Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ نسل کشی میں انٹونی بلنکن کے کردار کو ہارورڈ لاء اسکول کے طالب علم نے بے نقاب کردیا، ویڈیو وائرل

Updated: March 27, 2026, 10:04 PM IST | Washington

ہارورڈ لاء اسکول کے طالب علم ڈیاگو سارمینٹو کے سوال اور بلنکن کے جواب کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ ہارورڈ کینیڈی اسکول میں ایک عوامی تقریب کے دوران غزہ نسل کشی پر براہِ راست بلنکن کو چیلنج کر رہے ہیں۔

Antony Blinken. Photo: X
انٹونی بلنکن۔ تصویر: ایکس

ہارورڈ لاء اسکول کے ایک طالب علم نے سابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے غزہ نسل کشی میں ان کے کردار کے بارے میں جرأت مندانہ سوال کیا اور انہیں اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرکے اس نسل کشی میں حصہ لینے کیلئے ذمہ دار ٹھہرایا۔ طالب علم نے غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ جنگی کارروائیوں کی حمایت کی ان کی خونی میراث کو بھی نمایاں کیا۔

ہارورڈ لاء اسکول کے ایک طالب علم کے سوال اور بلنکن کے جواب کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ ہارورڈ کینیڈی اسکول میں ایک عوامی تقریب کے دوران غزہ نسل کشی پر براہِ راست بلنکن کو چیلنج کر رہے ہیں۔ طالب علم نے بلنکن پر الزام لگایا کہ انہوں نے جان بوجھ کر ان شواہد کو نظر انداز کیا کہ اسرائیل بھوکے فلسطینیوں تک زندگی بچانے والی امداد روک رہا تھا۔

طالب علم نے کہا کہ اپریل ۲۰۲۴ء میں، یو ایس ایڈ (USAID) کے حکام نے تصدیق کی تھی کہ اسرائیل غزہ تک امداد پہنچنے سے روک رہا ہے۔ اس کے باوجود اگلے ہی مہینے، آپ (بلنکن) نے کانگریس سے جھوٹ بولا اور دعویٰ کیا کہ امریکہ کو یقین نہیں ہے کہ اسرائیل امداد کو روک رہا ہے۔ اس غلط بیانی کی وجہ سے امریکہ کو اسرائیل کو مہلک ہتھیار فراہم کرتے رہنے کی اجازت مل گئی، جس سے فلسطینیوں کے قتلِ عام کو شہ ملی۔

طالب علم نے سوال کیا، ”آپ ہزاروں بچوں سمیت ان بے شمار فلسطینیوں کے سامنے اپنے اقدامات کا کیا جواز پیش کریں گے جو آپ کے فیصلوں کے نتیجے میں ہلاک ہوئے؟" طالب علم نے واضح طور پر کہا کہ ہولوکاسٹ کے کئی ماہرین اور انسانی حقوق کے گروپس نے اسرائیل کے اقدامات کو نسل کشی قرار دیا ہے۔ بلنکن کے پاس قاتلوں کو مسلح کرنا روکنے کے کئی مواقع تھے لیکن انہوں نے اس کے بجائے خون اور بموں کا انتخاب کیا۔

یہ بھی پڑھئے: انجلینا جولی نے ایک بار پھر اہل غزہ کے لئے آواز بلند کی

بلنکن کا کھوکھلا جواب

طالب علم کے اس سوال پر بلنکن نے کمزور اور کھوکھلا جواب دیا اور اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے کے بائیڈن انتظامیہ کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے جعلی پچھتاوا دکھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ”وہ ہر روز خود سے پوچھتے ہیں کہ کیا حالات مختلف ہوسکتے تھے۔“ انہوں نے ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد اسرائیلی صدمے کے بارے میں بات کی لیکن فلسطینیوں کے کہیں زیادہ بڑے مصائب اور تکالیف کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ہتھیاروں کی فراہمی کو روکنا ممکن تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے بجائے، انہوں نے اسرائیل کو ہتھیاروں سے نوازنا جاری رکھا جبکہ غزہ میں فلسطینی بے دردری سے ہلاک کئے جا رہے تھے۔

سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سیکڑوں صارفین نے بلنکن سے سخت سوال پوچھنے پر طالب علم کی ستائش کی۔ کئی صارفین نے بلنکن سے غزہ نسل کشی پر جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ کچھ صارفین نے زور دیا کہ ایسے اِنسانیت سوز مظالم کی راہ ہموار کرنے والے افراد بین الاقوامی عدالتوں کے سامنے ہونے چاہئیں، یونیورسٹی کے اسٹیجوں پر نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی اداکار نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی قتل اور زمین قبضے کی مذمت کی

غزہ نسل کشی

واضح رہے کہ اسرائیل نے ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے غزہ پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہیں جس کے نتیجے میں، غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اب تک ۷۲ ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ فلسطین کی وفا نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ تقریباً ۱۱ ہزار فلسطینی تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اموات کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اور ممکنہ طور پر ۲ لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ اس نسل کشی کے دوران، اسرائیل نے محصور علاقے کے بیشتر حصے کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے اور اس کی تمام آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔ اسرائیلی قابض افواج کی مسلسل بمباری کے باعث غزہ پٹی میں خوراک کی شدید قلت اور بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: فلسطینی بچے پر تشدد پر اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر غصہ کی لہر، احتساب کا مطالبہ

نومبر ۲۰۲۴ء میں، بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے تھے۔ اسرائیل غزہ جنگ کیلئے بین الاقوامی عدالت انصاف میں نسل کشی کے مقدمہ کا بھی سامنا کررہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK