Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیرالا:عید خطبہ میں نفرت کیخلاف آواز کو سراہا گیا، محمد دیپک کی مثال پیش کی گئی

Updated: March 20, 2026, 4:02 PM IST | Thiruvananthapuram

کیرالا کی ایک مسجد میں امام نے عید خطبہ کے دوران’’محمد دیپک‘‘ کو موجودہ ہندوستان کیلئے مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد ہی سماج میں ہم آہنگی قائم کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ تمل ناڈو اور کیرالا میں آج عید منائی جارہی ہے۔

Eid prayers in Kerala. Photo: INN
کیرالا میں نماز عید کا منظر۔ تصویر: آئی این این

کیرالا کے ضلع کوزی کوڈ کے واڈاکارا میں عید الفطر کی نماز کے بعد ایک اہم خطبہ دیتے ہوئے امام محمد رفیق کوٹاکل نے ’’محمد دیپک‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ ہندوستان کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو نفرت کے خلاف کھڑے ہوں۔ ’’محمد دیپک‘‘ دراصل اتراکھنڈ میں پیش آنے والے ایک واقعے میں سامنے آئے تھے، جہاں دیپک کمار نے ایک بزرگ مسلمان دکاندار کو ہراساں کیے جانے کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ امام نے کہا کہ یہ رویہ ہندوستان کی اصل روح کی نمائندگی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: توانائی کے بعد کھاد کا بحران، دنیا کے غذائی نظام کوشدید خطرہ

کیرالا اور تمل ناڈو میں آج عید
ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیرالا اور تمل ناڈو اکثر سعودی عرب کے ساتھ ایک ہی دن عید کیوں مناتے ہیں، جبکہ ہندوستان کے دیگر حصوں میں عید ایک دن بعد ہوتی ہے؟اس کی ایک بڑی وجہ چاند دیکھنے کے طریقہ کار اور جغرافیائی فرق ہے۔ چونکہ سعودی عرب ہندوستان کے مغرب میں واقع ہے، وہاں سورج دیر سے غروب ہوتا ہے، جس سے چاند کے نظر آنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس سالسعودی عرب نے ۲۰؍ مارچ کو عید الفطر منائی۔ جنوبی ہندوستان کی کئی ریاستوں نے اسی اعلان کی پیروی کی، جبکہ ہندوستان کے دیگر حصوں میں ۱۹؍ مارچ کو چاند نظر نہ آنے کے باعث عید ۲۱؍ مارچ کو منائی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: ’’جنگ متاثرہ علاقوں سے شہریوں کے انخلا کیلئے ہندوستانی سفارتی مشن کمر بستہ ہے‘‘

ہندوستان میں چاند دیکھنے کا نظام مقامی سطح پر کام کرتا ہے، جہاں مختلف ریاستوں کی رویت ہلال کمیٹیاں اپنے اپنے علاقوں میں چاند کی رویت کے مطابق فیصلہ کرتی ہیں۔ اس ضمن میں رویت ہلال کمیٹی اور دیگر علاقائی ادارے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کیرالا اور تمل ناڈو میں خلیجی ممالک کے ساتھ گہرے سماجی و مذہبی روابط بھی اس روایت کو مضبوط بناتے ہیں، جس کی وجہ سے وہاں اکثر سعودی عرب کے اعلان کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ساتھ ہی ساحلی علاقوں میں افق صاف ہونے کے باعث چاند دیکھنے کے امکانات بھی بہتر ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایل پی جی بحران مزید گہرا، کہیں فیکٹریز بند، کہیں لکڑیو ں پر کھانا پکانا مجبوری

دوسری جانب دکن مسلم علماء کونسل کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا کہ چونکہ ۱۹؍ مارچ کو چاند نظر نہیں آیا، اس لیے باقی ہندوستان میں عید ۲۱؍ مارچ کو منائی جائے گی۔ یہ صورتحال نہ صرف فلکیاتی اختلافات کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ مذہبی روایات، جغرافیہ اور علاقائی روابط کس طرح ایک ہی ملک میں عید کی تاریخوں میں فرق پیدا کرتے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر یہ تہوار اتحاد، برداشت اور ہم آہنگی کا پیغام دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK