Updated: August 01, 2026, 10:31 PM IST
| London/ New York/ Geneva
موسمیاتی تبدیلی کا بحران اب صرف گلیشیئرز کے پگھلنے، جنگلات کی آگ، شدید گرمی یا سیلاب تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات انسانوں کی ذہنی صحت پر بھی تیزی سے نمایاں ہو رہے ہیں۔ عالمی تحقیقات کے مطابق دنیا بھر میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد مستقبل کے حوالے سے خوف، بے بسی اور مایوسی کا شکار ہے۔
دنیا برسوں سے موسمیاتی تبدیلی کے خطرات پر بحث کر رہی ہے، مگر اب سائنس دان ایک نئے بحران کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی صرف زمین، جنگلات، سمندروں اور موسموں کو نہیں بدل رہی بلکہ انسانوں، خصوصاً نوجوانوں، کے ذہنوں پر بھی گہرے اثرات چھوڑ رہی ہے۔ نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد مستقبل کے بارے میں اس قدر فکرمند ہو چکے ہیں کہ ان کی نیند، ذہنی سکون، روزمرہ زندگی اور زندگی کے بڑے فیصلے بھی متاثر ہونے لگے ہیں۔ اسی کیفیت کو ماہرین ’’ایکو اینگزائٹی‘‘ (Eco-Anxiety) کا نام دیتے ہیں۔ اس سے مراد وہ جذباتی دباؤ اور ذہنی بے چینی ہے جو موسمیاتی بحران، بڑھتی قدرتی آفات اور آنے والے برسوں کے بارے میں مسلسل خدشات کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ یہ کوئی طبی بیماری نہیں، بلکہ ایک نفسیاتی ردعمل ہے جو اس احساس سے جنم لیتا ہے کہ دنیا تیزی سے ایک ایسے ماحول کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں زندگی پہلے جیسی نہیں رہے گی۔
یہ بھی پڑھئے: تھائی لینڈ کے ساتھ جھڑپ میں ۲۰؍ ہزار سے زائد کمبوڈیائی بے گھر: اقوام متحدہ
معروف طبی جریدے The Lancet Planetary Health میں شائع ہونے والی ایک بین الاقوامی تحقیق، جس میں ۱۰؍ ممالک کے ۱۶؍ سے ۲۵؍ سال عمر کے ۱۰؍ ہزار نوجوانوں کو شامل کیا گیا، اس مسئلے کی سنگینی واضح کرتی ہے۔ تحقیق کے مطابق ۵۹؍ فیصد نوجوان موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں ’’بہت زیادہ‘‘ یا ’’انتہائی زیادہ‘‘ فکر مند ہیں، جبکہ ۷۵؍ فیصد نے کہا کہ مستقبل انہیں خوفناک دکھائی دیتا ہے۔ مزید یہ کہ ۴۵؍ فیصد نوجوانوں نے اعتراف کیا کہ موسمیاتی بحران سے متعلق خدشات ان کی روزمرہ زندگی، تعلیم، کام، تعلقات اور ذہنی سکون پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔ تحقیق میں شامل نوجوانوں نے خوف، غصہ، مایوسی، بے بسی، غم اور احساسِ جرم جیسے جذبات کا اظہار کیا۔ کئی نوجوانوں نے کہا کہ وہ اس سوچ سے پریشان رہتے ہیں کہ شاید آنے والی نسلوں کو صاف پانی، محفوظ خوراک، مستحکم موسم یا پرسکون زندگی میسر نہ ہو۔ بعض نے یہاں تک کہا کہ وہ موسمیاتی بحران کے باعث شادی، بچے پیدا کرنے یا مستقبل کی منصوبہ بندی جیسے فیصلوں پر بھی دوبارہ غور کرنے پر مجبور ہیں۔
ماہرین کے مطابق جو لوگ براہِ راست موسمیاتی آفات کا سامنا کرتے ہیں، ان میں یہ کیفیت کہیں زیادہ شدید ہوتی ہے۔ جنگلات کی آگ، سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی، سمندری طوفان، گھروں کی تباہی اور نقل مکانی جیسے تجربات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صدمے کا بھی باعث بنتے ہیں۔ ایسے افراد میں اضطراب، ڈپریشن اور بعد از صدمہ ذہنی دباؤ (PTSD) کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ تحقیقی رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ صرف متاثرہ علاقوں میں رہنے والے ہی نہیں بلکہ وہ لوگ بھی ’’ایکو اینگزائٹی‘‘ کا شکار ہو سکتے ہیں جو روزانہ خبروں، ویڈیوز اور سوشل میڈیا پر قدرتی آفات کی تصاویر اور ویڈیوز دیکھتے رہتے ہیں۔ مسلسل منفی خبروں سے واسطہ انسان میں یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ خطرہ ہر وقت موجود ہے اور مستقبل مسلسل غیر یقینی بنتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا: بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے بعد صارفین میں معمولی کمی
امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن (APA) کے مطابق بچوں اور نوجوانوں پر اس کیفیت کے اثرات نسبتاً زیادہ گہرے ہوتے ہیں کیونکہ وہ مستقبل کو لے کر زیادہ حساس ہوتے ہیں اور اکثر محسوس کرتے ہیں کہ موسمیاتی بحران کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات کافی نہیں ہیں۔ اسی طرح یونیسیف نے بھی خبردار کیا ہے کہ دنیا کے کروڑوں بچے ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں شدید گرمی، سیلاب، آلودگی اور دیگر موسمیاتی خطرات ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما دونوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ ماہرین نفسیات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ’’ایکو اینگزائٹی‘‘ کو نظر انداز کرنے کے بجائے اسے ایک حقیقی انسانی ردعمل سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق لوگوں کو موسمیاتی بحران سے متعلق مستند معلومات حاصل کرنی چاہئیں، مسلسل منفی خبروں سے وقفہ لینا چاہیے، قدرتی ماحول سے اپنا تعلق مضبوط رکھنا چاہیے اور ایسے سماجی یا رضاکارانہ اقدامات میں حصہ لینا چاہیے جو ماحول کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ اجتماعی عمل کا احساس بے بسی کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسپین میں تارکینِ وطن کا بحران: مراکش سے ہزاروں افراد سیوٹا پہنچے، ملٹری طلب کرلی گئی، ۳۴ ہلاک
اقوام متحدہ اور عالمی صحت کے ادارے بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی حکمت عملی میں ذہنی صحت کو بھی شامل کیا جائے۔ ماہرین کے مطابق اگر دنیا نے صرف درجۂ حرارت کم کرنے پر توجہ دی اور انسانی ذہنوں پر پڑنے والے اثرات کو نظر انداز کیا تو آنے والے برسوں میں ایک خاموش مگر سنگین نفسیاتی بحران جنم لے سکتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ سمندر کی سطح کتنی بلند ہوگی یا درجۂ حرارت میں کتنا اضافہ ہوگا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس بحران کے ساتھ جینے والی نسلیں ذہنی طور پر کتنی محفوظ رہ سکیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس دان اب موسمیاتی بحران کو صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ انسانی اور نفسیاتی بحران بھی قرار دے رہے ہیں۔