Inquilab Logo Happiest Places to Work

سڈنی سے لندن دنیا کی طویل ترین فاصلے والی پرواز ۲۰۲۷ء میں اڑان بھرے گی

Updated: June 20, 2026, 2:56 PM IST | London

ہوائی سفر کی تاریخ میں ایک نئے سنگِ میل کے طور پر آسٹریلوی ایئرلائن’ قنطاس‘ نے دنیا کی طویل ترین نان اسٹاپ مسافر پرواز شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت سڈنی اور لندن کے درمیان براہِ راست پرواز اکتوبر ۲۰۲۷ءسے شروع ہوگی جو۱۶؍ ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ ۱۹؍سے۲۲؍ گھنٹوں میں طے کرے گی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

قنطاس (Qantas) کے طویل عرصے سے متوقع ’’پروجیکٹ سن رائز‘‘ کے تحت دنیا کی سب سے طویل نان اسٹاپ مسافر پرواز شروع کی جائے گی، جو۱۶؍ ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ ۱۹؍سے۲۲؍ گھنٹوں میں طے کرے گی۔ قنطاس نے تصدیق کی ہے کہ سڈنی سے لندن اس منصوبے کا پہلا روٹ ہوگا، اور دنیا کی سب سے طویل نان اسٹاپ مسافر پرواز اکتوبر۲۰۲۷ءمیں شروع کی جائے گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: شکاگو، امریکہ: ۸۵۰ ملین ڈالر کے اوبامہ صدارتی مرکز کا افتتاح، ٹرمپ کے سوا کئی اہم شخصیات کی شرکت

۱۶؍ ہزارکلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر مشتمل یہ سروس پہلی بار دونوں شہروں کو بغیر کسی توقف کے آپس میں ملائے گی۔ آسٹریلوی ایئرلائن نے اپنے خصوصی طور پر تبدیل شدہ Airbus A350-1000ULR طیارے کی پہلی جھلک بھی پیش کی ہے، جو اس روٹ پر استعمال ہوگا۔ سڈنی اور لندن کے درمیان پرواز کا دورانیہ ۱۹؍سے۲۲؍ گھنٹوں کے درمیان متوقع ہے۔ پروجیکٹ سن رائز کے تحت بعد میں آسٹریلیا کے مشرقی ساحل کو دیگر بین الاقوامی مقامات سے بھی جوڑا جائے گا۔ سڈنی سے نیویارک تک براہِ راست پرواز اگلا روٹ ہوگا، جبکہ ان پروازوں کے آغاز کی تاریخ کا اعلان اگلے سال کیا جائے گا۔ کوانٹس گروپ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر وینیسا ہڈسن نے کہا:’’قنطاس اس یقین پر قائم کی گئی تھی کہ آسٹریلیا کا دنیا کے دیگر حصوں سے فاصلہ کبھی بھی رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’ہمارے ملازمین کی نسل در نسل جدت پسند سوچ نے ہمیشہ یہ راستہ ہموار کیا ہے، اور آج ہماری۱۰۵؍ سالہ تاریخ میں اس مشن کا سب سے اہم قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ جب ہم نے۱۹۴۷ءمیں لندن کیلئے پہلی بار `کینگرو روٹ پرواز شروع کی تھی تو راستے میں سات مرتبہ رکنا پڑتا تھا۔ ہر نئی نسل کے طیاروں نے سفر میں ایک ایک توقف کم کیا، اور آج ہم آخری توقف بھی ختم کر رہے ہیں۔ ہم نے۲۰۱۷ء میں وعدہ کیا تھا کہ کوانٹس طویل فاصلے کی فضائی سفر کی آخری حد کو عبور کرے گی اور آسٹریلیا کے مشرقی ساحل کو براہِ راست لندن سے جوڑے گی، جو پہلے کبھی ممکن نہیں تھا۔ اکتوبر ۲۰۲۷ءمیں یہ وعدہ حقیقت بن جائے گا۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا نیتن یاہو کی مشروط حمایت کا اعلان، جے ڈی وینس کی اسرائیل کو تنبیہ

قنطاس کا خصوصی A350-1000ULR
اس وقت دنیا کی سب سے طویل باقاعدہ نان اسٹاپ مسافر پرواز سنگاپور ایئر لائنز کی سنگاپور سے نیو یارک جانے والی سروس ہے، جو۱۵؍ ہزار ۳۴۹ء  کلومیٹر کا فاصلہ تقریباً۱۹؍ گھنٹوں سے کم وقت میں طے کرتی ہے۔ مسافروں کے آرام کے حوالے سے ایک اہم فرق یہ ہے کہ سنگاپور ایئرلائنز کی پرواز’ایس کیو ۲۴‘میں اکنامی کلاس موجود نہیں ہوتی۔ جہاں ایک عام Airbus A350-1000 میں ۴۸۰؍تک مسافر سوار ہو سکتے ہیں، وہاں قنطاس کے خصوصی A350-1000ULR میں صرف ۲۳۸؍نشستیں ہوں گی جن میں ۱۴۰؍اکنامی کلاس نشستیں شامل ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ۱۱۵۰؍ سے زائد طبی ماہرین وتنظیموں کاعالمی طبی انجمن سے اسرائیل کی معطلی کا مطالبہ

اس وقت دنیا میں اکنامی کلاس کا سب سے طویل براہِ راست سفر بھی کوانٹس ہی کی لندن سے پرتھ پرواز ہے جو ۱۴؍ ہزار۴۹۹ءکلومیٹر کا فاصلہ ۱۶؍ سے۱۸؍گھنٹوں میں طے کرتی ہے۔ A350-1000ULR کو ایئربس نے خاص طور پر پروجیکٹ سن رائز کیلئے تیار کیا ہے۔ اس میں اضافی۲۰؍ ہزار لیٹر ایندھن کا ٹینک نصب کیا گیا ہے، جس کی بدولت یہ طیارہ۱۶؍ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ بغیر رکے۲۲؍ گھنٹے تک طے کر سکتا ہے۔ قنطاس مجموعی طور پر ایسے ۱۲؍طیارے حاصل کرے گی جن میں چار مختلف کیبن کلاسوں میں کل۲۳۸؍ نشستیں ہوں گی۔ دوسرا طیارہ اس وقت اپنی پہلی آزمائشی پرواز کے بعد آٹھ ہفتوں پر مشتمل جانچ اور سرٹیفیکیشن پروگرام سے گزر رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK