• Fri, 02 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہند پاک تعلقات میں جمود کے باوجود جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا باہم تبادلہ

Updated: January 02, 2026, 7:03 PM IST | New Delhi

ہندوستان اور پاکستان نے تعلقات میں کشیدگی کے باوجود جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ کیا، یہ معاہدہ گزشتہ سال معطل کردیا گیا تھا، تاہم تعلقات میں کشیدگی کو کم کرنے کی یہ ایک کوشش ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ایک معاہدے کے تحت، ہندوستان اور پاکستان جنوری ۱۹۹۱ءسے ہر سال جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے آئے ہیں، حالانکہ نئی دہلی نے گزشتہ سال اہم معاہدہ معطل کر دیا تھا۔ تاہم ہندوستان اور پاکستان نے نیا سال جوہری تنصیبات اور شہری قیدیوں بشمول ماہی گیروں کی فہرستوں کے تبادلے سے شروع کیا، جو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس اس کشیدگیکے درمیان معمول کی سفارتی کوشش ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آپریشن سیندور : ٹرمپ کے بعد اب چین نے بھی ثالثی کا دعویٰ کیا

دریں اثناء دونوں ممالک کے اہلکاروں کے مطابق، یہ تبادلہ نئے سال کے دن نئی دہلی اور اسلام آباد میں بیک وقت ہوا، جو باہمی عدم اعتماد کو کم کرنے اور سفارتی رسائی کو یقینی بنانے کے مقصد سے بنائے گئے دو طرفہ معاہدوں کے مطابق تھا۔بعد ازاںپاکستان کے خارجہ دفتر نے اس تبادلے کی تصدیق کی، اور ترجمان طاہر اندرابی نے صحافیوں کو بتایا کہ اسلام آباد نے۲۵۷؍ ہندوستانی قیدیوں کی فہرست دی ہے، جن میں۱۹۹؍ ماہی گیر اور۵۸؍ دیگر شہری شامل ہیں جو فی الحال پاکستان میں قید ہیں۔ساتھ ہی اندرابی نے کہا کہ دونوں فریقوں نے جوہری تنصیبات اور سہولیات پر حملوں کی ممانعت کے معاہدے کے تحت اپنی جوہری تنصیبات کی تازہ ترین فہرستیں بھی شیئر کی ہیں، جو۱۹۹۱ء کے معاہدے کے مطابق ہے۔واضح رہے کہ اس معاہدے کے تحت، جو۲۷؍ جنوری۱۹۹۱ء سے نافذ العمل ہے،  جس کے تحت دونوں ممالک یکم جنوری۱۹۹۲ء سے ہر سال جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے آئے ہیں۔ ہندوستان کے خارجہ دفتر کے مطابق، اس سال کا تبادلہ مسلسل۳۵؍ ویں بار تھا ، حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی جمود اور کشیدگی ہنوز برقرار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ اور جرمنی میں مقیم تین کشمیریوں کو این آئی اے عدالت میں پیش ہونے کا حکم

ہندوستان کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی:
ہندوستان نے دعویٰ کیا کہ اپریل۲۰۲۵ء میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیاحوں پر حملےکا تعلق پاکستان سے ہے، حالانکہ اس نے اپنے دعوے کی حمایت کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔جبکہ اسلام آباد نے نئی دہلی کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے حملے کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ تاہم، نئی دہلی نے دہائیوں پرانے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا۔سندھ طاس معاہدہ، جو ۱۹۶۰ءمیں عالمی بینک کی ثالثی میں دستخط شدہ  ہے،جس کے تحتمشرقی دریاؤں (راوی، بیاس، اور ستلج) پر ہندوستان کا حق ہے، جبکہ پاکستان کو مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم، اور چناب) کے حقوق حاصل ہیں۔اس معاہدے کی معطلی کے بعد ہندوستانی اور پاکستانی فوجوں کے درمیان چار دن تک مسلح تصادم ہوا، جس میں دونوں طرف میں تقریباً۶۰؍ افراد ہلاک ہوئے، جس سے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان مکمل جنگ کے خدشات پیدا ہو گئے۔ بعد ازاں امریکہ کی مداخلت کے بعد کشیدگی کم ہوئی۔ اس دوران پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس نے چھ ہندوستانی جنگی جہازوں کو  مارگرایا ہے، جن میں فرانس میں بنے رافیل جنگیجہاز بھی شامل ہیں۔لیکن ہندوستان نے پاکستان کے اس عوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھئے: سالِ نو پر لیڈروں نےعوام کی بہتر صحت ، خوشحالی اور امن وامان کی تمنا کی

ہندوستان کے وزارت خارجہ نے کہا کہ اس نے پاکستان کو۳۹۱؍ شہری قیدیوں اور۳۳؍ ماہی گیروں کی تفصیلات فراہم کی ہیں جو ہندوستان کی تحویل میں ہیں اور جو پاکستانی ہیں یا پاکستانی شہری سمجھے جاتے ہیں۔نئی دہلی نے پاکستان میں قید ہندوستانی شہریوں، ماہی گیروں کو ان کی کشتیوں کے ساتھ، اور لاپتہ ہندوستانی دفاعی اہلکاروں کی جلد رہائی اور وطن واپسی کا مطالبہ بھی کیا۔ ساتھ ہی ہندوستان  نے اسلام آباد پر زور دیا کہ وہ پاکستانی تحویل میں موجود۳۵؍ ایسے قیدیوں اور ماہی گیروں کو فوری سفارتی رسائی فراہم کرے جو ہندوستانی شہری سمجھے جاتے ہیں اور جنہیں اب تک ایسی رسائی حاصل نہیں ہوئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK