فی الوقت قبروں کی حد بندی کا عمل جاری ہے۔ قبرستان انتظامیہ نے تاخیر کا اعتراف کیا مگر اس سے مزید قبروں کی گنجائش نکلنے کا دعویٰ بھی کیا۔ دیونار قبرستان میں ابھی نومبر سے تدفین ہوگی۔
EPAPER
Updated: June 29, 2026, 12:15 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Govandi
فی الوقت قبروں کی حد بندی کا عمل جاری ہے۔ قبرستان انتظامیہ نے تاخیر کا اعتراف کیا مگر اس سے مزید قبروں کی گنجائش نکلنے کا دعویٰ بھی کیا۔ دیونار قبرستان میں ابھی نومبر سے تدفین ہوگی۔
دیونار قبرستان سے متصل ٹرانزٹ کیمپ کی جالیوں والا نیا قبرستان والا جو پلاٹ ہے ، اس میں۴۰۰؍ قبروں کی گنجائش ہے، اس کا ڈیزائن تبدیل کیا گیا ہے۔ نیا ڈیزائن اور ترتیب اس طرح رکھی جارہی ہے کہ دو قبروں کے درمیان راستے کی جگہ ختم کردی جائے گی اور نماز کے لئے بھی جگہ کشادہ کی جائے گی ۔ اس تبدیلی کی وجہ سے کام میں مزید وقت لگ رہا ہے۔ یہ تفصیلات دیونار قبرستان کے ٹرسٹی اور قبرستان کے نئے پلاٹ کے نگراں عبدالرحمٰن کریم اللہ شاہ عرف منا نے نمائندۂ انقلاب کے استفسار پر بتائیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ حقیقت ہے کہ کام میں بہت تاخیر پہلے ہی ہوچکی ہے، نئی ترتیب سے مزید وقت لگ رہا ہے لیکن اس کا فائدہ یہ ہے کہ مزید قبروں کی گنجائش پیدا ہوگئی ہے اور امید ہے کہ۴۰۰؍ کے بجائے۵۰۰؍ یا۶۰۰؍ تک بھی قبریں بنائی جاسکیں گی۔ اس سے آنے والے وقت میں تدفین کا بڑا مسئلہ حل ہوجائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: آر ٹی ای کے تحت رہائشی ثبوت دینا صرف رسمی نہیں بلکہ لازمی دستاویز ہے: ہائی کورٹ
یاد رہے کہ آج نہیں ۱۰؍ نومبر۲۰۲۳ءکو عدالت نے قبرستان کے لئے نیا پلاٹ دینے کا ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا۔ عدالت نے شہری انتظامیہ کو پھٹکار لگائی تھی کہ کم سے کم مرنے کے بعد ایک شخص کو قاعدے سے دفن کیا جائے، اس کی آخری رسوم ادا کی جائیں، یہ اس کا حق ہے۔ اس کے بعد بی ایم سی نے حلف نامہ دے کر کام۲۰۲۴ء تک پورا کرنے اور تدفین شروع کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس کے لئے۹؍کروڑ روپے فنڈ پاس کیا گیا پھر بھی۲۰۲۶ءآدھا گزرجانے کے باوجود تدفین تو دور چہار دیواری اور قبروں کی حدبندی کا عمل بھی پورا نہیں کیا جاسکا ہے۔
دیونار قبرستان میں تدفین۵؍ ماہ بعد نومبر سے شروع ہوگی
دوسری جانب گنجائش ختم ہونے کے سبب تقریبا ًایک سال سے دیونار قبرستان میں تدفین بند ہے ۔بی ایم سی کے ضابطے کے مطابق ابھی مزید ۵؍ ماہ یعنی نومبر تک تدفین نہیں کی جاسکتی کیونکہ ڈیڑھ سال سے قبل باڈی پوری طرح مٹی میں نہیں ملتی ہے، اس لئے انتظار کرنا ہوگا۔ اسی وقت سے میت کی تدفین رفیع نگر قبرستان میں کی جارہی ہے ، وہاں بھی گنجائش ختم ہونے کے قریب ہے۔ اس تعلق سے بھی ٹرسٹی عبدالرحمن شاہ عرف منا نے اعتراف کیا ۔
یہ بھی پڑھئے: پونے کا رہنے والا گرفتار ملزم ۱۵؍ ہزارافراد کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا
ان کا کہنا ہے کہ ضرورت تو کسی طرح پوری کی جارہی ہے مگر جو دور ہیں، ان لوگوں کو رفیع نگر میت لے جانے میں دشواری ہوتی ہے ۔دیونار قبرستان میں تدفین جاری رہنے سے قریب والوں کو آسانی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں قبرستانوں کے شروع رہنے سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کسی ایک قبرستان پر بوجھ نہیں پڑتا اور وہاں گنجائش تیزی سے ختم نہیں ہوتی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ابھی تدفین کا مسئلہ نہیں ہے۔ جب نیا قبرستان مکمل طریقے سے ڈیولپ ہوجائے گا تو گوونڈی والوں کے لئے میت کی تدفین کے لئے مزید آسانی ہوگی اور وہ اپنے اپنے علاقے کی سہولت سے میت دفنا سکیں گے۔ اس کے لئے کی گئی جدوجہد اب کامیاب ہونے کے قریب ہے۔