Updated: March 27, 2026, 9:04 PM IST
| Tehran
ایران جنگ کے دوران علاقائی کشیدگی خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے زمینی فوج تعینات کی تو خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جبکہ یمن کے حوثی گروپ نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ اس جنگ میں غیر جانبدار نہیں رہے گا۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر ایران کے سپریم لیڈر کی مبینہ آخری تصویر بھی زیر بحث آ گئی ہے۔
یمن کے حوثی گروپ۔ تصویر: ایکس
(۱) حوثی گروپ کا اعلان، ’’ہم غیر جانبدار نہیں‘‘
یمن کے حوثی گروپ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں غیر جانبدار نہیں رہے گا۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ ’’ہم اس تنازع میں غیر جانبدار نہیں ہیں اور حالات کے مطابق کارروائی کریں گے۔‘‘ حوثیوں نے عندیہ دیا کہ اگر صورتحال مزید بڑھی تو وہ براہ راست فوجی مداخلت کر سکتے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے مند ب پرحملہ کی دھمکی
(۲) ایران کی دھمکی، امریکی زمینی فوج آئی تو یو اے ای کو نشانہ بنایا جائے گا
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں زمینی فوج تعینات کی تو متحدہ عرب امارات کی توانائی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ ’’ہم اپنے دفاع میں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ مزید فوجی تعیناتی پر غور کر رہا ہے۔ یہ دھمکی ظاہر کرتی ہے کہ جنگ خلیجی ممالک تک پھیل سکتی ہے۔ اس بیان کے بعد خطے میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایرانی حملوں کے بعد امریکی فوجیوں کا ورک فرام ہوم، خلیجی اڈے شدید متاثر
(۳) خامنہ ای کی ’’آخری تصویر‘‘ وائرل، حقیقت کیا ہے؟
سوشل میڈیا پر ایران کے سپریم لیڈر کی ایک مبینہ ’’آخری تصویر‘‘ وائرل ہو رہی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ حالیہ ہے۔ تاہم رپورٹس کے مطابق اس تصویر کی تصدیق نہیں ہو سکی اور اس کی حقیقت مشکوک ہے۔ ذرائع نے کہا کہ یہ تصویر ممکنہ طور پر پرانی یا ایڈیٹڈ ہو سکتی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کے دوران اطلاعاتی جنگ (information warfare) بھی تیز ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ سوشل میڈیا بھی اس تنازع کا ایک اہم میدان بن چکا ہے۔