Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ : بنگلہ دیش کاگارمنٹ کاروبار شدید دباؤ کا شکار

Updated: March 28, 2026, 10:17 PM IST | Dhaka

ایران جنگ کے نتیجے میں بنگلہ دیش کاگارمنٹ کاروبار شیدید دبائو کا شکار کا سامنا کررہا ہے، شپنگ کے اخراجات میں اضافہ اور ایندھن کی ترسیل میں رکاوٹ اس سست روی کو مزید گہرا کررہی ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

بنگلہ دیش کے وسیع گارمنٹس جو دنیا کی تیز ترین ترقی کرتی برآمدی معیشتوں میں سے ایک کی علامت رہی ہے مشرق وسطیٰ میں ہونے والے بحران کےسبب کمزور پڑنے لگی ہے۔امریکہ-اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ نے شپنگ روٹس کو متاثر کر دیا ہے،توانائی کے بازار کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور اس صنعت میں غیر یقینی کی ایک نئی صورتحال شامل کر دی ہے جو جنوبی ایشیائی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔تیار شدہ گارمنٹس کا شعبہ، جو بنگلہ دیش کی برآمدی آمدنی کا۸۰؍ فیصد سے زیادہ ہے ،گزشتہ سال ۴۸؍بلین ڈالر سے زیادہ اور تقریباً۴۰؍ لاکھ کارکنان کو روزگار دیتا ہے، تازہ ترین کشیدگی سے پہلے ہی تناؤ کے دور سے گزر رہا تھا۔اب نیا جھٹکا اس مندی کو مزید گہرا کر رہا ہے۔سرکاری تجارتی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یورپی یونین بنگلہ دیش کی سب سے بڑی مارکیٹ کو ملبوسات کی برآمدات جنوری۲۰۲۶ء میں ۱؍ اعشاریہ ۵۵؍ بلین ڈالر گھٹ گئی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں۲۵؍ اعشاریہ ۲۵؍ فیصد کی کمی ہے۔برآمدی حجم میں۱۷؍ اعشاریہ۴۹؍ فیصد کی کمی ہوئی، جبکہ اوسط یونٹ قیمت میں۹؍ اعشاریہ ۴۱؍ فیصد کی کمی آئی، جو تجزیہ کاروں کے مطابق علاقائی عدم استحکام کے درمیان کمزور مانگ اور گرتی ہوئی قیمتوں کی ’’دوہری چوٹ‘‘ کو ظاہر کرتی ہے۔اس نزاکت نے برآمد کنندگان میں خطرے کی گھنٹی بڑھا دی ہے۔بنگلہ دیش گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (BGMEA) کے سینئر نائب صدر عنام الحق خان نے انادولو کو بتایا، ’’اب ایران تنازع کے ساتھ، خدشات ہیں کہ برآمدات میں مزید کمی آئے گی۔‘‘ایسوسی ایشن کے صدر محمود حسن خان نے بھی گزشتہ ہفتے اسی طرح کاانتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ نے ’’لاجسٹکس اور توانائی کی لاگت دونوں کو غیر مستحکم کرکے اس شعبے کے لیے ایک نیا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: دنیا سڑکوں پر، ٹوکیو سے یورپ تک ایران جنگ کے خلاف احتجاج شدت اختیار

