• Sat, 03 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اٹلی میں اسرائیلی ثقافت کیوں پڑھائی جائے؟: فرانسسکا البانیز کی اٹلی کےانسدادِ سام دشمنی بل پر تنقید

Updated: October 03, 2026, 9:54 PM IST | London

انسدادِ سام دشمنی کے متنازع بل کو DDL 1004 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اسے وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کی اتحادی حکومت میں شامل جونیئر شراکت دار، انتہائی دائیں بازو کی جماعت ’لیگ‘ کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔ یہ بل انٹرنیشنل ہولوکاسٹ ریمیمبرنس الائنس (IHRA) کی سام دشمنی کی تعریف کو باضابطہ طور پر اطالوی قانون میں شامل کرے گا۔ ۴ مارچ کو سینیٹ سے منظور ہونے کے بعد، اس بل کو ۲ اکتوبر کو چیمبر آف ڈپٹیز میں حتمی ووٹنگ کا سامنا ہے۔ اگر یہ منظور ہو جاتا ہے تو اٹلی کسی غیر پابند قرارداد کے بجائے آئی ایچ آر اے کی تعریف کو براہِ راست پابند قومی قانون سازی میں شامل کرنے والا پہلا ملک بن جائے گا۔

Fransesca Albanese. Photo: X
فرانسسکا البانیز۔ تصویر: ایکس

اقوامِ متحدہ کی فلسطین کیلئے خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے جمعہ کے روز امید ظاہر کی کہ اطالوی عوام ملک کی پارلیمنٹ میں زیرِ غور انسدادِ سام دشمنی کے متنازع بل کی مخالفت کریں گے۔ البانیز نے ایکس پر لکھا کہ ”آخر اٹلی میں اسرائیلی ثقافت کیوں پڑھائی جانی چاہئے؟“ انہوں نے اس قانون سازی کو ”معاشرے کی اسرائیل کاری (Israelisation) کا حصہ قرار دیا جس کی وکالت حکومت میں موجود اشرافیہ (اور اپوزیشن کا حصہ) کرتی ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”مجھے امید ہے کہ اطالوی عوام اس اعلانیہ شرمناک اقدام کی مخالفت کریں گے۔ تاریخ ہم ہیں۔“

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی میں سرمایہ کاری،امریکی میڈیا کا دعویٰ

واضح رہے کہ یہ بل، جسے DDL 1004 کے نام سے جانا جاتا ہے، وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کی اتحادی حکومت میں شامل جونیئر شراکت دار، انتہائی دائیں بازو کی جماعت ’لیگ‘ کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔ یہ بل انٹرنیشنل ہولوکاسٹ ریمیمبرنس الائنس (IHRA) کی سام دشمنی کی تعریف کو باضابطہ طور پر اطالوی قانون میں شامل کرے گا۔ ۴ مارچ کو سینیٹ سے منظور ہونے کے بعد، اس بل کو ۲ اکتوبر کو چیمبر آف ڈپٹیز میں حتمی ووٹنگ کا سامنا ہے۔ اگر یہ منظور ہو جاتا ہے تو اٹلی کسی غیر پابند قرارداد کے بجائے آئی ایچ آر اے کی تعریف کو براہِ راست پابند قومی قانون سازی میں شامل کرنے والا پہلا ملک بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: اپوزیشن لیڈر کا انکشاف، نوجوان اسرائیلی غزہ میں فلسطینیوں کے قتل کےحامی

اس بل کی مرکزی شق آئی ایچ آر اے ۲۰۱۶ء کی تعریف کو اس کی وضاحتی مثالوں سمیت اپناتی ہے، جن میں اسرائیل کے وجود کو بنیادی طور پر نسل پرستانہ قرار دینا، دیگر جمہوری ممالک کے مقابلے اسرائیل پر دوہرے معیارات لاگو کرنا اور اسرائیلی پالیسی کا نازی طرزِ عمل سے موازنہ کرنا شامل ہے۔ اس میں اساتذہ اور طلبہ کے تربیتی پروگرام اور آن لائن نفرت انگیز تقاریر کے خلاف اقدامات بھی شامل ہیں۔ ایک زیادہ متنازع شق، جس کے تحت یونیورسٹی حکام کو باضابطہ طور پر ایسے پروگراموں کی نشاندہی کرنے کی اجازت دی گئی تھی جو آئی ایچ آر اے کی تعریف کی خلاف ورزی کرتے ہوں، میلونی کی اپنی پارٹی ’فراٹیلی دی اٹالیا‘ سمیت مختلف جماعتوں کی جانب سے کی جانے والی تنقید کے بعد سینیٹ کے متن سے خارج کر دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: مشرق وسطیٰ کشیدگی: غذائی بحران کا خطرہ شدید، متاثرین میں۵۳؍ فیصد خواتین و لڑکیاں

یہ بل باضابطہ طور پر لیگ سینیٹ کے لیڈر ماسیمیلیانو رومیو نے پیش کیا تھا لیکن اس میں فورزا اٹالیا کے موریزیو گیسپاری اور اٹالیا ویوا کے آئیوان اسکالفاروٹو سمیت متعدد پارٹیوں کی آراء شامل کی گئیں۔ اس ووٹنگ نے اپوزیشن کی ڈیموکریٹک پارٹی (Partito Democratico) کو تقسیم کر دیا ہے، جس کے ۶ سینیٹرز نے پارٹی لائن سے ہٹ کر سینیٹ میں اس کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ یہ پارٹی اب چیمبر میں اس کی مخالفت کی طرف مائل ہے۔ جمعرات کے روز میلان میں سیکڑوں افراد نے اس بل کے خلاف ریلی نکالی، انہوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا ”اسرائیل پر تنقید کرنا سام دشمنی نہیں ہے“ انہوں نے ”فلسطین کو آزاد کرو“ کے نعرے لگائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK