Inquilab Logo Happiest Places to Work

کنیڈا نے ۲۰۲۵ء میں اسرائیل کو ۷ء۱۴؍ ملین ڈالر کا فوجی سامان برآمد کیا: رپورٹ

Updated: May 30, 2026, 9:06 PM IST | Ottawa

کنیڈا کی حکومت کی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق، ملک نے ۲۰۲۵ء کے دوران اسرائیل کو تقریباً ۷ء۱۴؍ ملین امریکی ڈالر مالیت کا فوجی سامان اور دفاعی ٹیکنالوجی برآمد کی۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اوٹاوا جنوری ۲۰۲۴ء سے اسرائیل کے لیے نئے فوجی برآمدی اجازت ناموں کی منظوری نہ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

کنیڈا کی حکومت کی جانب سے جمعہ کو جاری کی گئی ایک سرکاری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک نے ۲۰۲۵ء کے دوران اسرائیل کو تقریباً ۷ء۱۴؍ ملین امریکی ڈالر مالیت کا فوجی سامان اور دفاعی ٹیکنالوجی برآمد کی، حالانکہ اوٹاوا گزشتہ سال سے یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ وہ اسرائیل کے لیے ایسے نئے برآمدی اجازت ناموں کی منظوری نہیں دے رہا جو غزہ میں جاری جنگ میں استعمال ہو سکتے ہوں۔ یہ اعداد و شمار کنیڈا کی وزارت خارجہ گولبل افیئرس کنیڈا کی سالانہ رپورٹ ’’اسٹریٹجک گڈز اینڈ ٹیکنالوجیز‘‘ میں شائع کیے گئے ہیں، جس میں کنیڈا کی فوجی برآمدات، دفاعی مصنوعات اور برآمدی اجازت ناموں سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے : اسرائیل کا۷۰؍ فیصد غزہ پر قبضے کا حکم، یواین کا اعلان’ پوری زمین اہل فلسطین کی‘

رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ء کے دوران اسرائیل کو مجموعی طور پر ۱۴۶۷۱۷۰۵؍ ڈالر مالیت کا فوجی سامان اور دفاعی ٹیکنالوجی برآمد کی گئی۔ اسرائیل ان ممالک میں شامل رہا جنہیں کنیڈا کی جانب سے کنٹرول شدہ فوجی سازوسامان اور دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کی جاتی رہی۔ اسی عرصے میں امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک کو کنیڈا کی مجموعی فوجی برآمدات کی مالیت تقریباً ۰۵ء۲؍ ارب ڈالر رہی۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اسرائیل کو فوجی سامان کی فراہمی کے لیے ۲۰۲۵ء کے دوران مجموعی طور پر ۵۰؍ برآمدی اجازت نامے استعمال کیے گئے۔ ان میں نہ صرف ۲۰۲۵ء میں جاری کیے گئے اجازت نامے شامل تھے بلکہ گزشتہ برسوں میں جاری کیے گئے وہ اجازت نامے بھی شامل تھے جو رپورٹنگ کی مدت کے دوران استعمال میں لائے گئے۔

یہ بھی پڑھئے : آبنائے ہرمز نہ کھلی توایندھن کے بحران کا خطرہ: آئی ایم ایف،ورلڈ بینک کا انتباہ

کنیڈا کی حکومت نے اپنی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ۸؍ جنوری ۲۰۲۴ء کے بعد سے اسرائیل کو ایسے کسی نئے برآمدی اجازت نامے کی منظوری نہیں دی گئی جس کے تحت فراہم کیا جانے والا سامان غزہ میں جاری جنگ میں استعمال ہو سکتا ہو۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی اب بھی برقرار ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ تاہم رپورٹ میں اس بات کا اعتراف بھی کیا گیا کہ اسرائیل کے لیے بعض برآمدات پہلے سے موجود اجازت ناموں کے تحت جاری رہیں۔ حکومت کے مطابق، ان برآمدات سے متعلق تمام معلومات کنیڈا کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کو فراہم کی گئی دستاویزات سے مطابقت رکھتی ہیں۔ غزہ میں جاری جنگ کے دوران اسرائیل کو ہتھیاروں اور فوجی سامان کی فراہمی کا معاملہ کنیڈا میں سیاسی اور قانونی تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلسطینی حامی گروپوں کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کو فوجی سامان کی فراہمی بین الاقوامی انسانی قوانین اور کنیڈا کی اخلاقی ذمہ داریوں سے متصادم ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے : اسرائیلی ہوائی اڈے پرامریکی طیاروں کی موجودگی سے محکمہ کو۲۴۸؍ ملین ڈالر کا نقصان

رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ ۲۰۲۴ء میں اسرائیل کے لیے جاری کیے گئے فوجی برآمدی اور بروکرنگ پرمٹس کے خلاف عدالتی نظرثانی کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ اس قانونی کارروائی میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ۹؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد اسرائیل کو دیے گئے تمام فوجی برآمدی اجازت ناموں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔ اس کے علاوہ ایک علیحدہ مقدمے میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ کنیڈا نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات کی اجازت دے کر اپنی قومی اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں مقدمات ۳۱؍  دسمبر ۲۰۲۵ء تک زیرِ سماعت رہے اور ان پر عدالتی کارروائی جاری تھی۔ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر ہتھیاروں کی برآمدات، دفاعی تعاون اور جنگی ذمہ داریوں پر بحث تیز ہو چکی ہے۔ متعدد مغربی ممالک اسرائیل کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کا ازسرِنو جائزہ لے رہے ہیں جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ ایسے تمام معاہدوں کو بین الاقوامی انسانی قانون کے تناظر میں جانچا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK