Updated: January 21, 2026, 6:04 PM IST
| Washington
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے جس کا مقصد غزہ جنگ بندی سمیت عالمی تنازعات کی نگرانی بتایا جا رہا ہے۔ یہ بورڈ ابتدا میں محدود دائرہ کار کا حامل تھا، تاہم، اب اسے عالمی سطح پر ایک بااثر ثالثی فورم کے طور پر وسعت دی جا رہی ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این۔
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے بدھ (۲۱؍ جنوری ۲۰۲۶ء) کو کہا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، حالانکہ اس سے قبل ان کے دفتر نے بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کی تشکیل پر تنقید کی تھی، جس میں علاقائی حریف ترکی بھی شامل ہے۔ نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کی دعوت قبول کر لی ہے۔ صدر ٹرمپ کی قیادت میں قائم بورڈ آف پیس کا تصور ابتدا میں عالمی لیڈروں کے ایک چھوٹے گروپ کے طور پر کیا گیا تھا جس کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کے منصوبے کی نگرانی کرنا تھا۔ تاہم، ٹرمپ انتظامیہ کے عزائم وقت کے ساتھ وسیع ہو گئے ہیں، اور صدر ٹرمپ نے درجنوں ممالک کو دعوت نامے بھیج دیئے ہیں اور عندیہ دیا ہے کہ یہ بورڈ جلد ہی عالمی تنازعات میں ثالثی کرے گا، گویا یہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک متبادل ہو۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی فرانس کو امن بورڈ کی دعوت، فرانس اقوام متحدہ منثور پرقائم، ٹیرف کی دھمکی
مزید تفصیلات اس وقت سامنے آنے کی توقع ہے جب صدر ٹرمپ جمعرات کو سوئزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے موقع پر بورڈ آف پیس کے بارے میں ایک اعلان میں شریک ہوں گے۔ بورڈ کے چارٹر کو تاحال عوام کے سامنے جاری نہیں کیا گیا، تاہم، اسوسی ایٹڈ پریس کو موصول ہونے والے ایک مسودے کے مطابق زیادہ تر اختیارات خود صدر ٹرمپ کے ہاتھ میں مرکوز ہوں گے۔ مسودے میں کہا گیا ہے کہ ایک ارب ڈالر کی شراکت مستقل رکنیت کی ضمانت دے گی۔ اب تک کم از کم آٹھ ممالک اسرائیل، متحدہ عرب امارات، مراکش، ویتنام، قزاخستان، ہنگری، ارجنٹائنا اور بیلاروس نے اس میں شرکت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے پیراگوئے کے صدر سانتیاگو پینا، کنیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کو بھی دعوت نامے ارسال کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ روس، اسرائیل، ہندوستان، سلووینیا، تھائی لینڈ اور یورپی یونین کے ایگزیکٹو بازو نے بھی کہا ہے کہ انہیں دعوت موصول ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گرین لینڈ تنازع: ٹرمپ کی نیٹو چیف سے گفتگو، امریکہ کے نئے نقشے میں کنیڈا اور گرین لینڈ شامل
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس اس وقت ’’تفصیلات کا مطالعہ ‘‘کر رہا ہے اور امریکہ کے ساتھ رابطوں میں ’’تمام پہلوؤں‘‘ کی وضاحت طلب کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے پیر (۱۹؍ جنوری۲۰۲۶ء) کی شب تصدیق کی تھی کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کو دعوت دی گئی ہے۔ یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ مزید کتنے یا کون سے دیگر لیڈران کو دعوت دی جائے گی۔ ایگزیکٹو بورڈ کے اراکین میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر، اپولو گلوبل مینجمنٹ کے سی ای او مارک روون، عالمی بینک کے صدر اجے بنگا، اور ٹرمپ کے نائب قومی سلامتی مشیر رابرٹ گیبریل شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: داؤس۲۰۲۶ء میں ٹرمپ کی ’’غزہ پیس بورڈ‘‘ کی پیش رفت، ممبران میں تذبذب اور اضطراب
وہائٹ ہاؤس نے ایک اور بورڈ، غزہ ایگزیکٹو بورڈ، کے اراکین کا بھی اعلان کیا، جو جنگ بندی معاہدے کے مطابق معاہدے کے مشکل دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کا ذمہ دار ہوگا۔ اس میں ایک بین الاقوامی سیکوریٹی فورس کی تعیناتی، حماس کو غیر مسلح کرنا، اور جنگ سے تباہ شدہ علاقے کی تعمیرِ نو شامل ہے۔ بلغاریہ کے سابق سیاستداں اور اقوامِ متحدہ کے مشرقِ وسطیٰ کے سابق نمائندے نِکولے ملادینوف کو غزہ ایگزیکٹو بورڈ کا نمائندہ مقرر کیا گیا ہے، جو روزمرہ امور کی نگرانی کریں گے۔ دیگر اراکین میں : وٹکوف، کشنر، بلیئر، روون، ترک وزیرِ خارجہ حاکان فدان، قطری سفارت کار علی الثوادی، مصر کی جنرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر حسن رشاد، اماراتی وزیر ریم الہاشمی، اسرائیلی تاجر یاکیر گبے، اور نیدرلینڈز کی سابق نائب وزیرِ اعظم اور مشرقِ وسطیٰ کی ماہر سگرید کاگ شامل ہیں۔ یہ بورڈ فلسطینی ٹیکنوکریٹس کی ایک نئی مقرر کردہ کمیٹی کی بھی نگرانی کرے گا، جو غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائے گی۔