کئی گھنٹے قبل بلایا جاتا ہے۔جاری کردہ شیڈو ل کے برعکس ساڑھے ۳؍ گھنٹے تاخیر سے ہوائی جہازنے اڑان بھری ۔ نُسُک کارڈ کا بھی مسئلہ۔ مرکزی اور ریاستی حج کمیٹی کا بہتر انتظام کا دعویٰ ۔حج بیت اللہ کےشوق میں بیشتر عازمین زبان پرحرفِ شکایت لانے سے گریز کرتے ہیں۔
عازمین حج انتظار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ (تصویر: انقلاب)
یہاں سے عازمین ِ حج کی روانگی تو ۱۸؍ اپریل سے شروع ہوچکی ہے مگر کچھ نہ کچھ مسائل بھی پیش آرہے ہیں ۔ بدھ ۲۲؍اپریل کی شام کو ساڑھے ۵؍ بجے روانہ ہونے والے جہاز نےساڑھے تین گھنٹے تاخیرسے رات میں ۸؍ بجکر ۳۵؍ منٹ پر اڑان بھری۔ دوسرے نُسُک کارڈ (اس میں حج سے متعلق امور، انتظامات اور ریاض الجنہ وغیرہ کی رہنمائی) کا بھی مسئلہ رہتا ہے۔ بسااوقات نیٹ ورک نہ ہونے سے کافی دشواری ہوتی ہے اور وقت لگ جاتا ہے۔
اسی طرح نُسُک کارڈ سعودی حکومت کے توسط سے مردوں کے عملہ کے ذریعے دیا جاتا ہے، وہ خواتین کو کارڈ پہناتے اور اپ لوڈ کرنے کےلئے ان کی تصویر کشی کرتے ہیں ، اس پربھی اعتراض کیا گیا اوریہ کہا گیا کہ خواتین کوکارڈ دے دیا جائے، وہ خود پہن لیں گی اور اپنے طور پر نمایاں کرتے ہوئے تصویر کھنچوالیں گی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’مودی حکومت کو بے نقاب کرنے کیلئے کانگریس ملک بھر میں احتجاج کرے گی ‘‘
اسی طرح نُسُک کارڈ تقسیم کرنے والوں کا زبان کا بھی مسئلہ ہے۔ اس پرخود ریاستی حج کمیٹی کےایک آفیسرنے متوجہ کیا۔
اسی طرح کئی گھنٹے قبل ایئرپورٹ بلانے اور دیر تک بٹھانے کی جانب بھی عازمین کے اہل خانہ اور خدمت کرنے والوں نےتوجہ دلائی اورکہاکہ حج ہاؤس سے روانہ ہونے سے قبل ہی بیشتر کام پورا کرلیا جاتا ہے ،ایئر پورٹ پرکچھ خانہ پُری کرنی ہوتی ہے تو گھنٹوں قبل عازمین کو لے جانے کا کیا مطلب ہے۔ بہت سے عازمین کے صحت کے مسائل رہتے ہیں ، اس کا خیال رکھا جائے ۔
بیشتر عازمین شکایت کرنے سےگریزکرتے ہیں
یہ الگ بات ہے کہ حج بیت اللہ کی سعادت سے سرفراز ہونے پر عازمین کو اس قدر خوشی ہوتی ہے کہ ان میں سے بیشتر عازمین زبان پر حرفِ شکایت لانے سے گریزکرتے ہیں مگر کچھ عازمین، ان کے اہل خانہ اور خدمت کرنے والے عازمین کے مفاد میں اس جانب اس لئے توجہ دلاتے ہیں تاکہ کمیاں دور ہوں ، حج کمیٹی اور دیگر متعلقہ ایجنسیاں صحیح طریقے سے اپنی ذمہ داری نبھائیں تاکہ عازمین کو سہولت ہو۔ ایسے میں حج کمیٹی اور متعلقہ ایجنسیوں کی ذمہ داری اوربڑھ جاتی ہے کہ وہ اللہ کے مہمانوں کا مزید خیال رکھیں اور ہر ممکن سہولت فراہم کرانے کی کوشش کریں۔
یہ بھی پڑھئے: چال کے ایک کمرہ سے ایم بی بی ایس تک، ڈاکٹر عدنان انصاری کاسفرجدوجہدبھرارہا
’’جہازکاوقت تبدیل کیا گیا تھا‘‘
حج کمیٹی آف انڈیا کے سی ای او شہنوازسی سے نمائندۂ انقلاب کےاستفسار کرنے پر ان کی جانب سے جہاز کے وقت میں تبدیلی کا حوالہ دیا گیا کہ شیڈول میں تبدیلی کے سبب ایسا ہوا مگراس سوال کا جواب نہیں دیا گیا کہ کیا عازمین کواس کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔‘‘ حج کمیٹی کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ’’ عموماً شیڈول میں تبدیلی کی ضرورت نہیں پڑتی ہے،طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی آپریشن جاری رہتا ہے مگرکبھی ایسا ہوتا ہےکہ تبدیلی کی ضرورت پڑجاتی ہے ،اس وقت عازمین کومطلع کیا جاتا ہے ۔ جہاں تک عازمین کو حج ہاؤس سے کئی گھنٹے قبل ایئرپورٹ لائے جانے اور قریب کے عازمین کو بلانے کا سوال ہے تو چونکہ ایئرپورٹ پرکئی طرح کےکام ہوتے ہیں اس لئے یہ کوشش کی جاتی ہے کہ اگرعازمین قبل ازوقت پہنچ جائیں گے تو انہیں دشواری نہیں ہوگی، ضابطوں کی خانہ پُری آسانی کے ساتھ وقت کے اندر مکمل ہوگی اور عازمین اطمینان کے ساتھ ہوائی جہاز میں سوار ہوسکیں گے۔اس کے علاوہ چونکہ نُسُک کارڈکا پہلی مرتبہ ممبئی امبارکیشن پوائنٹ پرتجربہ کیا جارہا ہے اس لئے کچھ مسائل ہیں مگر اسےبتدریج حل کیا جارہا ہے۔امسال اگریہ تجربہ کامیاب رہا توآئندہ سال روانگی کے دیگر مراکز پر بھی اسے نافذ کیا جائے گا تاکہ عازمین کو سعودی عرب پہنچنے کےبعد نُسُک کارڈ کے ضمن میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔‘‘