Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایس آئی آر سروے میں بہ آسانی اندراج کس طرح کروائیں؟

Updated: March 29, 2026, 12:27 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

قارئین توجہ دیں کہ ایس آئی آر سروے انتہائی اہم ہے کیونکہ اگر سروے میں آپ نے بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) کی معرفت الیکشن کمیشن کو اطمینان بخش معلومات فراہم نہیں کیں تو آپ کا نام ووٹر لسٹ سے نکالا جاسکتا ہے۔

SIR help desk set up by Jamaat-e-Islami Hind in Mumbra. (Photo: Inquilab)
ممبرا میں جماعت اسلامی ہند کے ذریعے قائم کردہ ایس آئی آر ہیلپ ڈیسک۔ (تصویر: انقلاب)

ووٹر لسٹ میں بے ترتیبی کو ختم کرنے کیلئے الیکشن کمیشن آف انڈیا(ای سی آئی) کی جانب سے مہاراشٹر میں یکم اپریل سےووٹر لسٹ کی باریکی سے جانچ کرنے کیلئے’ اسپیشل انٹینسیو ریویژن ( ایس آئی آر ) ‘ سروے شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایس آئی آر کا سروے انتہائی ہم ہے کیونکہ اگر سروے میں آپ نے بوتھ لیول آفیسر( بی ایل او) کی معرفت الیکشن کمیشن کو اطمینان بخش معلومات فراہم نہیں کیں تو آپ کا نام ووٹر لسٹ سے نکالا جاسکتا ہے جس کےبعد آپ حق رائے دہی کے اپنے بنیادی جمہوری حق سے محروم بھی ہو سکتے ہیں اور اس کے بعد آپ کو ہندوستان کا شہری ہونے کا ثبوت بھی پیش کرنا پڑسکتا ہے۔ کچھ شبہات کو دور کرنے کیلئے انقلاب نے چند ماہرین سے رابطہ قائم کیا اور ایس آئی آر کے تعلق سے معلومات حاصل کی جو ذیل میں درج کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ممبئی احمد آباد بلٹ ٹرین روٹ پر کل ۲۵؍ ندیوں پر پل زیر تعمیر ہیں، طویل ترین پل ویترنا ندی پر بنے گا

ایس آئی آر کیا ہے

ایس آئی آر ووٹر لسٹ کی جامع جانچ یا نظرثانی کو کہتے ہیں۔ ۱۹۵۱ ء سے لے کر ۲۰۰۴ء تک یہ ۸؍ مرتبہ ہو چکا ہے۔ گزشتہ ایس آئی آر تقریباً ۲۱؍ سال قبل۲۰۰۲ءتا۲۰۰۴ء میں ہوا تھا۔جب ایس آئی آر کا سروے شروع ہوگا تب بوتھ لیول آفیسر( بی ایل او) جنہیں اس کا سروے کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے ،وہ ووٹروں کے گھر ’انومریشن فارم ‘لے کر جائیںگے اور ووٹر سے ضروری تفصیل پوچھ کر پُر کریں گے۔ اس مرحلہ سے پہلے پری انومریشن فیز ہوگا، اس فیز میں فیملی میپنگ ہوتی ہے۔ 

ووٹر کی میپنگ کیا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے

فیملی میپنگ کا مقصد یہ ہے کہ ووٹر کو اس کے سابقہ ریکارڈ کے ساتھ منسلک کرنا۔ اس میں ۲؍ طرح کی میپنگ کی جائے گی۔ ایک ہوتی ہی ’سیلف میپنگ‘ جس میں ووٹر کا نام موجود ہ ووٹر لسٹ اور سابقہ ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ دونوں میں موجو د ہوتو ان دونوں کی تفصیل کو منسلک /میچ کیاجاتا ہے۔ دوسری ہوتی ہے ’پروجینی میپنگ ‘ جس میں کسی ووٹر کا نام موجودہ ووٹر لسٹ میں ہے لیکن ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ میں اس کا نا م نہیں تھا یا وہ اس وقت بالغ نہیں تھا یا کوئی اور وجہ تھی لیکن اس کے قریبی رشتہ داروں : والدیا والدہ یا دادا یا دادی یانانا یا نانی کا نام ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ میں موجود تھا تو وایسی صورت میں اس ووٹر کی ابھی کی تفصیل اور اس کے والدیا والدہ یا دادا یا دادی یانانا یا نانی کی ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ کی تفصیل منسلک کرنی ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے: طلبہ کی تعداد بڑھانےکیلئے ’اسکول آپ کی دہلیز پر‘ مہم کا آغاز

میپنگ کیوں کرنی ہے؟ 

ووٹر میپنگ کے مقصد کے تعلق سے ماہرین بتاتے ہیںکہ ’’ میپنگ کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ جب ایس آئی آر کا سروے شروع ہوگا اور بی ایل او گھر پر آئیں گے تو جس ووٹر کی میپنگ ہو چکی ہوگی انہیں کسی قسم کا کوئی دستاویز پیش کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اور وہ ’سیف زون‘ میں آجائیں گے۔ میپنگ نہ کرانے والوں کو دستاویزات پیش کرنے پڑسکتے ہیں۔

 کسی کا نام موجودہ ووٹر لسٹ میں ہے لیکن ۲۰۰۲ء میں نہیں ...

ماہرین کے مطابق ’’اگر کسی شہری کا نام موجودہ ووٹر لسٹ میں ہے لیکن اس کااور اس کےقریبی رشتہ داروں میں سے کسی کا بھی ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ میں نہیں ہے تو ایسے شہریوں /ووٹروں کو ’رسک زون‘ میں شمار کیاجائے گا۔ ایسے معاملے میں اگر شہری ۱۹۹۷ء سے قبل پیدا ہوا ہے تو ایس آئی آر کے تحت جن دستاویز کو قابل قبول قرار دیا گیاہے، ان میں سے ایک تا ۳؍ دستاویزات پیش کرنی ہوںگی۔ اس کے بعد اس کی درخواست کی متعلقہ افسر کے پاس سماعت ہوگی اور دستاویزات سے مطمئن ہونے کےبعد اس کا نام ایس آئی آر/ووٹر لسٹ میں شامل کر دیاجائے گا۔

* جن شہریوں کی پیدائش ۱۹۹۷ء سے ۲۰۰۴ء کے درمیان ہوئی ہے ،ایسے شہریوں کو ان کی اپنی ایس آئی آر کی مقرر کردہ دستاویزات میںسے ایک تا ۳؍ دستاویزات اور اس کےوالد یا والدہ ان دونوں میں سے کسی ایک کا ایس آئی آر کی مقررہ دستاویزات( ایک ،۲ یا ۳) دینی ہوں گی۔

* ۲۰۰۴ء کے بعد پیدا ہونے والے شہریوں کو تیسری کیٹیگری میں شمار کیاگیا ہے ، ایسے شہریوں کو ذاتی دستاویزات اور والدین کی دستاویزات جمع کرانی ہوں گی۔

* ان دستاویز سے اگر بی ایل او مطمئن ہوگا تو شہری کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کیاجائے گاورنہ نہیں۔ اگر بی ایل او ووٹر کے خلاف فیصلہ لیتا ہے تو شہری اس کے فیصلہ کو الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر ( ای آر او) کےپاس چیلنج کر سکتا ہے۔

* شہری ای آر او کے فیصلہ سے بھی مطمئن نہیں ہوگا تو وہ ضلع مجسٹریٹ کے پہلی پہلی اپیل اور اس کے بعد ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر ( سی ای او ) کے پاس دوسری اپیل دائر کر سکتا ہے۔ ماہرین نے عوام سے اپیل کی کہ ان دستاویزات کو پیش کرنے کے جھنجھٹ سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ ایس آئی آر شروع ہونے قبل ہی میپنگ کر لیں۔

یہ بھی پڑھئے: نتیش رانے کی زہر افشانی کے خلاف کیس درج کرانے کی کوشش

بیرون شہر یا ریاست ۲۰۰۲ء کی لسٹ کا حوالہ کیسے تلاش کریں

اکثر ووٹر ایسے ہیں جو فی الحال جس اسمبلی حلقہ میں مقیم ہیں ،۲۰۰۲ء میں اسی حلقہ یا شہر یا ریاست میں نہیں رہتے تھے یا ان کے قریبی رشتہ دار اترپردیش یا دیگر کسی ریاست میں مقیم ہیں ایسے افراد کیلئے ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ کا حوالہ تلاش کرنے سے متعلق ماہرین کا مشورہ ہے کہ وہ وہاں کے رشتہ داروں یا پڑوسیوں سے۲۰۰۲ء کی فہرست حاصل کرنے کی کوشش کریں، اگر یہ ممکن نہ ہو تو وہ ہیلپ ڈیسک پر جائیں جہاں پر تربیت یافتہ رضاکار کچھ سوال پوچھ کر ان کی پرانی ووٹر لسٹ میں ووٹر کے رشتہ داروں کا نام تلاش کرنے میں مدد کرے گا۔مہاراشٹر کا ووٹر بیرون ریاست مقیم رشتہ داروں کا حوالہ دے سکتا ہے۔

ایس آئی آر کے لئے چند قابل قبول دستاویزات

* مرکزی حکومت /ریاستی حکومت یا پبلک سیکٹر یونٹ ( پی ایس یو)سے جاری کردہ شناختی کارڈ

* یکم جولائی ۱۹۸۷ء سے قبل حکومت /بلدیہ / بینک/ پوسٹ آفس/ایل آئی سی /سے جاری کردہ شناختی کارڈ/سرٹیفکیٹ یا کوئی دستاویز۔

* متعلقہ اتھاریٹی سے جاری کردہ برتھ سرٹیفکیٹ۔

* پاسپورٹ

* تسلیم شدہ بورڈ /یونیورسٹی سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ۔

* ریاستی محکمہ کی جانب سے جاری کردہ مستقل رہائش کا سرٹیفکیٹ۔

* شہری انتظامیہ یا ریاست کی جانب سے جاری کردہ میریج سرٹیفکیٹ۔

* او بی سی/ ایس سی / ایس ٹی یا اور کوئی ذات کا سرٹیفکیٹ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK