’انتہائی امیگریشن نواز، کیونکہ میں خود بھی ایک تارکِ وطن ہوں ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ قانونی اور مکمل جانچ کے بعد ہونے والی امیگریشن امریکہ کی سب سے بڑی طاقت ہے، جبکہ غیر قانونی امیگریشن کو روکنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بیلجیم : مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے سامان کی درآمد پر پابندی کی منظوری

ٹیکنالوجی شعبے میں بڑھتی ہوئی تشویش
کھوسلہ کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ٹیکنالوجی کے شعبے میں یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ امریکہ اپنی سب سے بڑی طاقت، یعنی دنیا بھر سے باصلاحیت افراد کو اپنی جانب راغب کرنے کی صلاحیت، کھوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے غیر ملکی طلبہ اور پیشہ ور افراد نے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے نئی کمپنیاں قائم کیں، تحقیقی منصوبوں کی قیادت کی، جدید ٹیکنالوجیز تیار کیں اور ہزاروں پیٹنٹس حاصل کئے۔ امریکی یونیورسٹیزبھی تحقیق اور مالی وسائل کیلئےبڑی حد تک بین الاقوامی طلبہ پر انحصار کرتی رہی ہیں، کیونکہ ان کی فیسیں تعلیمی پروگراموں کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کاروباری رہنما اور تعلیمی ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں کمی جاری رہی تو امریکہ مستقبل میں ہنر مند افرادی قوت، محققین، موجدوں اور کاروباری شخصیات سے محروم ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ باصلاحیت طلبہ امریکہ کے بجائے کنیڈا، برطانیہ یا ایشیا کے مختلف ممالک کا رخ کر سکتے ہیں، جس سے ان ممالک کی معیشتیں مضبوط ہوں گی۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: بے گھر ہونے والے فلسطینی بچوں میں چکن پاکس پھیل رہا ہے؛ شہری و طبی انفراسٹرکچر کی تباہی اہم وجہ

بین الاقوامی طلبہ کیلئے کیا تبدیلی آئی ہے؟
تقریباً پچاس برس تک ایف ون تعلیمی ویزا اور جے ون ایکسچینج ویزا رکھنے والے طلبہ کو ’’Duration of Status (D/S)‘‘ نظام کے تحت امریکہ میں رہنے کی اجازت حاصل تھی۔ اس نظام کے تحت طلبہ جب تک کسی تسلیم شدہ تعلیمی ادارے میں زیرِ تعلیم رہتے اور ویزا کی شرائط پوری کرتے، امریکہ میں قیام جاری رکھ سکتے تھے۔ وہ بیچلر سے ماسٹرز یا پی ایچ ڈی جیسے اگلے تعلیمی مرحلے میں بغیر بار بار نئی حکومتی منظوری لئے داخلہ حاصل کر سکتے تھے۔ تاہم، اب یہ نظام ختم کر دیا گیا ہے۔ ۱۷؍جولائی۲۰۲۶ء کو امریکی محکمہ برائے داخلی سلامتی (DHS) نے نیا ضابطہ جاری کیا، جس کے تحت Duration of Status کی جگہ مقررہ مدت کے قیام کا نظام نافذ کر دیا گیا۔ نئے قانون کے مطابق ایف ون اور جے ون طلبہ کو اپنے تعلیمی پروگرام کی تکمیل یا زیادہ سے زیادہ چار سال تک امریکہ میں رہنے کی اجازت ہوگی، جو بھی مدت پہلے مکمل ہو۔ اگر کسی طالب علم کو تعلیم مکمل کرنے کیلئے مزید وقت درکار ہوگا تو اسے امریکی شہریت و امیگریشن سروس (USCIS) سے توسیع کی درخواست دینا ہوگی یا امریکہ چھوڑ کر دوبارہ داخلے کی اجازت حاصل کرنا ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے: نیویارک میئر ظہران ممدانی، جنگی مجرم نیتن یاہو کو یو این دورے کے دوران گرفتار کرنے پر غور کر رہے ہیں

اس کے علاوہ:تعلیم مکمل ہونے کے بعد ایف ون طلبہ کو دی جانے والی۶۰؍ دن کی مہلت کم کر کے۳۰؍ دن کر دی گئی ہے۔ بایومیٹرک تصدیق کی نئی شرائط شامل کی گئی ہیں۔ تعلیمی اداروں اور آجر اداروں کیلئے طلبہ کی نگرانی اور رپورٹنگ کے قواعد مزید سخت کر دیئے گئے ہیں۔ یہ نیا قانون۱۵؍ ستمبر۲۰۲۶ء سے نافذ ہوگا۔ 
طلبہ کے ویزوں میں پہلے ہی نمایاں کمی
یہ قانون ایسے وقت میں نافذ کیا جا رہا ہے جب امریکہ کی جانب سے جاری کئے جانے والے طلبہ ویزوں کی تعداد پہلے ہی نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے اعداد و شمار، جن کا تجزیہ کرانیکل آف ہائر ایجوکیشن نے کیا، کے مطابق مئی سے اگست۲۰۲۵ء کے دوران ایف ون ویزوں کا اجرا۲۰۲۴ء کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً۳۶؍ فیصد کم رہا، یعنی تقریباً۹۷؍ ہزار کم طلبہ ویزے جاری کئے گئے۔ ہندوستانی طلبہ جو امریکہ میں بین الاقوامی طلبہ کا سب سے بڑا گروپ ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ اسی عرصے میں ہندوستانی طلبہ کو جاری کئے جانے والے ویزوں میں تقریباً۶۰؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ جولائی اور اگست۲۰۲۵ء میں یہ کمی تقریباً۸۰؍ فیصد تک پہنچ گئی۔ ستمبر۲۰۲۵ء میں بھی ویزوں کا اجرا گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً ۱۸؍ فیصد کم رہا اور بہتری کے آثار نظر نہیں آئے۔ ماہرین کے مطابق اس کمی کی کئی وجوہات تھیں، جن میں موسمِ بہار اور گرمیوں میں تقریباً ایک ماہ تک طلبہ ویزا انٹرویوز کی معطلی، درخواست گزاروں کے سوشل میڈیا کی سخت جانچ، اور Optional Practical Training (OPT) پروگرام کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتحال شامل تھی۔ یہ پروگرام ایف ون ویزا رکھنے والے فارغ التحصیل طلبہ کو تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک سے تین سال تک امریکہ میں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK