ہندوستان کی ۲۶۳؍ سیاسی جماعتوں کے صدور میں محض ۱۹؍ مسلمان، یہ انکشاف محمد عبد المنان کی نئی کتاب ،’’ایٹ دی باٹم آف دی لیڈر: اسٹیٹ آف دی انڈین مسلمز‘‘ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 31, 2026, 1:15 PM IST | New Delhi
ہندوستان کی ۲۶۳؍ سیاسی جماعتوں کے صدور میں محض ۱۹؍ مسلمان، یہ انکشاف محمد عبد المنان کی نئی کتاب ،’’ایٹ دی باٹم آف دی لیڈر: اسٹیٹ آف دی انڈین مسلمز‘‘ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے۔
ہندوستان میں سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے طور پر مسلمانوں کی نمائندگی غیر تسلی بخش رہی ہے۔ محمد عبد المنان کی نئی کتاب ،’’ایٹ دی باٹم آف دی لیڈر: اسٹیٹ آف دی انڈین مسلمز،‘‘ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں۱۵۰؍ کلیدی تنظیموں بشمول مرکزی وزارتوں، محکموں اور دیگر اداروں میں مسلمانوں کی موجودگی کا جائزہ لیا گیا ہے۔دنیا کی سب سے بڑی کثیر الجماعتی جمہوریت ہونے کے ناطے، بھارت میں وسط۲۰۲۵؍ تک چھ قومی جماعتیں، ۵۸؍ ریاستی جماعتیں اور۲۷۶۳؍ غیر تسلیم شدہ جماعتیں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اتراکھنڈ: انسانیت کی مثال، دیپک نے معمر مسلم دکاندار کو ہجوم سے بچایا
انڈین نیشنل کانگریس (INC) کے کل۹۸؍ سربراہوں میں سے نو مسلم لیڈراس کے صدر رہے ہیں۔کانگریس پارٹی کی قیادت کرنے والے پہلے مسلم بدر الدین طیب جی تھے، جبکہ مولانا ابوالکلام آزاد آخری مسلم صدر تھے جنہوں نے چھ سال تک پارٹی کی قیادت کی۔دوسری قدیم ترین سیاسی جماعت، شرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی)، جو۱۹۲۰ء میں پنجاب میں قائم ہوئی، نے اپنے تاریخ میں ۲۰؍ سربراہ دیکھے ہیں۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم)، جس کی بنیاد ۱۹۲۷ء میں رکھی گئی، کے تین سربراہ رہے ہیں، جو سب کے سب مسلمان ہیں، جن میں بیرسٹر اسد الدین اویسی بھی شامل ہیں۔
بعد ازاں ہندوستانی الیکشن کمیشن معروضی معیار کی بنیاد پر قومی اور ریاستی سطح کی سیاسی جماعتوں کو تسلیم کرتا ہے۔ایک تسلیم شدہ سیاسی جماعت کو مراعات حاصل ہوتی ہیں جیسے کہ مخصوص جماعتی علامت، سرکاری ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر مفت نشریاتی وقت، انتخابی تاریخوں کے تعین میں مشاورت، اور انتخابی قواعد و ضوابط مرتب کرنے میں تجاویز دینا۔ دیگر سیاسی جماعتیں جو مقامی، ریاستی یا قومی انتخابات میں حصہ لینا چاہتی ہیں، انہیں ای سی آئی کے ساتھ رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے۔ رجسٹرڈ جماعتوں کو ای سی آئی تسلیم شدہ قومی یا ریاستی جماعتوں میں ترقی دے سکتا ہے اگر وہ لوک سبھا یا ریاستی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے بعد متعلقہ معیار پر پورا اترتی ہیں۔۱۹۷۰ء کی دہائی کے دوران، نئی سیاسی جماعتیں ابھریں، جن میں ہندو بنیاد پرست گروپ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی سیاسی شاخ جن سنگھ بھی شامل ہے۔عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ۱۵؍ویں لوک سبھا انتخابات میں حصہ لینے والی۱۵۰۰؍ سے زیادہ سیاسی جماعتوں میں سے اکثریت صرف ایک بار میدان میں آئیں۔ صرف ۳۴؍ جماعتوں نے ان میں سے نصف سے زیادہ انتخابات میں حصہ لیا۔ فی الحال، صرف تین جماعتیں ہیں جو پورے ملک میں انتخابات میں حصہ لیتی ہیں، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، کانگریس اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی)۔ تاہم، اب تک صرف پہلی دو ہی مختلف ریاستوں سے سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی ہیں۔ لوک سبھا کے منتخب ہونے والے اراکین میں سے تقریباً نصف نے ان حلقوں میں۵۰؍ فیصد سے کم ووٹ کے حصے کے ساتھ جیت حاصل کی ہے جہاں انہوں نے انتخاب لڑا۔
یہ بھی پڑھئے: اترپردیش: ہردوئی میں بدعنوانی کی شکایات درج کرانے والی خاتون وکیل پر حملہ
انتخابی نگران ادارے ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کے مطابق، سیاسی جماعتیں قائم کرنے کے مقاصد انتخابی فوائد سے ہٹ کر بھی ہیں، جیسے آمدنی ٹیکس سے قانونی چھوٹ، جو ان کی کثرت کی ایک اور وجہ ہو سکتی ہے۔ دو بڑی قومی جماعتیں پورے ملک پر غالب ہیں ،بی جے پی اور کانگریس۔ اٹھارہ سیاسی جماعتوں نے۲۰۲۴ء کے انتخابات میں امیدوار کھڑے کیے تھے اور انہوں نے پہلے بھی پانچ سے زیادہ انتخابات میں امیدوار کھڑے کیے تھے، لیکن انہوں نے کبھی کوئی سیٹ نہیں جیتی۔۲۰۱۰ء کی ایک رپورٹ میں، انتخابی اصلاحات پر ایک سرکاری کمیٹی نے کہا تھا کہ بڑی تعداد میں امیدوار انتخابات کو ’’مشکل، مہنگا اور ناقابل انتظام‘‘ بناتے ہیں اور "سیکورٹی، قانون و نظم کے تحفظ کے لیے اخراجات میں اضافہ کرتے ہیں۔ایک رجسٹرڈ جماعت کو قومی جماعت سمجھا جاتا ہے اگر وہ تین میں سے ایک معیار پر پورا اترتی ہے: کم از کم تین ریاستوں سے لوک سبھا کی دو فیصد سیٹیں حاصل کرنا؛ چار ریاستوں میں چھ فیصد ووٹ اور چار لوک سبھا سیٹیں، یا اگر جماعت کو ملک کی چار یا زیادہ ریاستوں میں ریاستی جماعت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ای سی آئی کے مطابق،۵۲؍ سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جو ایک ریاست میں فعال ہیں، جن میں سے پانچ کی قیادت مسلمان کر رہے ہیں۔ محبوبہ مفتی جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر ہیں جو۱۹۹۹ء میں قائم ہوئی۔ فاروق عبد اللہ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سربراہ ہیں جو۱۹۳۲ء میں قائم ہوئی۔ صادق علی شہاب تھنگل انڈین یونین مسلم لیگ (آئی آئی یو ایم ایل) کے سربراہ ہیں جو۱۹۴۸ء میں قائم ہوئی۔ بدرالدین اجمل آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے سربراہ ہیں جو۲۰۰۵ء میں قائم ہوئی۔ بیرسٹر اسد الدین اویسی کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کی بنیاد۱۹۲۷ء میں رکھی گئی تھی۔
تاہم آٹھ ریاستی جماعتیں جو دو ریاستوں میں موجود ہیں، ان میں سے کسی کی بھی قیادت کوئی مسلمان نہیں کر رہا۔ کل۶۵؍ قابل ذکر آر یو پی پی میں سے دس کی قیادت مسلمان کر رہے ہیں۔ ایس کیو آر الیاس ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے سربراہ ہیں جو۲۰۱۱ء میں قائم ہوئی۔ ایم کے فائزی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کی قیادت کر رہے ہیں جو۲۰۰۹ء میں قائم ہوئی۔ عامر رشیدی مدنی کی راشٹریہ علماء کونسل۲۰۰۸ء میں سامنے آئی۔ پیس پارٹی آف انڈیا، جو۲۰۰۸ء میں قائم ہوئی، کی قیادت محمد ایوب کر رہے ہیں۔ایم ایچ جواہر اللہ نے منیتھانیا مکل کچی (ایم ایم کے)۲۰۰۹ء میں قائم کی۔ جنید، جموں و کشمیر ورکرز پارٹی کے سربراہ ہیں جو انہوں نے۲۰۲۰ء میں قائم کی۔۲۰۲۰ء سے، الطاف بخاری جموں و کشمیر اپنی پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں۔ توقیر رضا خان نے۲۰۰۱ء میں اتحاد ملت کونسل قائم کی جبکہ نوشاد صدیقی کی انڈین سیکولر فرنٹ۲۰۲۱ء میں وجود میں آئی۔ حیدرآباد کی متنازعہ خاتون کاروباری نوحرہ شیخ نے آل انڈیا مہیلا امپاورمنٹ پارٹی۲۰۱۷ء میں قائم کی۔