نیتن یاہو ۷؍ اکتوبر کے حملوں سے قبل عرب امارات کے انتباہ کے ہاریٹز کے دعوے پر اخبار پر مقدمہ کریں گے،اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنے وکلاء کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہاریٹز اخبار اور صحافی شلومی ایلدار کے خلاف ’’ہتک عزت کا مقدمہ‘‘ دائر کریں۔
EPAPER
Updated: September 10, 2026, 7:02 PM IST | Tel Aviv
نیتن یاہو ۷؍ اکتوبر کے حملوں سے قبل عرب امارات کے انتباہ کے ہاریٹز کے دعوے پر اخبار پر مقدمہ کریں گے،اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنے وکلاء کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہاریٹز اخبار اور صحافی شلومی ایلدار کے خلاف ’’ہتک عزت کا مقدمہ‘‘ دائر کریں۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے، اس رپورٹ کے سلسلے میں جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ انہیں۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کو حماس کی کارروائی سے قبل متحدہ عرب امارات کی طرف سے وارننگ دی گئی تھی اپنے وکلاء کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہاریٹز اخبار اور صحافی شلومی ایلدار کے خلاف ’’ہتک عزت کا مقدمہ‘‘ دائر کریں۔ یہ خبر یروشلم پوسٹ نے دی ہے۔بدھ کو اخبار کے حوالے سے جاری بیان میں وزیر اعظم کے دفتر نے ہاریٹز کی رپورٹ کو ’’مکمل طور پر من گھڑت‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ستمبر۲۰۲۳ء کے آغاز سے ۷؍کتوبر کی کارروائی تک نیتن یاہو اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
بعد ازاں دفتر نے کہا کہ اس عرصے میں نیتن یاہو کی کال کے ریکارڈ اور وزیر اعظم کے دفتر میں آمد کے ریکارڈ کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی اماراتی نمائندے کا کوئی دورہ نہیں ہوا۔اس نے ہاریٹز پر الزام لگایا کہ اس نے یہ رپورٹ اسرائیل میں۲۷؍ اکتوبر کے انتخابات سے قبل سیاسی طور پر محرک مہم کے حصے کے طور پر شائع کی۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم کے دفتر نے شین بیٹ کے سابق سربراہ رونین بار اور اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ ہرزی ہالیوی کو بھی۷؍ اکتوبر کی کارروائی سے متعلق ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا، اور الزام لگایا کہ انہوں نے کارروائی شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل حملے کے اشارے دیکھے تھے لیکن نیتن یاہو کو بروقت اطلاع نہیں دی۔
تاہم یروشلم پوسٹ کے مطابق، ہاریتز نے منصوبہ بند مقدمے کے جواب میں کہا کہ وہ اپنی رپورٹنگ پر قائم ہے۔دریں اثنا، نیتن یاہو کی حکمران لیکوڈ پارٹی نے بدھ کو الزام لگایا کہ صحافی شلومی ایلدار نے ’’یائر گولان کی ڈیموکریٹس پارٹی سے منسلک ایک بائیں بازو کی تنظیم سے رقم وصول کی، تاکہ اپنی جھوٹی ہتک عزت پھیلائے۔‘‘لیکوڈنے ایک بیان میں کہا، جسے نیتن یاہو نے ایکس پر بھی شیئر کیا: ’’مزید یہ کہ تقریباً دو ماہ قبل یائر گولان اور رونین بار نے خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا۔ کیا یہ خفیہ دورہ ہاریٹز کی شائع کردہ جھوٹی رپورٹ سے جڑا ہوا ہے؟‘‘ جبکہ اس مبینہ کوشش پر کہ غیر ملکی عناصرکے ساتھ اسرائیل کے آنے والے انتخابات میں مداخلت کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: نتن یاہو ایک منٹ بھی اسرائیلی وزیراعظم رہنے کا اہل نہیں، استعفے کا مطالبہ
واضح رہے کہ یہ تنازع ہاریٹز کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ نیتن یاہو کو۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کو حماس کی کارروائی سے قبل متحدہ عرب امارات سے وارننگ ملی تھی لیکن انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا۔اس رپورٹ کے باعث اسرائیلی اپوزیشن لیڈرنفتالی بینیٹ، آئزنکوٹ، لیبرمین اور گولان نے منگل کو مطالبہ کیا کہ۷؍ اکتوبر سے متعلق واقعات کی فوری طور پر ریاستی تحقیقاتی کمیشن قائم کی جائے۔اپوزیشن لیڈروں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اسرائیلی عوام کا حق ہے کہ وہ جانے حملے سے قبل، دوران اور بعد میں کیا ہوا، ساتھ ہی انہوں نے نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ انہوں نے ان کے پاس براہ راست پہنچنے والی سنگین وارننگوں کو نظر انداز کیا۔انہوں نے عہد کیا کہ اگر وہ اگلی حکومت بناتے ہیں تو فوری طور پر ریاستی تحقیقاتی کمیشن قائم کریں گے۔نیتن یاہو کو ۷؍ اکتوبر کی کارروائی سے قبل کے واقعات سے متعلق اپنی حکومت کے ردعمل پر مسلسل تنقید کا سامنا ہے، اور انہوں نے ریاستی تحقیقاتی کمیشن کے مطالبات کی مزاحمت کی ہے، جبکہ یہ دلیل دی ہے کہ ذمہ داری کے سوالات جنگ کے بعد حل کیے جانے چاہئیں۔