واضح رہے کہ خلیجی خطہ ایشیا کو یورپ سے ملانے والے دنیا کے سب سے اہم بحری راستوں پر واقع ہے۔ کوئی بھی رکاوٹ چاہے وہ سیکیورٹی رسک ہو، زیادہ انشورنس پریمیم ہو یا جہازوں کے راستے بدلنا بنگلہ دیش کی برآمدی ترسیل  پر فوری اثر ڈالتی ہے۔مال برداری کے اخراجات، جو کرونا وبا کے دور میں رکاوٹوں کے بعد حال ہی میں کم ہوئے تھے، پھر سے بڑھ رہے ہیں۔ صنعت کے ذرائع بتاتے ہیں کہ غیر مستحکم خطوں سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے جنگی خطرہ انشورنس پریمیم میں اضافہ ہوا ہے، جس سے مجموعی لاجسٹک اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔توانائی کا دباؤ شدت اختیار کر گیا، توانائی سب سے فوری کمزوریوں میں سے ایک بن کر ابھری ہے۔بنگلہ دیش درآمد شدہ ایندھن، بشمول مائع قدرتی گیس (LNG) پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جس کا زیادہ تر حصہ مشرق وسطیٰ کی منڈیوں سے  منسلک ہے۔جیسے جیسے کشیدگی تیل اور گیس کی قیمتوں کو بلند کر رہی ہے، مینوفیکچررز بڑھتے ہوئے آپریٹنگ اخراجات کا سامنا کر رہے ہیں ۔چھوٹے اور درمیانے درجے کے مینوفیکچررز خاص طور پر زیادہ متاثر نظر آتے ہیں۔کچھ کاروبارکم منافع پر چل رہے ہیں، جبکہ دیگر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے درمیان توسیع کے منصوبوں پر نظرثانی کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: خفیہ مذاکرات تیز، امریکہ ایران رابطے بڑھے، روس بھی سفارتی میدان میں

بعد ازاں وزیر اعظم طارق رحمان کے معاشی اور منصوبہ بندی کے مشیر راشد عالم محمود تیتمیر نے کہا، ’’حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے تاکہ صنعتی علاقے کو ایندھن کی ضروری فراہمی یقینی بنائی جا ئے تاکہ وہ اپنے کام جاری رکھ سکیں۔‘‘انہوں نے انادولو کو بتایا، ’’حکومت نے صنعتی شعبے کو مدنظر رکھتے ہوئے گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ نہیں کیا۔‘‘تیتمیر نے کہا کہ بنگلہ دیش بڑے ترقیاتی شراکت داروں، بشمول ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB)، عالمی بینک، انٹرنیشنل اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔انہوں نے اشارہ دیا کہ ملک کو موجودہ پروگرام کے تحت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) سے تقریباًایک اعشاریہ ۳؍ بلین ڈالر، اور اضافی۲۵۰؍ ملین سے۵۰۰؍ ملین ڈالر ملنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے تقریباً۵۰۰؍ ملین ڈالر کا بجٹ سپورٹ بھی شامل ہوگا۔تاہم ، تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ وسیع تر معاشی اثرات اہم ہو سکتے ہیں۔حالیہ گلوبل ٹریڈ اینالیسس پروجیکٹ (GTAP) کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا طویل تنازعہ بنگلہ دیش کی جی ڈی پی میں 3 فیصد تک کمی لا سکتا ہے، جو بڑی حد تک تجارتی رکاوٹوں اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: ہرمز بحران شدت اختیار، عالمی توانائی خطرے میں، سفارتی کوششیں تیز

دریں اثناء آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے Maersk، Hapag-Lloyd اور CMA CGM سمیت بڑی کیریئر کمپنیوں نے خطے کے کچھ حصوں میں اپنی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔اطلاعات کے مطابق، اس علاقے میں سینکڑوں بحری جہاز کھڑے ہیں، جبکہ جنگی خطرہ انشورنس پریمیم میں۵۰؍ فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔رفتار اور بھروسے پر قائم کسیصنعت کے لیے، یہ رکاوٹیں سنگین نتائج کی حامل ہیں۔فاسٹ فیشن سیکٹر میں، معمولی تاخیر بھی منافع کی شرح نقصان پہنچا سکتی ہے۔جبکہ بنگلہ دیش کی گارمنٹس صنعت۴؍ فیصد سے بھی کم شرح منافع پر چلتی ہے، جس میں اضافی اخراجات برداشت کرنے کے لیے بہت کم گنجائش رہ جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK