Updated: May 01, 2026, 8:01 PM IST
| Tal Aviv
غزہ سے تعلق رکھنے والے ۱۴؍ فلسطینی ڈاکٹروں کی بغیر الزام طویل حراست کے خلاف ’’فزیشنز فار ہیومن رائٹس‘‘ نے اسرائیلی سپریم کورٹ سے فوری رہائی کی اپیل کی ہے، جبکہ حراست کے دوران بدسلوکی اور طبی سہولتوں کی کمی کے سنگین الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حراست قانون کے مطابق ہے۔
اسرائیل میں ایک تنظیم ’’ فزیشنز فار ہیومن رائٹس ‘‘ نے اسرائیلی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں غزہ سے تعلق رکھنے والے ان۱۴؍ فلسطینی ڈاکٹروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے جو ایک سال سے زیادہ عرصے سے بغیر کسی الزام کے زیر حراست ہیں۔ تنظیم نے کہا کہ ڈاکٹروں کو مناسب طبی دیکھ بھال اور خوراک سے محروم رکھا جا رہا ہے اور حراست کے دوران انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہیں ڈاکٹروں کو اسرائیل کے ’’ غیر قانونی جنگجو‘‘ قانون کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔ یہ قانون بغیر کسی الزام کے غیر معینہ مدت تک حراست کی اجازت دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی کارروائی، گرفتار کارکنان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ
غزہ میں کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر زیر حراست حسام ابو صفیہ کے وکیل ناصر عودہ نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے ان سے تفتیش کرنے اور ان کے خلاف کسی قسم کے ثبوت یا اسرائیلی قانون کے مطابق کسی بھی خلاف ورزی میں ملوث ہونے کا ثبوت نہ ملنے کے باوجود، پراسیکیوشن نے انہیں غیر قانونی جنگجو قانون کے تحت حراست میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی جیل سروس نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ جیل میں ڈاکٹروں کے ساتھ بدسلوکی کے تمام الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ عدالت اس درخواست پر کب غور کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے ساتھ جنگ ۶۰؍ روزہ ڈیڈ لائن سے پہلے ’ختم‘ ہوگئی: ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ
محکمہ صحت کے سیکڑوں ملازمین زیر حراست
تنظیم ’’ فزیشنز فار ہیومن رائٹس ‘‘ نے کہا ہے کہ اسرائیل نے سات اکتوبر۲۰۲۳ء کو حماس کے حملے کے جواب میں غزہ کی پٹی پر شروع کی گئی فوجی مہم کے دوران صحت کے شعبے کے تقریباً۴۰۰؍ کارکنوں کو حراست میں لے لیا اور ان میں ۱۴؍ڈاکٹر بھی شامل تھے۔ اسرائیل نے ان میں سے کئی قیدیوں کو قیدیوں کے تبادلے کے عمل میں رہا کیا۔ یہ تبادلے جنگ بندی کے ادوار کے دوران ہوئے تھے۔ ان میں لڑائی روکنے کے مقصد سے اکتوبر میں امریکہ کی حمایت یافتہ مہلت بھی شامل تھی۔ تنظیم نے کہا کہ صحت کی دیکھ بھال کے تقریباً۶۰؍ کارکن جن میں ڈاکٹر بھی شامل ہیں، اب بھی زیر حراست ہیں۔ تنظیم نے مزید کہا کہ حکام نے ان۱۴؍ ڈاکٹروں میں سے کسی پر بھی باضابطہ الزامات عائد نہیں کئے اور نہ ہی انہیں ان کی حراست کی وجوہات بتائی ہیں۔ تنظیم نے بتایا کہ ابو صفیہ اب بھی زیر حراست ڈاکٹروں میں سب سے نمایاں ہیں۔ ۲۰۲۴ء کے اواخر میں شمالی غزہ کے بیت لاہیا میں کمال عدوان اسپتال پر اسرائیلی حملے کے دوران ان کی گرفتاری پر بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی کنارے میں بڑھتا تشدد: یورپی یونین کا فلسطینیوں کے تحفظ کیلئے نیا پروگرام
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کے بھائی موفق ابو صفیہ نے بتایا کہ وکیل نے انہیں مطلع کیا ہے کہ حسام کا وزن جیل میں ۴۰؍ کلوگرام کم ہو گیا ہے اور وہ پسلیوں کے چار فریکچر اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان پر یہ سارا ظلم صرف اسرائیل کی وجہ سے ہوا، صرف اس لئے کہ انہوں نے اسپتال اور مریضوں کو چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے ہسپتال پر چھاپے کے بعد کہا تھا کہ حسام ابو صفیہ سے تفتیش کی جا رہی ہے کیونکہ ان پر حماس کا رکن ہونے کا الزام ہے لیکن اس نے کوئی قابل تصدیق ثبوت فراہم نہیں کیا۔ غزہ کی وزارت صحت اور فلسطینی تحریک نے صہیونی فوج کے اس الزام کی تردید کردی ہے۔ ان پر لگائے گئے تشدد یا خوراک سے محرومی کے الزامات کے جواب میں اسرائیلی فوج نے حسام ابو صفیہ کا شناختی نمبر طلب کیا اور کہا کہ وہ اس نمبر کے بغیر ان کے کیس کا جائزہ نہیں لے سکتی۔ جیل سروس نے خاص طور پر ابو صفیہ کی حالت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھئے: شاہ چارلس سوم نے ایپسٹین متاثرین سے ملاقات کی اپیل مسترد کردی: رو کھنہ
صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی تباہی
واضح رہے اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر فوجی مہم کے دوران اسپتال پر چھاپے مارے اور بمباری کی اور غزہ میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو بڑے پیمانے پر تباہ کر دیا ہے۔ یہ ایسے افعال ہیں جن کے بارے میں انسانی حقوق کے گروپس کا کہنا ہے کہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو سکتے ہیں۔ تنظیم میں قیدیوں اور زیر حراست افراد کے شعبے کے منیجرناجی عباس نے کہا کہ ہمیں یہ احساس ہونا شروع ہو گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی ایک اہم پالیسی غزہ میں صحت کے نظام کو تباہ کرنا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس اسپتال کو حملوں کی منصوبہ بندی اور ان کے نیچے سرنگوں سے کارروائیاں کرنے کیلئے استعمال کر رہی تھی۔ اس الزام کی حماس تردید کرتی ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں صحت کے شعبے کے بعض کارکنوں بشمول ڈاکٹروں پر حماس کے ساتھ تعلق کا الزام لگایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شاہ چارلس سے کہوں گا کہ کوہ نور واپس کریں: ظہران ممدانی کا رپورٹر کو جواب
میڈیکل ایڈ فار فلسطینین اسوسی ایشن نے بتایا ہے کہ اکتوبر۲۰۲۳ء اور۲۰۲۵ء کے اسی مہینے کے درمیان اسرائیلی حملوں میں صحت کی دیکھ بھال کے۱۷۰۰؍ سے زائد کارکن جاں بحق ہوئے ہیں۔ ۲۰۲۴ء میں ایک ممتاز سرجن اسرائیل میں دوران حراست انتقال کر گئے تھے۔ اسرائیلی جیل سروس نے کہا کہ وہ اس موت کی تحقیقات کر رہی ہے۔