• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ چھوڑنے کے بعد سے چاول نہیں کھائے: فلسطینی صحافی رؤیٰ شملخ کی دردناک کہانی

Updated: November 03, 2026, 10:02 PM IST | Cairo

فلسطینی صحافی رؤیٰ شملخ نے غزہ میں جنگ اور محاصرے کے دوران بھوک، خوف اور بے بسی کے جو حالات دیکھے، ان کی یادیں آج بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ مصر کے شہر قاہرہ میں محفوظ زندگی گزارنے کے باوجود عود، تازہ روٹی، خوبیزہ اور یہاں تک کہ چاول کی خوشبو اور ذائقہ انہیں غزہ کے تلخ تجربات کی یاد دلاتے ہیں۔ ان کے مطابق جنگ صرف مکانات اور زندگیاں تباہ نہیں کرتی بلکہ روزمرہ کی معمولی چیزوں سے جڑی یادوں اور احساسات کو بھی ہمیشہ کیلئے بدل دیتی ہے۔

Palestinian journalist Roaa Shamallakh. Photo: X
فلسطینی صحافی رؤیٰ شملخ۔ تصویر: ایکس

میں گزشتہ تین برس سے قاہرہ میں مقیم ہوں، لیکن اس دوران میں نے چاول نہیں کھائے۔ میں نے خود سے چاول چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔ کئی مرتبہ انہیں کھانے کی کوشش کی، لیکن میرا جسم اس پر آمادہ نہیں ہوتا۔ میں جانتی ہوں کہ میں مصر میں ہوں، میرے سامنے رکھا ہوا کھانا محفوظ ماحول میں تیار کیا گیا ہے اور کھانے کے دوران کسی دھماکے سے یہ سکون درہم برہم نہیں ہوگا، اس کے باوجود میں چاول نہیں کھا پاتی۔ درحقیقت، اب چاول محض چاول نہیں رہے بلکہ میری زندگی کے ایک ایسے دور کی یاد بن چکے ہیں جو دوبارہ میرے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے اور گویا مجھ سے کہتا ہے کہ اسے نگل جاؤ۔
فلسطینیوں کی ایک روایتی غذا، جسے ’خوبیزہ‘ (Khobeiza) کہا جاتا ہے اور جو ایک پتوں والی سبزی سے تیار کی جاتی ہے، اب میرے لئے اپنا پرانا مفہوم کھو چکی ہے۔ اس کی خوشبو مجھے شمالی غزہ میں گزارے گئے بھوک کے دنوں میں واپس لے جاتی ہے۔ عود کی خوشبو مجھے الشفا اسپتال کے قریب محاصرے کے دن یاد دلاتی ہے۔ تازہ روٹی کی مہک مجھے اپنی خالہ کے گھر پہنچا دیتی ہے، جہاں ۳۰؍ سے زائد افراد نے ایسی جگہ پناہ لے رکھی تھی جو اتنے لوگوں کے رہنے کیلئے کبھی بنائی ہی نہیں گئی تھی۔ عام طور پر جنگ کو ان مناظر اور آوازوں کے ذریعے یاد کیا جاتا ہے جنہیں دیکھا اور سنا جا سکتا ہے، مثلاً دھماکے کی چمک، جنگی طیارے کی گرج یا کسی عمارت کے اچانک ملبے کا ڈھیر بن جانے کا منظر۔ لیکن بعض یادیں خاموشی سے جسم میں اتر جاتی ہیں۔ وہ منہ اور ناک میں بسی رہتی ہیں اور ان چیزوں کے اندر چھپی ہوتی ہیں جو کبھی بے ضرر اور معمولی محسوس ہوا کرتی تھیں۔ میرے لئےجنگ کی خوشبو عود ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کے قشم جزیرے میں دھماکے، آبنائے ہرمز میں امریکی حملوں کی اطلاعات

