سلنڈر کی قیمت بڑھنے سے متعدد کار و باروں کے بند ہونے کا خدشہ۔
EPAPER
Updated: May 03, 2026, 11:31 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
سلنڈر کی قیمت بڑھنے سے متعدد کار و باروں کے بند ہونے کا خدشہ۔
ملک کی ۵؍ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے بعد اچانک تجارتی ایل پی جی کی قیمت میںتقریباً ایک ہزار روپے کے اضافے سے تجارتی اداروں بالخصوص ہوٹل والوں کو بڑا جھٹکا لگا ہے ۔ سلنڈر کی قلت کے ساتھ کمرشیل سلنڈر کی قیمت میں ایک ہزار روپے کے اضافے سے ہوٹل مالکان میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے ۔ چرنی روڈ پر واقع وائس انڈیا ریسٹورنٹ کے مالک معظم دبیرنے انقلاب کو بتایاکہ ’’ کمرشیل سلنڈر پر اچانک ایک ہزا ر روپے کے اضافے سے ایک مرتبہ پھر ہوٹل انڈسٹری تذبذب میں مبتلا ہے کہ وہ اس یکے بعد دیگر ے مسائل کا مقابلہ کیسے کرے ۔ ابھی ایران ،امریکہ اور اسرائیل جنگ کے اثرات سے ہم باہر نہیں نکل پائے ہیں ایسےمیں اچانک سلنڈر پر ایک ہزار روپے کا اضافہ کرنے سے ہماری پریشانی اور بڑھ گئی ہے ۔سمجھ نہیںآرہا ہے کیا کیا جائے ؟
یہ بھی پڑھئے: ممبئی کی میئر ریتو تاؤڑے نے نالہ صفائی کے کاموں کا جائزہ لیا
نیشنل ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن آف انڈیا کے نائب صدر پرنو رنگٹا کے مطابق ’’اچانک وہ بھی ایک ساتھ۹۳۳؍ روپے اضافے کی توقع ہمیں نہیں تھی ۔کمرشیل سلنڈرپر یہ اب تک کا سب سے زیادہ اضافہ ہے ۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اس کے بارے میں کچھ نہیں کیا جا سکتا ہے ۔‘‘انڈین ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن (آہار) کے صدر اور لوئر پریل میں اُڈوپی شری کرشنا ہوٹل کے مالک وجے شیٹی کے بقول ’’ صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے ۔اگر ایک ہزار روپے بڑھانے کا فیصلہ واپس نہیں لیا گیاتو کم ازکم ۲۰؍ فیصد مینوکو کم کرنا ہوگا ۔‘‘
سی ایس ایم ٹی پر واقع آرام وڑا پائوکے مالک کوستوبھ تامبے نے کہا کہ’’یہ اضافہ ریستو رانوں کیلئے دوہری مار جیسی ہے ۔یہ سلنڈر کی کمی کے بعد کے اثرات ہیں ۔ کمرشیل سلنڈرپر ایک ہزار روپے کے اضافے سے ماہانہ ۷۰؍ہزار روپے کاخرچ بڑھ گیاہے ۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی وڈاپائوکی قیمت ۲۵؍ سے ۳۰؍روپے اور تھالی کی قیمت ۹۰؍ سے ۱۰۰؍ روپے کی گئی ہے ۔ اب قیمت نہیں بڑھائی جاسکتی ،ایسے میں ۷۰؍ ہزار روپے کا اضافی بوجھ کون اُٹھائے گا ۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: تربوز نہیں، کوئی زہر پائیدھونی کی فیملی کے اراکین کی موت کا سبب بنا!
انکیت گپتانے جو دہلی این سی آر، ممبئی، بنگلور، احمد آباد، کولکاتا اور حیدرآباد میں تقریباً ۱۵؍ ریستوران چلاتے ہیں، کہا کہ’’ انہیں ان سبھی مقامات کیلئے ماہانہ ۳۵۰؍ سلنڈروں کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ فی سلنڈر ایک ہزار روپے کے اضافے سے ان کی کمپنی کو ماہانہ ساڑھے ۳؍لاکھ روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔گیس کی قیمت میں اضافہ ہونے سے ہر چیز میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔‘‘
ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن (ویسٹرن انڈیا) کے ترجمان پردیپ شیٹی نے کہا کہ’’ ایل پی جی کی قیمتوں میں تازہ ترین اضافہ منافع کو مزید کم کرے گا اور کاروبار کے عمل کو تیزی سے غیر پائیدار بنا دے گا۔ اس اقدام سے متعدد ہوٹل بند ہوجائیں گے اور ملازمتوں کا بھی بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔‘‘