مانسروور یاترا پر گئے کلیان کے ابھیشیک کا رابطہ منقطع، رکشا بندھن پر بہن آبدیدہ، تلاش کرنے کی اپیل۔
EPAPER
Updated: August 29, 2026, 2:57 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan
مانسروور یاترا پر گئے کلیان کے ابھیشیک کا رابطہ منقطع، رکشا بندھن پر بہن آبدیدہ، تلاش کرنے کی اپیل۔
مانسروور یاترا پر گئے کلیان اور ڈومبیولی کے ۴؍ زائرین سے رابطہ ٹوٹ جانے کی وجہ سے ان کے گھر والے شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ رکشا بندھن کے موقع پر جہاں پورا ملک بھائی بہن کے رشتے کی خوشیاں منا رہا ہےوہیں کلیان (مغرب) کے ایک خاندان کی آنکھیں آنسوؤں سے نم ہیں۔ مانسروور یاترا پر گئے ۲۸ ؍سالہ ابھیشیک گھونے سے اچانک رابطہ منقطع ہونے سے پورے گھر میں فکر کا ماحول ہے۔ جمعہ کو رکشا بندھن کے دن بہن ہاتھ میں راکھی تھامے بھائی کی راہ دیکھ رہی ہے لیکن بھائی کے گھر پر نہ ہونے سے خاندان بے چین ہے۔
یہ بھی پڑھئے:نیپال کے سیلاب کے درمیان ناگپور کے ۱۰۶؍ باشندے محفوظ
ابھیشیک گھونے سمراٹ ٹورز اینڈ ٹراویلز (کاٹھمنڈو) کے ذریعے مانسروور یاترا پرگیا تھا۔ منگل کی رات ابھیشیک کی اپنی ماں سے آخری بار فون پر بات ہوئی تھی۔اس نے ماں سے مختصراً کہا تھا کہ آگے کے سفر کے لئے نکلنا ہے۔ لیکن اس بات چیت کے بعد سے اس کا فون بند ہے اور ٹراویل ایجنسی کی طرف سے بھی کوئی واضح معلومات نہیں مل رہی ہے جس کے باعث اہل خانہ بے حد پریشان ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:امراوتی : قبائلی طلبہ کا وزیر برائے قبائلی ترقی کی رہائش گاہ کی طرف مارچ
جمعہ کو رکشا بندھن کا تہوار تھا۔بہن نے بھائی کی کلائی پر باندھنے کیلئے راکھی سجا کر رکھی تھی مگر گھر میں بھائی موجود نہیں تھا۔ ابھی دروازہ کھلے گا اور میرا بھائی مسکراتے ہوئے اندر آئے گا۔ بہن سدھی گھونے آنکھوں میں آنسو لئے اسی آس پر دروازے کی طرف ٹکٹکی باندھے بیٹھی رہی۔ تہوار کے دن بھائی کا کوئی سراغ نہ ملنے کی وجہ سے گھر میں اداسی اور خوف کا ماحول ہے۔
ابھیشیک سے رابطہ منقطع ہونے کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں غم کا ماحول ہے۔ ابھیشیک کے اہل خانہ نے اپیل کی ہے کہ سمراٹ ٹورز اینڈ ٹراویل کے ساتھ ساتھ مقامی انتظامیہ اور سفارت خانہ فوری طور پر تلاش شروع کرے اور ابھیشیک کو بحفاظت گھر پہنچائے۔
اے آئی کی مدد!
ابھیشیک کے والد سریش گھونے نے بتایا کہ ابھیشیک کے ایک دوست نے اے آئی کی مدد سے اس کا پتہ لگانے کی کوشش کی تو اے آئی نے اس کا ویزا نمبر دکھاتے ہوئے اسے محفوظ بتایا ہے۔ لیکن سریش گھونے کا کہنا ہے کہ یہ اچھی بات ہے کہ اے آئی کہہ رہا ہے کہ بیٹا محفوظ ہے مگر اصل سوال یہ ہے کہ سرکاری ادارے اب تک اس کا پتہ کیوں نہیں لگا پا رہے ہیں؟