یہ وہ جواب نہیں جس کی لوگ توقع کرتے ہیں۔ عام طور پر جنگ کی بو سے مراد بارود، خون، گندگی اور ملبے تلے دبے جسموں کی بدبو سمجھی جاتی ہے۔ غزہ میں یہ تمام بدبوئیں بھی موجود تھیں۔ لیکن جب قاہرہ میں مجھے عود کی خوشبو آتی ہے تو میرے ذہن میں سب سے پہلے عطر، مہمان نوازی یا صاف ستھرا گھر نہیں آتا، بلکہ میں خود کو الشفا اسپتال کے قریب اس کمرے میں پاتی ہوں جہاں محاصرے کے دوران میرے خاندان نے پناہ لے رکھی تھی۔ وہاں نجی زندگی اور ذاتی جگہ تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ ہماری پوری زندگی ایک ہی کمرے میں سمٹ کر رہ گئی تھی۔ لوگ، ان کا سامان، خوف اور باہر ہونے والے واقعات پر مسلسل نظر رکھنے کی کوشش، سب کچھ اسی محدود جگہ میں جمع تھا۔ اس کے باوجود میں صفائی کرتی تھی۔ جو چیزیں ترتیب دی جا سکتی تھیں، انہیں ترتیب دیتی اور جہاں تک ممکن ہوتا، صفائی کرتی۔ اس کے بعد پورے کمرے میں عود کی خوشبو پھیلا دیتی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کی ’لیٹر مڈوائف‘ فریش برانڈٹ نے ہاتھ سے خط لکھنے کی اہمیت اجاگر کی

صفائی ان چند کاموں میں سے ایک تھی جنہیں کرنا اب بھی میرے اختیار میں تھا۔ میں بمباری نہیں روک سکتی تھی، نہ کوئی محفوظ راستہ کھول سکتی تھی اور نہ ہی یہ جان سکتی تھی کہ دن کے اختتام تک ہمارے ساتھ کیا ہوگا۔ لیکن میں کم از کم اس چھوٹے سے کمرے کو صاف ستھرا معطر بنا سکتی تھی۔ کچھ لمحوں کیلئے یہ احساس پیدا کرسکتی تھی کہ ہم کسی جگہ زندگی گزار رہے ہیں، نہ کہ محض وہاں موت سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 
میں سمجھتی تھی کہ میں کمرے کی بو بدل رہی ہوں۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ کمرہ عود کی خوشبو کا مفہوم ہی بدل دے گا۔ اب تین برس گزرنے کے بعد بھی عود کی خوشبو چند لمحوں میں قاہرہ اور غزہ کے درمیان موجود فاصلے کو ختم کر دیتی ہے۔ یہ مجھے صرف اس کمرے کی یاد نہیں دلاتی بلکہ گویا اسے دوبارہ میرے ارد گرد آباد کر دیتی ہے۔ اس کی دیواریں واپس آجاتی ہیں، لوگوں کا ہجوم بھی لوٹ آتا ہے اور وہ شخص بھی میرے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے جو اس کمرے میں صفائی کر رہا تھا، جبکہ باہر کی دنیا تباہ ہو رہی تھی۔ روٹی کی خوشبو اپنے ساتھ ایک مختلف نوعیت کا درد لے کر آتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بلغاریہ: صدارتی انتخاب میں قائم مقام صدر الیانا یوتووا نے واضح برتری حاصل کی

شمالی غزہ میں میری خالہ کے گھر۳۰؍ سے زائد افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔ شدید بھوک کے دنوں میں تازہ پکی ہوئی روٹی کی خوشبو بار بار اس بھرے ہوئے گھر میں پھیل جاتی تھی۔ عام حالات میں روٹی پکنے کی خوشبو فراوانی کا احساس دلاتی ہے۔ یہ گرمی، اپنائیت، دسترخوان کی تیاری اور اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ خوشبو محسوس کرنے والے ہر شخص کیلئے کافی کھانا موجود ہوگا۔ لیکن وہاں روٹی کی خوشبو اس کی اصل مقدار سے کہیں زیادہ تھی۔ ایسے دن بھی آئے جب ایک شخص کے حصے میں صرف ایک روٹی آتی تھی۔ اس روٹی سے ایسی بھوک مٹانے کی توقع کی جاتی تھی جو اس کی استطاعت سے کہیں زیادہ تھی۔ کھانا پہنچنے سے پہلے اس کی خوشبو ہر شخص تک پہنچ جاتی اور جسم میں کھانے کی ایسی امید پیدا کردیتی جسے دستیاب راشن پورا کرنے سے قاصر تھا۔ لوگ بقا کے بارے میں اس طرح بات کرتے ہیں جیسے زندہ بچ جانا ہی پوری کہانی کا اختتام ہو۔ غزہ میں کھانا پہنچا، کسی کو آٹا مل گیا، کسی نے کوئی پودا جمع کرکے پکایا یا کسی خاندان نے ایک اور دن گزارنے کیلئے کچھ نہ کچھ کھانے کا انتظام کر لیا۔ دور سے دیکھنے پر یہ کھانا ایک چھوٹی سی کامیابی دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: اجرت میں اضافے کے مطالبے پر مزدوروں کا احتجاج پر تشدد، شاہراہیں بند

لیکن شاذ و نادر ہی کوئی یہ پوچھتا ہے کہ زندہ بچ جانے والوں کی یادوں میں اس کھانے کا کیا مقام رہ جاتا ہے۔ خوبیزہ کبھی فلسطینی کھانوں کی روزمرہ زندگی کا ایک عام حصہ تھا۔ لیکن جنگ کے دوران اس کا تعلق ضرورت اور مجبوری سے جڑ گیا۔ اب اس کی خوشبو مجھے کسی پودے یا مانوس پکوان کی مہک محسوس نہیں ہوتی بلکہ یہ ان مہینوں کی یاد تازہ کر دیتی ہے جب کھانا نایاب ہو گیا تھا اور لوگوں کو وہی کچھ کھانا پڑتا تھا جو کہیں سے دستیاب ہو سکتا تھا۔ میں اس کی خوشبو کو کسی ایک کھانے یا ایک وقت کی غذا تک محدود نہیں کر سکتی۔ اس میں جنگ کے دوران بار بار کھانا کھانے کی مجبوری، اپنی پسند سے محرومی اور اس احساس کی یادیں شامل ہیں کہ کھانا ذائقے اور لطف کیلئے نہیں بلکہ صرف جسم کو زندہ رکھنے کیلئے استعمال کیا جا رہا تھا۔ قاہرہ میں چاول ہر جگہ دستیاب ہیں۔ تقریباً ہر کھانے کے ساتھ بغیر کسی خاص اہتمام کے پیش کئے جاتے ہیں۔ دوسرے لوگ انہیں آسانی سے اٹھا کر منہ میں رکھ لیتے ہیں، انہیں کھانے سے پہلے کسی یاد سے گزرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ میں یہ دیکھتی ہوں کہ ایک ایسی چیز جو دوسروں کیلئے بالکل معمول کی بات ہے، میرے لئے کس طرح ماضی کی تکلیف دہ یاد بن چکی ہے۔ میں نے خود کو سمجھانے کی بھی کوشش کی ہے۔ یہ چاول غزہ میں نہیں پکائے گئے۔ میں شمالی غزہ میں محصور نہیں ہوں۔ مجھے یہ حساب لگانے کی ضرورت نہیں کہ کل کھانا دستیاب ہوگا بھی یا نہیں۔ لیکن جسم ہمیشہ ان فرقوں کو قبول نہیں کرتا جو ذہن قائم کرتا ہے۔ محفوظ ماحول منظر تو بدل سکتا ہے، لیکن کھانے سے وابستہ احساسات اور یادوں کو لازماً نہیں بدل سکتا۔

یہ بھی پڑھئے: یورپ کے سپر مارکیٹس کے فریزرس پر سائبر حملہ، اچانک درجہ حرارت بڑھ گیا

