Updated: August 15, 2026, 3:03 PM IST
| Berlin
جرمنی میں یورپ کے اہم ترین تجارتی آبی راستوں میں شمار ہونے والے دریائے رائن میں پانی کی سطح تاریخی حد تک کم ہونے سے مال بردار جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ خشک سالی، کم بارش اور غیر معمولی گرمی کے باعث جہازوں کو معمول سے کم سامان لے کر سفر کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ صورتحال مزید بگڑنے کی صورت میں جرمنی کی صنعتی سپلائی چین، ٹرانسپورٹ لاگت اور اقتصادی سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
یورپ کے اہم ترین تجارتی آبی راستوں میں شمار ہونے والے دریائے رائن میں پانی کی سطح تاریخی حد تک کم ہونے کے باعث جرمنی میں مال بردار جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ خشک سالی اور مسلسل کم بارش نے دریا کے کئی حصوں کو اس قدر کم گہرا کر دیا ہے کہ جہازوں کو اپنی معمول کی گنجائش سے کہیں کم سامان لے کر سفر کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ بعض مقامات پر بحری نقل و حمل تقریباً رکنے کے قریب پہنچ گئی ہے۔
پانی کی سطح کے ریکارڈ میں کمی
رائن میں پانی کی سطح میں یہ کمی طویل عرصے سے جاری شدید خشک اور گرم موسم کا نتیجہ ہے۔ جرمنی میں ’’کاوب‘‘ (Kaub) کا مقام رائن پر مال بردار جہازوں کیلئے ایک اہم گزرگاہ اور پیمائش کا مرکز ہے۔ یہاں پانی کی سطح انتہائی کم ہوچکی ہے اور حکام نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال مزید خراب ہونے کی صورت میں اس حصے سے جہازوں کی آمدورفت مکمل طور پر متاثر ہوسکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کاوب میں گیج ریڈنگ صرف چند سینٹی میٹر تک پہنچ گئی ہے۔ اگرچہ یہ ریڈنگ براہِ راست دریا کی اصل گہرائی نہیں بتاتی، تاہم ۱۴؍ سینٹی میٹر کی گیج ریڈنگ تقریباً ۲۷ء۱؍ میٹر قابلِ استعمال نیویگیشن گہرائی سے مطابقت رکھتی ہے۔ مزید کمی سے بڑے کارگو جہازوں کیلئے سفر مشکل ہوجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اردگان کا فلسطین کے قیام کیلئے ’پُرعزم‘ حمایت جاری رکھنے کا اعلان
جہازوں میں سامان کم کیا جا رہا ہے
کم پانی کی وجہ سے مال بردار جہاز مکمل طور پر لوڈ نہیں کئے جاسکتے۔ اگر جہاز زیادہ وزن کے ساتھ روانہ ہوں تو ان کے دریا کے نچلے حصے سے ٹکرانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لئے شپنگ کمپنیوں کو سامان کا وزن کم کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ایک ہی مقدار کا سامان پہنچانے کیلئے زیادہ جہاز یا متبادل ذرائع نقل و حمل استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ نتیجتاً ’’ٹرانسپورٹ لاگت اور ڈیلیوری کا وقت دونوں بڑھ رہے ہیں۔‘‘
جرمنی کی صنعتوں کیلئے بڑا خطرہ
رائن صرف ایک دریا نہیں بلکہ جرمنی اور پورے یورپ کیلئے ایک اہم صنعتی سپلائی روٹ ہے۔ اس کے ذریعے کیمیکل، تیل، گیس، کوئلہ، دھاتیں، خام مال اور دیگر صنعتی مصنوعات منتقل کی جاتی ہیں۔ پانی کی مسلسل کمی سے کیمیکل اور مینوفیکچرنگ صنعتوں کو خام مال کی ترسیل میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ صنعتی اداروں کو ریل اور سڑک کے ذریعے متبادل ترسیل پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے، جو عموماً زیادہ مہنگی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سورج گہن کے بعد ’آنکھوں میں درد‘ کی گوگل سرچز میں ۵؍ ہزار فیصد اضافہ
اربوں یورو کے معاشی نقصان کا خدشہ
ماہرین کے مطابق اگر پانی کی سطح مزید گرتی ہے اور رائن کے اہم حصوں میں جہاز رانی بند ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف شپنگ سیکٹر تک محدود نہیں رہیں گے۔ سپلائی چین میں تاخیر، ایندھن اور خام مال کی بڑھتی قیمتیں اور صنعتی پیداوار میں رکاوٹ جرمنی کی معیشت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق موجودہ صورتحال سہ ماہی اقتصادی پیداوار پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔
ٹرکوں پر بڑھ سکتا ہے دباؤ
دریائی نقل و حمل میں رکاوٹ کے باعث سامان کو سڑک کے ذریعے منتقل کرنے کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ اسی وجہ سے جرمنی کی بعض ریاستوں نے صورتحال سے نمٹنے کیلئے اتوار کو ٹرکوں کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی میں عارضی نرمی بھی کی ہے، تاکہ اضافی مال برداری کی گنجائش پیدا کی جاسکے۔
یہ بھی پڑھئے: میساچوسیٹس: ۱۷؍ سالہ ارجن پر ماں اور بھائی کے قتل کا الزام، چیٹ جی پی ٹی سے مدد لی
خشک سالی نے بحران کو مزید سنگین کردیا
رائن میں کم پانی کی بنیادی وجہ طویل عرصے سے جاری شدید خشک سالی، کم بارش اور غیر معمولی گرمی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں ایسے کم پانی والے ادوار پہلے بھی آتے رہے ہیں، لیکن موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید خشک سالی کے واقعات اور ان کے معاشی اثرات مستقبل میں زیادہ اہم مسئلہ بن سکتے ہیں۔