ایرانی ریال کی قدر میں ریکارڈ گراوٹ، احتجاج کی فوری وجہ بنی۔ ایرانی کرنسی دسمبر ۲۰۲۵ء میں امریکی ڈالر کے مقابلے تقریباً ۱۴ لاکھ ۵۰ ہزار تک پہنچ گئی۔
EPAPER
Updated: January 01, 2026, 8:03 PM IST | Tehran
ایرانی ریال کی قدر میں ریکارڈ گراوٹ، احتجاج کی فوری وجہ بنی۔ ایرانی کرنسی دسمبر ۲۰۲۵ء میں امریکی ڈالر کے مقابلے تقریباً ۱۴ لاکھ ۵۰ ہزار تک پہنچ گئی۔
ایران میں معاشی بدحالی، کرنسی کی قدر میں کمی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف گزشتہ کئی برسوں کی بے چینی نے شدید ترین ملک گیر احتجاج کی صورت اختیار کرلی ہے۔ اسلامی ملک کے کئی شہروں میں حالات اب ہلاکت خیز رخ اختیار کرچکے ہیں۔ شدید مظاہروں کے درمیان، صدر مسعود پیزشکیان نے قومی اتحاد کی اپیل کی ہے، جبکہ جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی نے اعلان کیا کہ ”نئے ایران کی پیدائش“ قریب ہے۔
عوام کے احتجاج میں شدت اور تشدد کی اطلاعات
یہ احتجاج گزشتہ ہفتے ایرانی کرنسی کی قدر میں ریکارڈ گراوٹ کے بعد شروع ہوئے اور تہران سے اہواز، ہمدان، مشہد، قشم، فسا اور کوہ دشت جیسے شہروں تک تیز رفتار سے پھیل گیا۔ بدھ کے دن جنوبی شہر فسا میں مظاہرین نے صوبائی گورنر کے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی اور عمارت کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچایا۔ اس واقعے کے بعد سیکوریٹی فورسز نے مداخلت کی۔ حکام کے مطابق چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس تصادم میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان ایران پر دوبارہ حملے کیلئے تبادلۂ خیال: رپورٹ
مغربی صوبے لرستان میں بسیج پیرا ملٹری فورس کا ایک ۲۱ سالہ رضاکار اہلکار جھڑپوں کے دوران ہلاک ہوگیا۔ یہ احتجاج کے آغاز سے اب تک کسی سیکوریٹی اہلکار کی پہلی تصدیق شدہ ہلاکت ہے۔ سرکاری میڈیا نے ان ہنگاموں کو "فسادات" قرار دیا ہے، جبکہ عینی شاہدین اور انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہجوم، سیاسی تبدیلی اور علماء کی حکمرانی کے خاتمے کے حق میں نعرے لگا رہا ہے۔ کچھ مظاہرین نے کھلے عام رضا پہلوی کی حمایت کا اظہار بھی کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ۲۰۲۵ء کا اختتام نفرت انگیز پیغامات سے کیا، کہا حریف جہنم میں سڑیں گے
معاشی بحران: بے چینی کی اصل بنیاد
ایرانی ریال کی قدر میں ریکارڈ گراوٹ، احتجاج کی فوری وجہ بنی۔ ایرانی کرنسی دسمبر ۲۰۲۵ء میں امریکی ڈالر کے مقابلے تقریباً ۱۴ لاکھ ۵۰ ہزار تک پہنچ گئی، جس کی وجہ سے گزشتہ سال کے آغاز سے اب تک اس کی قدر تقریباً آدھی ہوگئی ہے۔ اس کمی کی وجہ سے ملک میں افراطِ زر کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں ۷۰ فیصد اور طبی سامان کی قیمتیں ۵۰ فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔ عوام کے غصے میں مزید اضافہ ۲۰۲۶ء کے مجوزہ بجٹ سے ہوا جس میں ٹیکسوں میں ۶۲ فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ تہران کے گرینڈ بازار کے تاجروں نے دکانیں بند کرکے سب سے پہلے احتجاج درج کرایا۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جسے ایران کی تاریخ میں عوامی بے چینی کا ایک طاقتور اشارہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک سٹی: پہلے مسلمان میئر ظہران ممدانی نے قرآن مجید پر حلف لیا
صدر کی ’مکمل جنگ‘ کے دوران اتحاد کی اپیل
تہران میں ایک بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر پیزشکیان نے بدامنی کا ذمہ دار بیرونی دباؤ اور غیر ملکی مداخلت کو قرار دیا اور کہا کہ ایران کو معاشی ذرائع سے ایک ”مکمل جنگ“ کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”آپ کسی قوم کو بموں یا میزائلوں سے فتح نہیں کرسکتے۔“ انہوں نے ایرانیوں پر زور دیا کہ وہ پابندیوں اور معاشی دباؤ کے ذریعے ملک کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے والی کوششوں کے خلاف متحد رہیں۔ حکومت نے مظاہرین کے ساتھ بات چیت کے طریقہ کار کا وعدہ تو کیا ہے لیکن یہ وارننگ بھی دی کہ اگر مظاہرے پرتشدد ہوئے تو ’فیصلہ کن‘ جواب دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کے ذریعے’’انروا‘‘ کو نشانہ بنانے پراقوام متحدہ کے سربراہ کی سخت تنقید
رضا پہلوی کی حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ
اپنے نئے سال کے پیغام میں پہلوی حکومت کے جلا وطن ولی عہد رضا پہلوی نے احتجاج کی مکمل حمایت کرتے ہوئے موجودہ نظام کے تحت ”۴۶ سالہ دہشت اور افراتفری“ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکمران طبقہ ”انتہائی کمزور، اندرونی طور پر تقسیم اور ابھرتی ہوئی قوم کی ہمت کو دبانے کے قابل نہیں ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”بڑھتا ہوا احتجاج ظاہر کرتا ہے کہ یہ سال تبدیلی کیلئے ایک فیصلہ کن لمحہ ہوگا۔“ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایرانی عوام کی صرف لفظی حمایت نہ کریں بلکہ ٹھوس اقدامات کریں۔