خوشبوئیں بعض اوقات بصری مناظر یا آوازوں کے ذریعے تازہ ہونے والی یادوں کے مقابلے میں زیادہ گہرے جذبات اور احساسات کو بیدار کرتی ہیں۔ ایک تحقیق میں شرکا نے بتایا کہ جب کسی واقعے کی یاد خوشبو کے ذریعے تازہ ہوئی تو انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ خود کو دوبارہ اسی واقعے میں موجود پا رہے ہوں۔ سائنس یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ خوشبوؤں کے ذریعے یادیں اتنی تیزی سے کیوں لوٹ آتی ہیں۔ تاہم، وہ ان یادوں کے اندر موجود معنی اور سیاسی حقیقت کی وضاحت نہیں کر سکتی۔ میرے ساتھ رہ جانے والی یہ خوشبوئیں کسی حادثے یا قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں ہیں۔ روٹی بھوک اور محرومی کی علامت اس لئے بنی کیونکہ ہمیں بھوکا رکھا جارہا تھا۔ عود محاصرے کی علامت اس لئے بن گیا کیونکہ میں نے اسرائیلی فوج کے گھیرے میں واقع ایک اسپتال کے قریب کمرے میں اسے جلایا تھا، تاکہ اپنے خاندان کے محصور ہونے کے دوران کم از کم کچھ دیر کیلئے عزت و وقار کا احساس برقرار رکھ سکوں۔

یہ بھی پڑھئے: وکی پیڈیا: مفت علمی ذخیرے کے وجود کو ’’شاگرد‘‘ اے آئی ہی سے خطرہ

دماغ یہ تو سمجھا سکتا ہے کہ کوئی خوشبو ماضی کو کس طرح واپس لے آتی ہے، لیکن وہ اس ماضی کو غیر جانبدار حقیقت نہیں بنا سکتا۔ جب میں مئی ۲۰۲۴ء میں قاہرہ پہنچا تو میں نے خطرے سے نسبتاً محفوظ ماحول کی طرف ایک جغرافیائی سرحد عبور کی تھی۔ اب میرے اوپر بم نہیں برس رہے تھے۔ دکانوں میں کھانا دستیاب تھا۔ روٹی خریدنے کیلئے مجھے ان لوگوں کی تعداد گننے کی ضرورت نہیں تھی جنہیں اس میں سے حصہ ملنا تھا۔ لیکن غزہ سے نکلنے کے بعد بہت سی چیزوں کے معنی ہمیشہ کیلئے بدل چکے تھے۔ شاید یہ جنگ کی ان خاموش چوریوں میں سے ایک ہے۔ جنگ صرف گھروں کو تباہ نہیں کرتی بلکہ انسانی زندگیاں چھینتی، خاندانوں کو بکھیرتی اور روزمرہ استعمال کی عام چیزوں میں اپنی یادیں پیوست کر دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایرانی حملوں سے۲۴؍ امریکی فوجی مقامات پر۲۷۴؍ ڈھانچوں کو نقصان: رپورٹ

لوگ جنگ سے نکلنے کے بارے میں اس طرح بات کرتے ہیں جیسے جنگ کوئی جگہ ہو، کوئی ایسا علاقہ جہاں سے باہر نکلا جا سکتا ہو، کوئی چیک پوسٹ جسے عبور کیا جا سکتا ہو یا کوئی ایسا فاصلہ جسے کلومیٹروں میں ناپا جا سکتا ہو۔ میں واقعی غزہ چھوڑ چکی ہوں۔ اب قاہرہ میں رہتی ہوں۔ اس شہر میں جہاں عود محض عود کی خوشبو ہے، روٹی کی مہک فراوانی کا احساس دلاتی ہے اور چاول دسترخوان پر بغیر کسی تاریخی پس منظر کے پیش کئےجاتے ہیں۔ لیکن میرے لئے یہ چیزیں اب اس طرح نہیں رہیں۔ سرحد نے مجھے بمباری سے تو الگ کر دیا، لیکن بمباری کی یادوں کو روزمرہ زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی چیزوں سے جدا نہیں کر سکی۔ غزہ چھوڑنے کے تین برس بعد بھی عود کی خوشبو مجھے محاصرے میں گھرے اس کمرے میں واپس لے جاتی ہے۔ خوبیزہ آج بھی مجھے بھوک کی یاد دلاتا ہے اور میں نے اب تک چاول نہیں کھائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK